Book Name:Islami Behno Ki Namaz

نَماز کو ضائِع کرتا ہے اُس کا اسلام میں   کوئی حِصّہ نہیں  ۔ ‘‘  اور حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے شدید زَخمی ہونے کے باوُجُودنَماز ادا فرمائی۔  ( اَیضاًص۲۲)

ہزاروں   سال عذابِ نار کا حقدار

            میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعلَیْہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 9صَفْحَہ158 تا159پر فرماتے ہیں  : ایمان و تصحیحِ عقائد کے بعد جملہ حُقُوقُ اللّٰہ میں   سب سے اہم و اعظم نَماز ہے۔جُمعہ و عیدین یا بلاپابندی پنجگانہ پڑھنا ہرگزنَجات کا ذمّہ دار نہیں  ۔ جس نے قصداً ایک وَقت کی چھوڑی ہزاروں   برس جہنَّم میں   رہنے کا مستحق ہوا، جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قَضا نہ کر لے، مسلمان اگر اُس کی زندگی میں   اُسے یک لخت (یعنی بِالکل)  چھوڑ دیں   اُس سے بات نہ کریں   ، اُس کے پاس نہ بیٹھیں   ، تو ضَرور وہ اس کا سزاوار ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :

وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (۶۸)   (پ۷ الانعام ۶۸)

ترجَمۂ کنزالایمان: اورجو کہیں   تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں   کے پاس نہ بیٹھ۔

نَماز پر نُور یا تاریکی کے اَسباب

          حضرتِ سیِّدُنا عُبادہ بن صامِت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیِّ رَحمت ، شَفیعِ اُمّت،شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عالیشان ہے ،  ’’  جوشَخص اچّھی طرح وُضو کرے، پھر نَماز کے لیے کھڑا ہو،اِس کے رُکوع ،سُجُود اورقِراء َت  (قِرا۔ءَ۔ت)  کو مکمَّل کرے تو نَماز کہتی ہے:  اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے جس طرح تُو نے میری حِفاظت کی ۔ پھر اس نَماز کو آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اس کے لیے چمک اور نور ہوتا ہے ۔ پس اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں   حتّٰی کہ اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں   پیش کیا جاتا ہے اور وہ نَماز اُس نَمازی کی شَفاعت کرتی ہے۔ اور اگر وہ اس کا رُکوع ، سُجُود اورقراءت مکمَّل نہ کرے تو نَماز کہتی ہے، اللہ تعالیٰ تجھے ضائِع کردے جس طرح تُو نے مجھے ضائِع کیا۔ پھر اس نَماز کواس طرح آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے کہ اس پر تاریکی (اندھیرا)  چھائی ہوتی ہے اور اس پر آسمان کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں   پھر اس کو پُرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کر اس نمازی کے منہ پر مارا جاتا ہے۔  ( کَنْزُ الْعُمَّال،ج۷ص۱۲۹، رقم ۱۹۰۴۹)

بُرے خاتِمے کا ایک سبب

            حضرتِ سیِّدُناامام بخاری  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری فرماتے ہیں  :  حضرتِ سیِّدُنا حُذَیفہ بِن یَمان رضی اللہ تعالیٰ عنہنے ایک شخص کو دیکھا جو نَماز پڑھتے ہوئے رُکوع اور سُجُود پورے ادا نہیں   کرتا تھا۔ تو اُس سے فرمایا:  ’’  تم نے جو نَماز پڑھی اگر اسی نَماز کی حالت میں   انتِقال کر جاؤ تو حضرتِ سیِّدُنا محمد مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے طریقہ پر تمہاری موت واقِع نہیں   ہوگی ‘‘ ۔ (صَحِیحُ البُخارِیّ ج ۱ ص۲۸۴حدیث۸۰۸)  سنَنِ نَسائی کی روایت میں   یہ بھی ہے کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا :  ’’  تم کب سے اِس طرح نَماز پڑھ رہے ہو؟ اُس نے کہا:  چالیس سال سے۔ فرمایا: تم نے چالیس سال سے بالکل نَماز ہی نہیں   پڑھی اور اگر اسی حالت میں   تمہیں   موت آگئی تو دینِ محمّد ی علٰی صَاحِبِہا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  پر نہیں   مروگے۔  (سُنَنُ النَّسَائیص۲۲۵حدیث۱۳۰۹)

نَماز کا چور

            حضر تِ سیِّدُ نا ابوقَتا دہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ، قر ارِ قلب و سینہ ،فیض گنجینہ ،صا حِبِ مُعَطَّر پسینہ   صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وسلَّمکا فر ما نِ با قر ینہ ہے :   ’’ لو گو ں   میں   بد تر ین چو ر وہ ہے جو اپنی نَما ز میں   چوری کر ے  ‘‘ ،عر ض کی گئی ،  ’’ یا رسولَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ و  صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَالہٖ وَسلَّم ! نماز میں  چوری کیسے ہوتی ہے؟ ‘‘ فر مایا:   ’’  (اس طرح کہ)  رُکُوع اور سَجدے پورے نہ کرے۔ ‘‘   (مُسنَدِ امام احمد بن حَنبل، ج۸،ص۳۸۶،حدیث ۲۲۷۰۵)

چور کی دو قسمیں   

            مُفسّرِشہیر حکیمُ الامّتحضرتِ مفتی احمد یا ر خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان اس حدیث کے تَحت فر ما تے ہیں  : معلو م ہُو اما ل کے چورسے نَماز کا چور بدتر ہے کیو ں   کہ مال کا چور اگر سزا بھی پاتا ہے تو کچھ نہ کچھ نَفع بھی اُٹھا لیتا ہے مگر نَماز کا چورسزا پوری پائے گا اِس کے لئے نَفع کی کوئی صورت نہیں   ۔مال کاچور بند ے کا حق مارتا ہے جبکہ نَماز کا چور اللّٰہعَزَّوَجَلَّکا حق،یہ حالت ان کی ہے جونَماز کو ناقِص پڑھتے ہیں  اِس سے وہ لو گ درسِ عبر ت حاصِل کر یں   جو سِرے سے نَما ز پڑھتے ہی نہیں۔ (مِراٰۃ المناجیح ج ۲ص۷۸)

           اسلا می بہنو ! اوّل تو لو گ نَما ز پڑھتے ہی نہیں   ہیں   اور جو پڑھتے ہیں   ان کی اکثریَّت سنّتیں   سیکھنے کے جذبے کی کمی کے با عث آج کل صحیح طر یقے سے نَماز



Total Pages: 92

Go To