Book Name:Buland Awaz Say Zikr Karnay Main Hikmat

 

دَرَخْت کے نیچے کلِمہ شریف پڑھنے کی حکمت

سُوال :    ایک مرتبہ آپ کو دیکھا گیا کہ آپ نے دَرَخْت کے نیچے بلندآواز سے کلمۂ پاک پڑھا، اس میں کیا حِکمت تھی ؟

جواب :    اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ مَیں نے اس دَرَخْت کو بُلند آواز سے کلمۂ طَیِّبہ سُنا کر اپنے اِیمان پر گواہ بنایا ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے ذِکر کی آواز جہاں تک جاتی ہے ہر خشک وتَر شے اس کے لئے  گواہ بن جا تی ہے  ۔

بلند آواز سے ذِکر کرنے کی فضیلت

صاحِبِ تفسیررُوحُ البیان علّامہ اِسمٰعِیل حقی عَلَیہ رَحمۃُ اللّٰہِ القَوِی  پارہ 4 سورۂ آل عمران آیت 191 : {رَبَّنَا  مَا  خَلَقْتَ  هٰذَا  بَاطِلًاۚ- }کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’بلند آواز سے ذِکرکرنا جائز بلکہ مُستَحب ہے جب کہ رِیانہ ہو، تاکہ دِین کا اِظہار ہو، ذِکر کی بَرَکت گھروں میں سامِعِیْن تک پَہُنچے اور جو کوئی اس کی آوازسُنے ذِکر میں مَشْغُول ہوجائے اورقِیامت کے دن ہر خشک و تَرذِکرکرنے والے کے اِیمان کی گواہی دے ۔ (تَفْسِیْرِرُوْحُ الْبَیان ج۲ص۴۷اکوئٹہ) ذِکْربِالْجَھْر یعنی بلند آواز سے کرنے میں یہ احتیاط ضَروری ہے کہ کسی نَمازی ، تالی( یعنی تلاوت کرنے والے )، مریض یا سَوتے کو ایذا نہ ہو ۔

اذان کی آواز کی گواہی

حضرتِ سیِّدُنا ابُوسعیدخُدْرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مَدَدْگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمان خُوشبودار ہے : جہاں تک مؤذِّن کی آواز پَہُنچتی ہے وہاں تک جو بھی جنّ اورانسان یا کو ئی بھی چیز (یعنی جمادات، نباتات ، حیوانات وغیرھا) اذان کی آواز سنے گی وہ قیا مت کے دن مؤذِّن کے لئے گواہی دے گی  ۔

(صَحِیْحُ الْبُخَارِی ج۱ص۲۲۲حدیث ۶۰۹دارالکتب العلمیۃ بیروت)

ہرچیزتسبیح کرتی ہیں

علّامہ نُور الدِّین علی بن سُلْطان القارِی عَلَیہ رَحمۃُ اللّٰہِ البَارِیاِسی حدیثِ پا ک کے تحت فرماتے ہیں  : صحیح یہی ہے کہ جَمادات(یعنی دھات، پتھر، پہاڑ وغیرہ)، نباتات(یعنی درخت ، پودے ، سبزیاں وغیرہ) حیوانات عِلم واِدراک(سمجھ) اورتَسبیح کرنے کی صلاحِیّت رکھتے ہیں جیساکہ اللّٰہُ رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ  کے فرمان  : { وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ-(پ۱ البقرۃ، ۷۴)  ترجَمۂ کنزالایمان : اور کچھ وہ ہیں جو اللّٰہ کے ڈر سے گِر پڑتے ہیں  }اور {وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ (پ۱۵اَلْاَسْرَآء ۴۴) ترجَمۂ کنزالایمان : اور کو ئی چیز نہیں جو اِسے سراہتی ہو ئی اس کی پاکی نہ بولے } نیزحضرت سیِّدُنا عبد اللہ ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا فرمان کہ ایک پَہاڑ دوسرے سے کہتاہے :  ’’ کیاتجھ پرکسی ایسے شَخْص کا گزر ہوا جس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا ذِکر کیاہو ؟ پس جب وہ ہاں میں جواب دیتا ہے تودوسرا خوش ہو جاتاہے ۔ ‘‘[شُعَبُ الْاِیْمان للبَیہَقی ج۱ص۴۰۲حدیث ۵۳۸دارالکتب العلمیۃ بیروت](مَذْکورہ بالا آیات و رِوایت ) سے معلوم ہوا اور اِمام بغوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِینے فرمایا : وَھٰذَا مَذْہَبُ اَہْلِ السُّنَّۃِ یعنی اہلِ سُنَّت کا یہی مَذْہَب ہے  ۔ (مِرْقَاۃُ الْمَفَاتِیْح ج۲ص۳۴۸دارالفکربیروت)

زمین کے حصوں کی آپس میں گفتگو

 



Total Pages: 13

Go To