Book Name:Islami Behno Ki Namaz

کی خدمت میں   گائے کا گوشت حاضِر کیا گیا ،کسی نے عَرض کی:  یہ گوشت حضرتِ سَیِّدَتُنا بَرِیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاپر صَدَقہ ہوا تھا۔فرمایا : ھُوَ لَھَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ھَدِیَّۃٌ۔یعنی یہ بَرِیرہ کے لیے صَدَقہ تھا ہمارے لیے ہدِیّہ ہے۔         (صَحِیح مُسلِم  ص  ۵۴۱حدیث۱۰۷۵ )  

زکوٰۃ کا شَرعی حِیلہ

            اس حدیثِ پاک سے صاف ظاہِر ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا بَرِیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاجو کہ صَدَقے کی حقدارتھیں   ان کو بطورِ صَدَقہ مِلا ہوا گائے کا گوشت اگر چِہ ان کے حق میں   صَدَقہ ہی تھا مگر ان کے قَبضہ کر لینے کے بعد جب بارگاہِ رسالت میں   پیش کیا گیا تھا تو اُس کا حکم بدل گیا تھا اور اب وہ صَدَقہ نہ رہا تھا ۔ یوں   ہی کوئی مستحق شَخص زکوٰۃ اپنے قَبضے میں   لینے کے بعد کسی بھی آدمی کو تحفۃً دے سکتا یا مسجِد وغیرہ کیلئے پیش کر سکتا ہے کہ مذکورہ مستحق شخص کا پیش کرنا اب زکوٰۃ نہ رہا ، ھَدِیَّہ یا عَطِیَّہ ہو گیا۔ فُقَہائے کرام  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلام  زکوٰۃ کا شرعی حِیلہ کرنے کا طریقہ یوں   ارشاد فرماتے ہیں  : زکوٰۃ کی رقم مرُدے کی تَجہیز وتکفین یا مسجِدکی تعمیر میں   صَرف نہیں   کر سکتے کہ تَملیکِ فقیر  ( یعنی فقیر کو مالِک کرنا) نہ پائی گئی ۔ اگر ان اُمور میں  خرچ کرنا چاہیں  تو اِس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو  ( زکوٰۃ کی رقم کا )  مالِک کردیں   اور وہ  ( تعمیرِ مسجِد وغیرہ میں   ) صَرف کرے، اس طرح ثو اب دونوں   کو ہو گا ۔  (بہارِ شریعت حصہ۵ص۲۵)

100 افراد کو برابر برابر ثواب ملے

         اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے!کفن دَفن بلکہ تعمیرِ مسجدمیں   بھی حیلۂ شَرعی کے ذَرِیعہ زکوٰۃ ا ستِعمال کی جاسکتی ہے ۔ کیونکہ زکوٰۃ تو فقیر کے حق میں   تھی جب فقیر نے قَبضہ کر لیا تو اب وہ مالِک ہوچکا، جو چاہے کرے۔ حیلۂ شَرعی کی بَرَکت سے دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا ہو گئی اور فقیر بھی مسجِد میں   دیکر ثواب کا حقدار ہو گیا ۔حِیلہ کرتے وقت ممکِن ہو تو زیادہ افراد کے ہاتھ میں   رقم پِھرانی چاہئے تا کہ سب کو ثواب ملے مَثَلاً حِیلے کیلئے فقیرشَرعی کو12 لاکھ روپے زکوٰۃ دی، قَبضہ کے بعد وہ کسی بھی اسلامی بھائی کو تُحفۃً دیدے یہ بھی قبضے میں   لیکر کسی اور کو مالِک بنا دے، یوں   سبھی بہ نیّتِ ثواب ایک دوسرے کو مالک بناتے رہیں  ، آخِر والا مسجِد یا جس کام کیلئے حِیلہ کیا تھا اُس کیلئے دیدے تو اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  سبھی کو بارہ بارہ لاکھ روپے  صَدَقہ کرنے کا ثواب ملیگا ۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابوہُریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ‘ تاجدار ِرسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، پیکرِ جُودو سخاوت، سراپا رَحمت، محبوبِ ربُّ العزّت  عَزَّوَجَلَّ  و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  اگر سو ہاتھوں   میں   صَدَقہ گزرا تو سب کو وَیسا ہی ثواب ملے گا جیسا دینے والے کیلئے ہے اور اس کے اَجر میں   کچھ کمی نہ ہو گی ۔  ( تاریخ بغدادج۷ص۱۳۵رقم۳۵۶۸)

فقیر کی تعریف

             فقیر وہ ہے کہ (الف)  جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو مگر اتنا نہ ہوکہ نِصاب کو پَہنچ جائے  (ب) یا نصاب کی قَدَر توہو مگر اس کی حاجتِ اَصلیہ  (یعنی ضَروریاتِ زندگی )  میں  مُسْتَغْرَقْ  (گِھراہوا )  ہو ۔مَثَلاً رہنے کا مکان ‘ خانہ داری کا سامان ‘ سُواری کے جانور ( یا سائیکل ،اسکوٹر یا کار وغیرہ)  کاریگروں   کے اَوزار ،پہننے کے کپڑے ‘ خِدمت کیلئے لونڈی ‘ غلام ‘ عِلمی شُغل رکھنے والے کے لیے اسلامی کتابیں   جو اس کی ضَرورت سے زائد نہ ہوں    (ج)  اِسی طرح اگر مَدیُون  ( مقروض )  ہے اور دَین  ( قرضہ )  نکالنے کے بعدنِصاب باقی نہ رہے تو فقیر ہے اگر چہِ اس کے پاس ایک تو کیا کئی نِصابیں   ہوں   ۔  (رَدُّالْمُحتَار ج۳ص۳۳۳وغیرہ)  

 مِسکین کی تعریف

             مِسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں   تک کہ کھانے اور بدن چُھپانے کیلئے اس کامُحتاج ہے کہ لوگوں   سے سُوال کرے اور اسے سُوال حلال ہے۔ فقیر کو  ( یعنی جس کے پاس کم از کم ایک دن کا کھانے کیلئے اور پہننے کیلئے موجود ہے)  بِغیر ضَرورت و مجبوری سُوال حرام ہے ۔    (عالمگیری ج۱ص۱۸۷۔۱۸۸)                      

             اسلامی بہنو! معلوم ہوا جو بِھکاری کمانے پر قادر ہونے کے با وُجُودبِلا ضَرورت و مجبوری بطورِ پیشہ بھیک مانگتے ہیں  گُنہگارہیں   اور ایسوں   کے حال سے باخبر ہونے کے باوُجُود ان کودینا جائز نہیں  ۔

طرح طرح کے فِدیے اور کفّارے

اسلامی بہنو! یاد رہے ! نَماز و روزہ کے عِلاوہ میِّت کی طرف سے بَہُت سارے فدیے اور کفّارے ہو سکتے ہیں   مَثَلاً {1} زکوٰۃ  {2} فطرے  (مرد پرچھوٹے بچّوں   وغیرہ کے فطرے بھی جبکہ ادا نہ کئے ہوں  )  {3}  قربانیاں   {4}  قَسموں   کے کفّارے  {5}  سجدۂ تلاوت جتنے واجِب ہونے کے باوُجُودزندگی میں   ادا نہیں   کئے  {6}  جتنے نوافِل فاسِد ہوئے اور ان کی قضا نہ کی  {7} جو جو مَنَّتیں   مانیں   اور ادا نہ کیں   {8}  زمین کا عُشر یا خِراج جو ادا کرنے سے رہ گیا  {9}  فرض ہونے کے باوُجود حج ادا نہ کیا {10} حج وعمرے کے اِحرام کے کفّارے مَثَلاً دم،یا صَدَقے اگر واجِب ہوئے تھے اور ادا نہ کئے ہوں  ۔ ان کے علاوہ بھی بے شُمار فدِیے اور کَفّارے ہو سکتے ہیں  ۔

اِن فِدیوں   کی ادائیگی کی صورَتیں 

 



Total Pages: 92

Go To