Book Name:Buland Awaz Say Zikr Karnay Main Hikmat

میرے آقا ، اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت مولانا  شاہ امام احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اِسی کے تحت دوسروں کودُعائے خیرمیں شامل کرنے کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ’’ اگر خود یہ قابلِ عطا نہیں ، کسی بندے کا طُفیلی ہو کرمُراد کو پُہنچ جا ئے گا‘‘ ۔ پھر چند احادیثِ مبارَکہ نَقْل فرماتے ہیں  :

’’یَانَبِی‘‘کے 5 حُرُوف کی نسبت سے 5 فرامِینِ مُصطَفٰے

جوشَخصمسلمان مردوں اور عورَتوں کے لئے دُعائے خیر کرتا ہے ،  قِیامت کو اِن کی مجلسوں پر گزرے گا ، ایک کہنے والا کہے گا : یہ وہ ہے کہ تمہارے لئے دُنیا میں دُعائے خیر کرتا تھا  ۔ پس وہ اس کی شَفاعت کریں گے اور جنابِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کر کے بَہِشْت(جنّت) میں لے جائیں گے ۔ (اَحْسَنُ الْوِعَاء لِآدَابِ الدُّعَاء ص۲۶مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

اللّٰہ تعالیٰ اس شَخْص کے لئے ہر مسلمان مردومسلمان عورَت کے بدلے میں ایک ایک نیکی لکھے گا ۔ (الجامِع الصّغیر ص ۵۱۳ حدیث ۸۴۱۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت)ہرروز مسلمان مَردوں اور مسلمان عورَتوں کے لئے 27باراِسْتِغْفَار کرنے والے کی دُعا مَقْبُول ہو تی ہے اور ان کی بَرَکت سے خَلْق (مخلوق)کو روزی ملتی ہے ۔ (الجامِع الصّغیر ص ۵۱۳ حدیث ۸۴۲۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

اللّٰہ تعالیٰ کو کوئی دُعا اس سے زیادہ محبوب نہیں کہ آدمی عرض کرے  ’’اَللّٰھُمَّ ارْحَمْ اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ رَّحْمَۃً عَامَّۃً‘‘ ترجَمہ : یاالٰہی عَزَّوَجَلََّّ !اُمّتِ محمدیہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر عا م رحمت فرما ۔  (یعنی دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی) ۔ (کنز العُمّال ج۲ ص۳۵ حدیث۳۲۰۹ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

بنی آدم کے جتنے بچّے پیدا ہوں گے ، سب اس کے لئے اِسْتِغْفَار کریں ، یہاں تک کہ وفات پا ئیں  ۔ (اَحْسَنُ الْوِعَاء لِآدَابِ الدُّعَاء ص۲۸مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

مُسافِر کی دُعاقبول ہو تی ہے

اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  تبلیغِ قراٰن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اِسلامی کے سُنَّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافلوں میں راہِ خُدا عَزَّوَجَلَّ  میں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول کے ہمراہ سفر کرنے کی بَرَکت سے جہاں پنج وقتہ نَماز ونوافل کی پابندی نصیب ہوتی ہے ، پیارے آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتیں بھی سیکھنے کو ملتی ہیں اور علمِ دِین کے لئے سفر کا ثَواب حاصِل ہوتا ہے ، اِن فَوائد وثَمَرات کے ساتھ ساتھ  اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  بے شُمار دینی ودُنْیوی پریشانیوں سے بھی نَجات ملتی ہے کہ مسافر کی دُعا مَقْبُولو مُسْتَجَاب ہے ، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُناابُو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حُضُورِ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ رَحمت نِشان ہے : ’’ تین دُعائیں ایسی ہیں کہ جن کی قَبولیت میں کوئی شک نہیں : (1)مَظْلُوم کی دُعا(2)مُسافِرکی دُعا(3)اَولاد کے حق میں باپ کی دُعا ۔ ‘‘(سُنَن تِرمِذِی ج۳ص۳۶۲حدیث ۱۹۱۲دارالفکربیروت)

نئی زند گی مِل گئی

ایک مَزدُور کے گُردے فیل ہو گئے ۔ عزیزوں نے اَسپتال میں داخِل کروا دیا ۔ اُس کااَوباش بھانجا عِیادت کیلئے آیا ۔  ماموں جان زندگی کی آخِری گھڑیاں گِن رہے تھے ۔  اِس کادِل بھر آیا اور آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے ۔ اُس نے سُن رکھا تھا کہدعوتِ اِسلامی کے مَدَنی قافِلے میں سفر کے دَوران دُعا قَبول ہوتی ہے ۔ چُنانچِہ وہ مَدَنی قافِلے میں سفر پر چل دیا اور خوب گڑگِڑا کر ماموں جان کی صِحّت یابی



Total Pages: 13

Go To