Book Name:Ibtidai Halaat Qist 2

پہلے اسے پڑھ لیجئے

          دعوتِ اسلامی  جیسی عظیم الشّان تحریک کے بانی ، شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مَدَنی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے ۔ آپ کی سعی پیہم سے لاکھوں مسلمانوں بالخُصوص نوجوانوں کو گناہوں سے توبہ کی توفیق ملی اوروہ نیکی کی راہ پر گامزن ہوگئے ۔ آپ دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے بیانات ،  تالیفات ،  ملفوظات اور مکتوبات کے ذریعے اپنے متعلقین و دیگر مسلمانوں کو اِصلاحِ اعمال کی تلقین فرماتے رہتے ہیں  ۔ آپ دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ وعشق رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، جذبۂ اِتباعِ قرآن وسنّت ، جذبہ احیاءسنّت،  زُہدوتقویٰ،  عفو ودرگزر،  صبروشکر،  عاجزی واِنکساری، سادگی ، اِخلاص،  حسنِ اخلاق، جود وسخا،  دنیاسے بے رغبتی،  حفاظتِ ایمان کی فکر ،  فروغِ علم دین ، خیر خواہیٔ مسلمین جیسی صفات میں یادگارِ اسلاف ہیں  ۔

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلاشبہ بُزُرگان دین علیہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ المُبِیْن کی کتابِ حیات کے ہر صفحہ میں ہمارے لئے رَہنمائی کے مَدَ نی پھول ہوتے ہیں  ۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے شام وسَحر اپنے رَبّ  عَزَّوَجَلَّ کی رِضا پانے کی کوشش میں گزرتے ہیں ۔ جنت کی نعمتیں ، عقبیٰ کی مسرتیں اور بالخُصوص خالقِ حقیقی  عَزَّوَجَلَّ کے دیدار کی لذتیں ان کے پیشِ نظر ہوتی ہیں  ۔ یہی وہ نُفوسِ قُدسیہ ہیں جن کے ذکر سے دِلوں کو فرحت،  رُو حوں کو مُسرت اور فکْر ونَظَر کو جَودَت(یعنی تیزی) ملتی ہے اور ذکر کرنے والے پر رَحمت نازل ہوتی ہے ۔  حضرت سُفیان بن عُیَینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرما تے ہیں : ’’عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنْزِلُ الرَّحْمَۃُ یعنی نیک لوگوں کے ذکر کے وقت رَحمت نازل ہوتی ہے ۔ ‘‘(حلیۃ الاولیاء ، رقم ۱۰۷۵۰، ج۷، ص۳۳۵، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

            اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ان ولیوں کے نقشِ قدم پر چل کر ہم بھی دُنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں پا سکتے ہیں  ۔ غالباً اسی مقدس جذبے کے تحت مؤلفین ومؤرخین نے ان بزرگوں کے  حالاتِ زندگی قلمبند کئے ہیں  ۔ چند ایک مثالوں کو چھوڑ کر دیکھا جائے توعموماًہم اپنے اَکابرین کی حیات وخدمات کو ان کی ظاہری زندگی میں محفوظ کرنے میں ناکام رہے ہیں ،  وہ جلیل القدر ہستیاں جن کے شام وسحر ہمارے سامنے گزرتے ہیں ، اُن کے بہت سے اَہم واقعات ہماری نگاہوں کے سامنے پیش آتے ہیں جن میں دوسروں کے لئے نصیحت وعبرت کے متعدد مَدَنی پھول ہوتے ہیں مگر ہم انہیں اپنی یادداشت کی حد تک محدود رکھتے ہیں دوسروں تک پہنچانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ۔ جب وہ جلیل القدر ہستیاں دُنیا سے رخصت ہوجاتی ہے تو ہم اُن کی حیات وخدمات کو الفاظ کے روپ میں زیبِ قرطاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مگر اس میں نقصان یہ ہوتا ہے کہ اُن کی سیرت کے بہت سے پہلو تشنہ کام رہ جاتے ہیں کیونکہ جانے والے اپنے ساتھ بہت کچھ لے جاتے ہیں  ۔ اعلیٰ حضرت مجدّدِ دین وملت الشّاہ اِمام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن نے اپنے دوسرے سفرِ حج کے واقعات بیان کرتے ہوئے اس طرف توجہ دلائی ہے ، چنانچہ آپ فرماتے ہیں :’’یہ تمام وقائع(یعنی واقعات) ایسے نہ تھے کہ ان کو میں اپنی زبان سے کہتا ،  ہمراہیوں کو توفیق ہوتی اور آتے اور جاتے اور ایامِ قیام ہر سرکار کے واقعات روزانہ تاریخ وار قلم بند کرتے تو اللہ ورسول ( عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کے بے شمار نعمتوں کی یادگار ہوتی ، ان سے رہ گیا اور مجھے بہت کچھ سہو ہوگیا جو یاد آیا بیان کیا، نیت کو اللہ  عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے  ۔ (ملفوظات، حصہ دُوُم )

          ان سب باتوں کے پیشِ نظرضَروری تھا کہ امیرِ اہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی حیاتِ ظاہری ہی میں ان کی زندگی کے گوشے کتابی شکل میں مَحفوظ کر لئے جائیں کیونکہ موجودہ اور آئندہ نسلوں کو امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی عظمتوں سے رُوشناس کرانا یقیناہماری تاریخی ذمّہ دار ی ہے ۔ چنانچہ اراکینِ مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی)کا ذہن بنا کہ  شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ جیسی عظیم الشّان شخصیت کی عکاسی کرنے کے لئے آپ دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی حیاتِ مبارَکہ کے روشن ابواب ،  مَثَلاًآپ کی زندگی کے ابتدائی حالات ،  روز مرہ کے معمولات،  آپ کی عبادات،  مجاہدات،  اخلاقیات و دینی خدمات کے واقعات کے ساتھ آپ کی ذاتِ مبارَکہ سے ظاہر ہونے والی برکات و کرامات اور آپ کیتصنیفات ،  مکتوبات، بیانات و ملفوظات کے فُیوضات پر مشتمل ایسا ’’تذکرۂ امیرِ اہلسنّت (دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ)‘‘ تیار کیا جائے جوسُنی سُنائی باتوں اور غیرمستند یا کمزور روایتوں کا ملغوبہ(یعنی مرکّب)  نہ ہوبلکہ اس میں امانت ودیانت کے ساتھ یقین کی حد تک سچی بات نقل کی جائے ۔ جہاں تک ہوسکے روایت کرنے والے سے ذاتی طور پر ملاقات یا رابطہ کرکے تصدیق کر لی جائے اورممکن ہوتو اس سے حلفیہ تحریر بھی لے لی جائے ، غیر شرعی مبالغہ آرائی سے بچا جائے اس میں جو حکایات شامل کی جائیں انہیں محض نگاہِ عقیدت سے نہیں بلکہ نظرِ حقیقت سے بھی دیکھا جائے تاکہ اِن حکایات کو عقیدت کی کرشمہ سازیاں اورارادت کی دیوانگیاں قرار نہ دیا جاسکے ۔ اس میں درج معلومات ایسی مستند ہوں کہ تاریخ میں اِسے ماخذِ اوّل کی حیثیت حاصل ہو  ۔

            فی الحال’’ تذکرۂ امیراہلسنّت ‘‘کو  مختصر رسائل کی صورت میں شائع کیا جارہا ہے تاکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اسلامی بھائی بھی انہیں با آسانی حاصل کرکے مستفیض ہوسکیں  ۔ بعد میں ان رسائل کا مجموعہ بھی شائع کیا جائے گا ، ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ۔ اس وقت’’تذکرۂ امیرِاَہلسنّت  ‘‘ کا دوسراحصہ بنام’’ابتدائی حالات‘‘ آپ کے ہاتھوں میں ہے  ۔ اس کا پہلا حصہ بھی مکتبۃ المدینہ سے ھدیۃً طلب کیجئے ۔   اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ  سے دعا ہے کہ ہمیں ’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کیلئے مَدَنی انعامات کے مطابق عمل اور مَدَنی قافلوں کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔  اٰمِیْن بِجاہِ النَّبی الامین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

شعبہ امیرِ اہلسنّت (دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ)    مجلس اَلْمَدِ یْنَۃُ الْعِلْمِیۃ (دعو تِ اسلامی )

۹ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم ۱۴۲۹ ھ،  12اگست 2008ء

 

امیر اہلسنّت

 سنّت کوپھیلایا ہے امیرِاہلسنّت نے                                بدعت کومٹایاہے امیرِاہلسنّت نے

ہزاروں گم رہوں کو وعظ اورتحریر سے اپنی                               رہِ جنت دکھایاہے امیرِاہلسنّت نے

کراکر بہت سے کفّار اور فُجَّار سے توبہ                                       جہنم سے بچایاہے امیرِاہلسنّت نے

 



Total Pages: 14

Go To