Book Name:Islami Behno Ki Namaz

کھولے جڑیں   ترنہ ہو ں   گی توکھولناضَروری ہے   {2} اگر کانوں   میں  بالی یا ناک میں   نَتھ کا چھَید  (سُورا خ )  ہواوروہ بندنہ ہوتو اس میں  پانی بہانا فرض ہے۔ وُضومیں  صِرف ناک کے نَتھ کے چھَیدمیں  اورغسل میں  اگرکان اورناک دونوں  میں   چھَیدہوں   تو دو نو ں   میں  پانی بہائیے {3}  بَھووں   اوران کے نیچے کی کھال کا دھوناضَروری ہے   {4}  کان کاہرپُرزہ اوراس کے سُوراخ کامنہ دھوئیے  {5} کانوں   کے پیچھے کے بال ہٹا کر پانی بہائیے   {6} ٹھو ڑی اورگلے کا جوڑکہ منہ اُٹھائے بغیرنہ دھلے گا  {7}    ہاتھوں   کواچّھی طرح اٹھاکر بغلیں   دھوئیے  {8}  بازو کا ہر پہلو دھو ئیے  {9} پِیٹھ کاہرذرّ ہ دھو ئیے   {10} پیٹ کی بلٹیں   اُٹھا کر دھوئیے  {11} ناف میں   بھی پانی ڈالئے اگرپانی بہنے میں   شک ہوتوناف میں   انگلی ڈال کردھوئیے  {12} جسم کاہر رُونگٹاجڑسے نو ک تک دھو ئیے   {13} ران اور پَیڑ و  (ناف سے نیچے کے حصّے)  کاجوڑ دھوئیے  {14} جب بیٹھ کرنہائیں   تو ران اور پنڈلی کے جوڑپربھی پانی بہانایاد رکھئے   {15} دونوں   سُرِین کے ملنے کی جگہ کاخیال رکھئے، خُصُوصاً جَب کھڑے ہو کر نَہائیں    {16} رانوں  کی گولا ئی اور  {17}  پِنڈلیوں  کی کروٹوں  پرپانی بہائیے   {18}  ڈھلکی ہوئی پِستان کواُٹھاکرپانی بہائیے  {19} پِستان اورپیٹ کے جوڑ کی لکیر دھوئیے  {20}  فرجِ خارِج (یعنی عورت کی شرم گاہ کے باہَرکے حصّے)  کا ہرگوشہ ہرٹکڑا  اُوپرنیچے خوب اِحتیاط سے دھوئیے  {21}  فَرجِ داخِل (یعنی شرمگاہ کے اندرونی حصّے )  میں   انگلی ڈال کر دھونافرض نہیں  مُستَحَب ہے   {22} اگرحَیـض یا نِفاس سے فارِغ ہو کر غُسل کریں   توکسی پُرانے کپڑے سے فَرجِ داخِل کے اندرسے خون کا اثر صاف کر لینا مُسْتَحَب ہے  (بہارِ شریعت حصّہ ۲ ص ۳۹۔۴۰)    {23} اگرنَیل پالِش ناخنوں   پرلگی ہوئی ہے تواس کابھی چھُڑانافرض ہے ورنہ وُضووغسل نہیں   ہو گا ، ہاں   مہندی کے رنگ میں   حرج نہیں   ۔

زَخْم کی پٹّی

             زَخمپرپٹّی وغیرہ بندھی ہواوراسے کھولنے میں  نقصان یاحَرَج ہوتوپٹّی پرہی مَسح کرلیناکافی ہے نیزکسی جگہ مرض یادردکی وجہ سے پانی بہانا نقصان دِہ ہو تو اس پورے عُضْوپرمَسح کرلیجئے۔پَٹّی ضَرورت سے زِیادہ جگہ کو گھیرے ہوئے نہیں   ہونی چاہئے ورنہ مَسح کافی نہ ہوگا۔اگر ضَرورت سے زِیادہ جگہ گھیرے بِغیرپٹّی باند ھنا ممکن نہ ہو مَثَلاًبازوپرزخم ہے مگرپٹّی بازوؤں   کی گولائی میں  باندھی ہے جس کے سبب بازوکااچھّاحصّہ بھی پٹّی کے اندر چھُپاہواہے ،تواگرکھولناممکِن ہوتو کھو ل کر اُس حصّے کو دھونافرض ہے۔اگر ناممکِن ہے یاکھولنا تو ممکِن ہے مگرپھر وَیسی نہ باند ھ سکے گی اوریوں  زَخْم وغیرہ کونقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے توساری پٹّی پرمَسح کرلیناکافی ہے ۔ بدن کاوہ اچھّاحصّہ بھی دھونے سے مُعاف ہوجائیگا ۔  (بہارِ شریعت حصّہ ۲ ص ۴۰)

غسل فرض ہونے کے 5 اسباب

       {1} منی کااپنی جگہ سے شَہوت کے ساتھ جُداہوکرمخرج سے نکلنا {2} اِحتِلام یعنی سوتے میں  منی کانکل جانا {3} حَشْفہ یعنی سرِ ذَکَر (سُپاری) کا عورت کے آگے یا پیچھے یا مرد کے پیچھے داخِل ہوجاناخواہ شہوت ہویانہ ہو،اِنزال ہویانہ ہو، دونو ں   پرغسل فرض کرتا ہے۔ بشرطیکہ دونوں   مُکلَّف ہوں   اور اگر ایک بالِغ ہے تو اُس بالِغ پر فرض ہے اور نابالِغ پر اگرچِہ غُسل فرض نہیں   مگر غُسل کا حکم دیا جائے گا {4} حَیض سے فارِغ ہونا {5} نِفاس (یعنی بچّہ جَننے پرجوخو ن آتاہے اس)  سے فارِغ ہونا۔  (بہارِ شریعت حصّہ ۲ ص ۴۳،۴۵،۴۶،مُلتَقَطاً)

وہ صورتیں   جن میں   غُسل فرض نہیں 

              {1} منی شَہوت کے ساتھ اپنی جگہ سے جُدانہ ہوئی بلکہ بوجھ اٹھانے یا بُلندی سے گرنے یافُضلہ خارِج کرنے کیلئے زورلگانے کی صورت میں   خارِج ہوئی توغسل فرض نہیں  ۔وُضوبَہَرحال ٹوٹ جائے گا {۲} اگرمنی پتلی پڑگئی اورپیشاب کے وقت یاویسے ہی بلاشہوت اس کے قطرینکل آئے غسل فرض نہ ہواوُضوٹوٹ جائیگا  {3} اگراِحتِلام ہونایادہے مگراس کاکوئی اثرکپڑے وغیرہ پرنہیں  توغسل فرض نہیں  ۔ (بہارِ شریعت ،حصہ ۲،ص ۴۳ )   

بہتے پانی میں  غُسل کاطریقہ

            اگربہتے پانی مَثَلاًدریا،یانَہَرمیں  نہایاتوتھوڑی دیراس میں  رُکنے سے تین باردھونے،ترتیب اوروُضویہ سب سنّتیں  اداہوگئیں  ۔اس کی بھی ضَرورت نہیں   کہ اَعضاء کوتین بار حَرَکت دے۔اگرتالاب وغیرہ ٹھہرے پانی میں  نہایاتواَعضاء کوتین بارحَرَکت دینے یاجگہ بدلنے سے تَثْلِیث (تَثْ۔لِیثْ) یعنی تین بار دھونے کی سنّت اداہوجائیگی۔برسات میں   (یانل یا فوارے کے نیچے )  کھڑا ہونا بہتے پانی میں   کھڑے ہونے کے حُکم میں  ہے۔بہتے پانی میں  وُضو کیا تو وُہی تھوڑی دیر اس میں  عُضْوکورَہنے دینااورٹھہرے پانی میں   حَرَکت دیناتین باردھونے کے قائم مقام ہے۔ (بہارِ شریعت ، حصہ ۲،ص ۴۲ ، دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار، ج۱ ، ص ۳۲۰۔۳۲۱)   وُضُو اورغسل کی ان تمام صورَتوں  میں   کُلّی کرنااورناک میں  پانی چڑھاناہوگا۔غسل میں   کلی کرنا اور ناک میں   پانی چڑھانا فرض ہے جب کہ وضو میں    سُنَّتِمُؤَکَّدہ ہے۔

فَوّارہ جاری پانی کے حُکم میں   ہے

            فتاویٰ اہلسنّت  ( غیر مطبوعہ ) میں   ہے ،فَوّارے  ( یا نَل )  کے نیچے غسل کرنا جاری پانی میں   غسل کرنے کے حکم میں   ہے لہٰذا اسکے نیچے غسل کرتے ہوئے وضو



Total Pages: 92

Go To