Book Name:Buland Awaz Say Zikr Karnay Main Hikmat

کسی شے کا سُوال نہ کرو) توراوی فرماتے ہیں کہ بعض صَحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین  ایسے بھی تھے کہ اگران کاچابک گِرجاتا تو کسی سے نہ کہتے کہ یہ چابک اِنہیں اُٹھا کر دیں  ۔ (سُنَن اَبی دَاوٗد ج۲ص۱۶۹حدیث۱۶۴۲داراحیاء التراث العربی بیروت)

جنّت کی ضمانت

حضرتِ سیِّدُنا ثَوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبیٔ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم ،  رسُولِ اکرم، شَہَنْشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا :  ’’جو شخص مجھے اس بات کی ضَمانت دے کہ لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگے ، تو مَیں اُسے جنّت کی ضَمانت دیتا ہوں  ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ثَوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ عرض گزار ہو ئے کہ مَیں اس بات کی ضَمانت دیتا ہوں  ۔ چُنانچِہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگا کرتے تھے  ۔ (مُسْنَد اِمَام اَحْمَد بِن حَنْبَل ج۸ص۳۲۲حدیث ۲۲۴۳۷دارالفکربیروت )

حضرتِ سیِّدُناثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں ایک اور حدیثِ پاک میں ہے کہ جب مَحبوب ربِّ ذُو الْجَلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سُوال کرنے سے مُمانَعَت فرمائی تو حضرتِ  سیِّدُنا ثَوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سُواری پر سُوار ہوتے اور چابک نیچے گرجاتاتو کسی سے نہ فرماتے کہ مجھے اُٹھاکردوبلکہ خود نیچے تشریف لاتے اور اُٹھالیتے ۔  (سُنَن اِبْنِ مَاجَہ ج۲ص۴۰۰حدیث ۱۸۳۷دارالمعرفۃ بیروت)

’’یَاعَفُوُّ‘‘کے 5 حُرُوف کی نسبت سے سُوال کرنے پر5 وَعید یں

 سُوال :   سُوال کرنے کے بارے میں چند ایک وعیدیں اِرشاد فرما دیجئے ؟

جواب :    بلاضَرورتِ شَرعِیَّہ سُوال کرنے کی مُمانَعَت پر کثیر اَحادیث وارِد ہیں جن میں سے پانچ عرض کی جاتی ہیں  :

حضرتِ سیِّدُنا ابُوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوا یت ہے کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَن الْعُیوب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عِبْرت نِشان ہے  : ’’جو مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے ان کے اَموال کا سُوال کرتاہے ، وہ اَنگارے کا سُوال کرتاہے تو چاہے زیادہ مانگے یا کم کا سُوال کرے ۔ ‘‘(صَحِیْح مُسْلِم ص۵۱۸حدیث۱۰۴۱دارابن حزم بیروت)

حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایت ہے کہ  نبی ٔ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسُولِ اَکرم، شَہَنْشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان عِبْرت نِشان ہے : ’’جو شَخْص سُوال کرے حالانکہ اس کے پاس اِتنا ہو جو اسے بے نیازکردے تو بروزِقِیامت اس حال میں آئے گاکہ سُوال کرنے کی وجہ سے اس کے چِہرے پرخَراشیں پڑی ہوں گی ۔ ‘‘(سُنَن تِرمِذِی ج۲ص۱۳۸حدیث ۶۵۰دارالفکربیروت)

نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحروبَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمان ِ عبرتِ نِشان ہے : ’’جس شَخْص نے بِغیر فاقے کے  سُوال کیا تو بِلاشُبہ وہ اَنگارا کھاتا ہے ۔ ‘‘(مُسْنَد اِمَام اَحْمَد بن حَنْبَل ج۶ص۱۶۲حدیث۱۷۵۱۶دارالفکربیروت)

سرکارِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہ ، باعِثِ نُزول سکینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باقرینہ ہے : ’’جو شَخص لوگوں سے سُوال کرے حالانکہ نہ اِسے فاقہ پہنچا ، نہ اِتنے بال بچے ہیں جن کی طاقت نہیں رکھتا تو قِیامت کے دن اِس طرح آئے گا کہ اس کے مُنہ پر گوشت نہ ہو گا ۔ ‘‘   (شُعَبُ الْاِیْمَان ج۳ص۲۷۴حدیث ۳۵۲۶دارالکتب العلمیۃ بیروت)

حُضُورِ پاک، صاحِبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عِبرت نِشان ہے  : ’’جو شَخْص سُوال کرے اور اس کے



Total Pages: 13

Go To