Book Name:Buland Awaz Say Zikr Karnay Main Hikmat

رسولِ اکرم، شَہَنْشاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب میِّت کو دَفن کرنے سے فارِغ ہوئے تواس پر کھڑے ہوکرفرمایا : ’’ اپنے بھائی کے لئے اِسْتِغفَار کرو اوراس کے لئے (قَبرکے سُوال وجواب میں ) ثابِت قَدْمی کاسُوال کرو کہ اب ان سے (قَبرمیں ) سُوال کیاجائے گا ۔ امام ابُوداوٗد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ وہبَحِیْربن رَیْسَانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے ۔ (سُنَن اَبِی دَاوٗدج۳ص۲۸۹حدیث ۳۲۲۱داراحیاء التراث العربی بیروت)

تمام صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان جنّتی ہیں

یاد رہے کہ تمام صَحابۂ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین اَعلیٰ و اَدنیٰ (اور ان میں ادنیٰ کوئی نہیں ) سب جنّتی ہیں ، وہ جہنَّم کی بِھنک(یعنی ہلکی سی آواز بھی ) نہ سُنیں گے اور ہمیشہ اپنی مَنْ مانتی مُرادوں میں رہیں گے ، مَحشر کی وہ بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی،  فِرِشتے ان کا اِسْتِقبال کریں گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا ۔  یہ سب مضمون قرآنِ عظیم کا اِرشاد ہے ۔ (بہارِشریعت حصّہ ۱ص۱۲۷مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  قرآنِ مجیدمیں اِرشاد فرماتاہے  :

لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-

ترجَمۂ کنزالایمان : تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکّہ سے قبل خرچ اور جہاد کیاوہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللّٰہ جنّت کا وعدہ فرما چکا  ۔

ایک اور مقام پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِرشاد فرماتاہے :

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ-فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةًؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ(۹۵)

ترجَمۂ کنزالایمان : برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہِ خُدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں ، اللّٰہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے سا تھ جہاد کرنے والوں کا درجہ بیٹھنے والوں سے بڑا کیا اور اللّٰہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور اللّٰہ نے جہاد والوں کو بیٹھنے والوں پر بڑے ثَواب کی فضلیت دی ہے  ۔

اِن آیات مبارَکہ کے تحت جَمْہُورمُفَسِّرِین نے لکھاہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ٔ جنّت صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کے دونوں گُرُوہوں سے ہے یعنی فتحِ مکّہ سے قبل اِیمان لانے والے اور فتحِ مکّہ کے بعد اِیمان لانے والے اورجہاد میں شرکت کرنے والے اور بیٹھنے والے ، اور ’’اَلْحُسْنٰی ‘‘سے مُراد جنّت ہے ا َلْبَتَّہ ان کے مرتبہ و مقام کے اِعتِبار سے جنّت کے دَرَجات مختلف ہوں گے جیسا کہ اِن مذکورہ آیات کے تحت تفسیر ابنِ عبّاس، تفسیرِ جلالین، تفسیرِ کبیر، تفسیرِ بیضاوی ، تفسیرِخازِن، تفسیرِرُوحُ المَعَانی وغیرہا میں مذکور ہے  ۔

چھوٹے بچّے کا تیجہ کرناکیسا ؟

سُوال :    چھوٹا بچہ فوت ہوجائے تو کیااس کا تیجہ وغیرہ کرسکتے ہیں ؟

 



Total Pages: 13

Go To