Book Name:Islami Behno Ki Namaz

شاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  فوراً رُک جائے گی  {14}  سَجدہ زمین پر بلا حائل ہونا۔  (بہارِ شریعت ،حصّہ ۳ ص ۱۰۶)  

سیِّدُنا عمر بن عبدُ الْعَزیز کا عمل

            حُجَّۃُ الاسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نقل فرماتے ہیں  :  ’’  حضرتِ سیِّدُنا عُمر بن عبدُالعزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہمیشہ زمین ہی پرسَجدہ کرتے یعنی سَجدے کی جگہ مُصَلّیٰ وغیرہ نہ بچھاتے۔ ‘‘    (اِحیاءالعُلُوم ،ج۱،ص۲۰۴)

گرد آلود پیشانی کی فضیلت

            حضرتِ سیِّدُنا واثِلہ بن اَ سْقَع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حُضُور سراپا نور ،شاہِ غَیورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ پُر سُرور ہے:  ’’  تم میں   سے کوئی شخص جب تک نَماز سے فارِغ نہ ہوجائے اپنی پیشانی  (کی مٹّی) کو صاف نہ کرے کیونکہ جب تک اُسکی پیشانی پرنَماز کے سَجدے کا نشان رہتاہے فِرِشتے اُس کے لیے دُعائے مغفِرت کرتے رہتے ہیں  ۔ ‘‘   (  مَجْمَعُ الزَّوَائِد، ج۲ص۳۱۱حدیث ۲۷۶۱)

             اسلامی بہنو ! دَورانِ نَماز پیشانی سے مِٹّی چُھڑانا بہتر نہیں   اور مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  تَکَبُّر کے طور پر چُھڑانا گناہ ہے۔اور اگر نہ چھڑانے سے تکلیف ہوتی ہو یا خیال بٹتا ہو تو چھڑانے میں   حرج نہیں  ۔ اگر کسی کو رِیا کاری کا خوف ہو تو اسے چاہئے کہ نَماز کے بعد پیشانی سے مٹّی صاف کر لے ۔

’’ سیِّدُنا اسمعٰیل کی امّی کا نام ہاجَرہ تھا ‘‘  کے  اُنتیس حُروف کی نسبت سے نَما ز توڑنے والی 29 با تیں    

          {1} بات کرنا  (دُرِّمُختار،ج۲ص۴۴۵)  {2}  کسی کو سلام کرنا   {3}  سلام کا جواب دینا (عالمگیری،ج۱ص۹۸)  {4}  چھینک کا جواب دینا  (نَماز میں   خود کو چھینک آئے تو خاموش رہے ) اگر خود کو چھینک آئی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہہ لیا تب بھی حَرَج نہیں   اور اگر اُس وقت حَمد نہ کی تو فارِغ ہو کر کہے۔  ( اَیضاً)   {5}  خوشخبری سن کر جواباً  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا  (اَیضاً ص۹۹)   {6} بری خبر  (یا کسی کی موت کی خبر )  سن کر اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ (۱۵۶) کہنا  (اَیضاً)   {7} اذان کاجواب دینا   ( اَیضاً ص۱۰۰)  {8}  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا نام سن کر جواباً  ’’ جَلَّ جَلَالُہٗ ‘‘ کہنا  {9}  سر کارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اسمِ گرامی سن کر جواباً دُرُود شریف پڑھنا مَثَلاً صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہنا  (دُرِّمُختار،ج ۲ص۴۶۰)   ( اگر جل جلالہ یا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جواب کی نیّت سے نہ کہا تونَماز نہ ٹوٹی)  

نَماز میں   رونا

 {10}  دَرد یامُصیبت کی وجہ سے یہ الفاظ آہ ، اُوہ ، اُف ، تُف نکل گئے یا آواز سے رونے میں   حرف پیدا ہو گئے نماز فاسِد ہو گئی۔ اگر رونے میں   صرف آنسو نکلے آوازو حروف نہیں   نکلے تو حَرَج نہیں   ۔  ( عالمگیری ج۱ص۱۰۱، رَدُّالْمُحتارج ۲ص۴۵۵)

نَماز میں   کھانسنا

 {11}   مریضہ کی زَبان سے بے اختیار آہ! اُوہ! نکلا نَماز نہ ٹوٹی یوں   ہی چھینک ،  جماہی،کھانسی ،ڈَکار وغیرہ میں   جتنے حُرُوف مجبوراً نکلتے ہیں  مُعاف ہیں   ۔  (دُرِّمُختار، ج۱ ص ۴۵۶)   {12}  پھونکنے میں   اگر آواز نہ پیدا ہو تو وہ سانس کی مثل ہے اورنَماز فاسِد نہیں   ہوتی مگر قَصداً پُھونکنا مکروہ ہے اور اگر دوحَرف پیدا ہوں   جیسے اُف،تُف تو نَماز فاسِد ہوگئی۔  (غُنْیہ، ص ۴۵۱)  {13} کھنکارنے میں   جب دو حُروف ظاہِر ہوں   جیسے اَخ تو مُفسِدہے۔ ہاں   اگرعُذْر یا صحیح مقصد ہو مَثَلاً طبیعت کا تقاضا ہو یا آواز صاف کرنے کیلئے ہو یاکوئی آگے سے گزر رہا ہو اس کو مُتوجِّہ کرنا ہو اِن وُجُوہات کی بنا پر کھانسنے میں   کوئی مُضایَقہ نہیں   ۔  (بہارِ شریعت ،حصّہ ۳ ص ۱۷۶،دُرِّمُختار، ج۲ص۴۵۵)

دَورانِ نَماز دیکھ کر پڑھنا

             {14}  مُصحَف (مُص۔حَف) شریف سے، یا کسی کاغذ وغیرہ میں   لکھا ہوا دیکھ کر قرآن شریف پڑھنا  (ہاں   اگر یاد پر پڑھ رہی ہیں   اورمُصحَف شریف وغیرہ پر صرف نظر ہے تو حَرَج نہیں   ، اگر کسی کاغذ وغیرہ پر آیات لکھی ہیں   اسے دیکھا اور سمجھا مگر پڑھا نہیں   اس میں   بھی کوئی مُضایَقہ نہیں   )   (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار،ج۲ص۴۶۳)  {15} اسلامی کتاب یا اسلامی مضمون دَورانِ نَماز جان بوجھ کر دیکھنا اور اِرادتاً سمجھنا مکروہ ہے  (بہارِ شریعت ،حصّہ ۳ ص ۱۷۷)  دُنیوی مضمون ہو تو زِیادہ کراہِیت ہے ، لہٰذا نَماز میں   اپنے قریب کتابیں   یا تحریر والے پیکٹ اور شاپنگ بیگ،موبائل فون یاگھڑی وغیرہ اس طرح رکھئے کہ ان کی لکھائی پر نظر نہ پڑے یا ان پر رومال وغیرہ اُڑھا دیجئے ، نیز دورانِ نَمازدیوار وغیرہ پر لگے  ہوئے اسٹیکرز ، اِشتہار اور فریموں   وغیرہ پر نظر ڈالنے سے بھی بچئے ۔

عَمَلِ کثیر کی تعریف

             {16}  عملِ کثیر نَماز کو فاسِد کر دیتا ہے جبکہ نہ نَماز کے اعمال



Total Pages: 92

Go To