Book Name:Islami Behno Ki Namaz

تو حسبِ ضرورت کشادہ بیٹھا جا سکتا ہے۔ایک سُنّت نرم زمین پر رفَعِ حاجت کرنا بھی ہے۔ جیسا کہ حدیثِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں   ہے:  جب تم میں   سے کوئی پیشاب کرنا چاہے تو پیشاب کیلئے نرم جگہ ڈھونڈے۔ (اَ لْجَامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِیّ ص۳۷حدیث۵۰۷)  اِس کے فوائد کو تسلیم کرتے ہوئے لیول پاول  (louval poul) کہتا ہے :   ’’  انسان کی بقا مٹّی اور فنا بھی مِٹّی ہے جب سے لوگوں   نے نرم مِٹّی کی زمین پر قضائے حاجت کرنے کے بجائے سخت زمین  (یعنی W.C.، کموڈ وغیرہ) کا استِعمال شروع کیا ہے اُس وَقت سے مَردوں   میں   جِنسی (مردانہ)  کمزوری اور پتھری کے امراض میں   اضافہ ہوگیا ہے! سخت زمین پر حاجت کرنے کے اثرات مثانے کے  غُدود  (PROSTATE GLANDS)  پر بھی پڑتے ہیں   ، پیشاب یافُضلہ جب نرم زمین پر گرتا ہے تو اس کے جراثیم اور تیزابِیّت فوراً جَذب ہو جاتے ہیں   جبکہ سخت زمین چُونکہ جذب نہیں   کر پاتی اس لئے تیزابی اور جراثیمی اثرات براہِ راست جسم پر حملہ آور ہوتے اور طرح طرح کے امراض کا باعِث بنتے ہیں  ۔

آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دُور تشریف لے جاتے

            مدینے کے سلطان ، رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شانِ عظمت نشان پر قربان کہ جب قضائے حاجت کو تشریف لے جاتے تو اتنی دُور جاتے کہ کوئی نہ دیکھے۔ (سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد،ج۱ ص ۳۵حدیث۲) یعنی یا تو درخت یا دیوار کے پیچھے بیٹھتے اور اگر چَٹیَل میدان ہوتا تو اتنی دُور تشریف لے جاتے جہاں   کسی کی نگاہ نہ پڑ سکتی۔ (مراٰۃ ج۱ ص ۲۶۲)  یقینا سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہر فِعل میں   دین ودنیا کی بے شُمار بھلائیاں   پِنہاں   ہوتی ہیں  ۔ پَیشاب کرنے کے بعد اگرہرفرد ایک لوٹا پانی بہادیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بدبو اور جَراثیم کی اَفزائش میں   کمی ہوگی ،بَڑا پیشاب کرنے کے بعد بھی جہاں   ایک آدھ لوٹا پانی کافی ہو وہاں   فلش ٹینک سے پانی نہ بہا یا جائے کیوں   کہ وہ کئی لوٹے پر مشتمل ہوتا ہے ۔

قضائے حاجت سے قَبل چلنے کے فوائد

            آج کل بِالخصوص شہروں   میں   بند کمرہ کے اندر ہی بیتُ الخلا ء ہوتے ہیں   ، جو کہ جراثیم کی نَشو ونُما اور ان کے ذَرِیعے پھیلنے والے اَمراض کے ذَرائِع ہیں  ۔ ایک بائیو کیمسڑی کے ماہر کاکہنا ہے:  جب سے شہروں   میں   وُسعت ، آباد یوں   کی کثرت اور کھیتوں   کی قِلّت ہونے لگی ہے تب سے اَمراض کی خوب زِیادت ہونے لگی ہے۔ قضائے حاجت کیلئے جب سے دُور چل کر جانا ترک کیا ہے قبض ، گیس ، تبخیر اور جگر  کی بیماریاں  بڑھ گئی ہیں   ۔ چلنے سے آنتوں   کی حرکتوں   میں   تیزی آتی ہے ۔ جس کے سبب حاجت تسلّی بخش ہوجاتی ہے، آج کل بِغیر چلے ( گھر ہی گھر میں  )  بیتُ الخلا میں   داخِل ہو جانے کی وجہ سے بسا اوقات فراغت بھی تاخیر سے ہوتی ہے!

بیت الخلاجانے کی47 نیّتیں   

 فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :   ’’ مسلمان کی نیّت اسکے عمل سے بہتر ہے  ‘‘   ( اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیر لِلطَّبَرَانِیّ  ج۶ص۱۸۵ حدیث ۵۹۴۲)

           {1} سر ڈھانپ کر  {2} جانے میں   الٹے پاؤں  سے اور {3} باہر نکلنے میں   سیدھے پاؤں   سے پہل کر کے اتّباعِ سنّت کروں   گی {5-4} دونوں   باریعنی داخلے سے قبل اور نکلنے کے بعد مسنون دعائیں   پڑھوں   گی {6} صرف اندھیرے کی صورت میں  یہ نیّت کیجئے:  طہارت پر مدد حاصِل کرنے کیلئے بتّی جلاؤں   گی {7}  فراغت کے فوراً بعد اسراف سے بچنے کی نیّت سے بتّی بُجھادوں  گی  {8}  حدیثِ پاک  ’’  اَلطُّہُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَان  ( صَحِیح مُسلِم ص ۱۴۰حدیث۲۲۳)  ترجَمہ :  ’’ پاکی نصف ا یمان ہے  ‘‘ ،پر عمل کرتے ہوئے پاؤں   کو گندگی سے بچانے کیلئے چپّل پہنوں   گی  {9}  پہنتے ہوئے سیدھے   قدم سے اور  {10}  اُتارتے ہوئے اُلٹے سے پہل کرکے اِتِّباعِ سنّت کروں  گی  {12-11} سِتْرکُھلا ہونے کی صورت میں   اِستِقبالِ قبلہ  (یعنی قبلہ کی طرف منہ کرنے )  اور اِستِدبارِ قبلہ  ( یعنی قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے ) سے بچوں   گی {13۔14} زمین سے قریب ہوکر فَقَط حسبِ ضَرورت سِترکھولوں   گی۔ اِسی طرح فراغت کے بعد {15}  اُٹھنے سے قبل ہی سِتر چُھپالوں   گی {16} جو کچھ خارِج ہوگااُس کی طرف نہیں   دیکھوں   گی  {17}  پیشاب کیچِھینٹوں  سے بچوں   گی {18} حیاء سے سر جھُکائے رہوں   گی  {19}  ضَرورتاً آنکھیں   بند کرلوں   گی اور {21-20} بِلاضَرورت شرمگاہ کو دیکھنے اور چُھونے سے بچوں   گی  {22تا26} اُلٹے ہاتھ سے ڈَھیلاپکڑ کر اُلٹے ہی ہاتھ سے خشک کرکے اُلٹے ہاتھ کی طرف اُلٹا (یعنی نَجاست والا حصّہ زمین کی طرف ) رکھوں   گی پاک سیدھی طرف رکھوں   گی مُستَحَب تعداد میں   مَثَلاً تین ،پانچ ،سات ڈَھیلے استِعمال کروں   گی  {27}  پانی سے طہارت کرتے وَقت بھی صِرف اُلٹا ہاتھ شرمگاہ کو لگاؤں  گی  {28}  شرعی مسائل پر غور نہیں   کروں   گی  (کہ باعثِ مَحرومی ہے )   {29} سِتْرکھلا ہونے کی صورت میں   بات چیت نہیں   کروں   گی اور  {31-30} پیشاب وغیرہ میں   نہ تھوکوں   گی نہ ہی اس میں   ناک سِنکوں   گی {33-32} اگر فوراً حمام ہی میں   وُضو کرنا نہ ہوا تو طہارت والی حدیث پر عمل کرتے ہوئے دونوں   ہاتھ دھوؤں   گی نیز {34} جو کچھ نکلا اُس کو بہادوں   گی  (پیشاب کرنے کے بعد اگرہرفرد ایک لوٹا پانی بہادیا کرے تواِنْ شَاءَ اللّٰہ عزوجل بدبو اور جراثیم کی افزائش میں   کمی ہوگی ، بڑا استِنجا کرنے کے بعد بھی جہاں   ایک آدھ لوٹا پانی کافی ہو وہاں   فلش ٹینک سے پانی نہ بہا یا جائے کیوں   کہ وہ کئی لوٹے پر مشتمل ہوتا ہے )   {35}  پانی سے اِستِنجاکرنے کے بعد پاؤں   کے ٹَخنوں   والے حصّے اِحتیاط کے ساتھ دھولوں   گی (کیوں   



Total Pages: 92

Go To