Book Name:Buland Awaz Say Zikr Karnay Main Hikmat

نہیں کہ ان کو دے ۔ ‘‘(بہارِشریعت حصّہ۵ص ۷۵ ۔  ۷۶ مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

نا سمجھ بچّے کے ذَ بیحے کاحکم

سُوال :    ناسمجھ بچے کا ذَبیحہ حلال ہے یاحرام ؟

جواب :      نا سمجھ بچّے کا ذبیحہ حرام ہے  ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں : ’’جِنّ، مُرتَد ، مُشرِک ، مَجوسی ، مجنون (یعنی پاگل)، ناسَمَجْھ اور اُس شَخص کا جو قَصْدًاتکبیر ترک کر دے ذبح شُدہ جانور حرام ومُردار ہے ، اور ان کے علاوہ کا حلال ہے جبکہ رگیں ٹھیک کٹ جائیں ، اگرچِہ ذَبح کرنے والی عورَت ہو یا سمجھ والا بچّہ یاگُونگا یا بے خَتنہ ہو، اور اگر ذبح ہو نے والاشِکار ہو تو یہ بھی شرط ہے کہ ذَبیحہ حَرَم میں نہ ہو ذابِح ( یعنی ذبح کرنے والا) اِحرام کی حالت میں نہ ہو ۔ ‘‘(فتاوٰی رَضَوِیّہ ج ۲۰ص۲۴۲مرکزالاولیاء لاہور)

اِحرام کی حالت میں مُرغی ذبح کرنا

سُوال :     احرام کی حالت میں مُرغی ذبح کر سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب :      کر سکتا ہے ۔ صَدْرُالشَّریعہ، بَدْرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیاس عنوان :  ’’ یہ باتیں احرام میں جائز ہیں ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں  : ’’ پالتو جانور اونٹ، گائے ، بکری ، مُرغی وغیرہ ذبح کرنا ۔ ‘‘ (بہارِشریعت حصّہ۶ص ۵۲ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

ہوٹل سے بِغیراجازت پانی پینا

یا ہاتھ دھوناکیسا ؟

سُوال :    کیاہوٹل سے بِغیر پوچھے پانی پی سکتے ہیں یا وہاں کا کھانا نہ کھانے  کے باوُجُود ہاتھ دھوسکتے ہیں ؟

جواب :     مالِک کی اِجازت کے بِغیراِستِعمال نہیں کرسکتے ۔ صَدْرُ الشَّریعہ،  بَدْرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمدامجدعلی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ’’بالِغ کا بھراہوا  (پانی جو اُس کی مِلک ہو) بِغیراِجازت صَرف (اِستِعمال) کرنا بھی حرام  ہے ۔

(بہارِشریعت حصّہ ۲ص۵۷ مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

ہاں اگراِجازت ہوتو حَرَج نہیں ، اِجازت کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں  :

 اِجازت صَراحَۃًہو جیسے مالِک نے زبان سے کہہ دیاکہ گاہگ غیر گاہگ ’’ہرایک کو پینے اور استِعمال کرنے کی اجازت ہے ‘‘ یایہی کسی ٹنکی یا واٹرکُولر پرلکھوادیا یاکوئی اورذَرِیعہ جس سے مالک کی طرف سے اِجازت معلوم ہوجائے  ۔

اجازت دلالۃًہوجیساکہ وہاں عُرف و عادت ہو کہ مُسافِروں یار اہ گیروں کوپانی پینے سے مَنْع نہیں کیا جاتا ۔  جیساکہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سبیل کے پانی کے بارے میں فرماتے ہیں  : ’’ مالکِ آب(یعنی پانی کے مالک) کی اجازت مُطلَقاً یا اس شخصِ خاص کے لئے صَراحَۃً خواہ دلالۃًثابِت ہو ۔ صَراحَۃً یہ کہ اُس نے یِہی کہہ کر سبیل لگائی ہو کہ جو چا ہے پئے ، وُضو کرے ، نہا ئے اوراگر فقط پینے اور وضو کے لئے کہا تواس سے غسل رَوا(یعنی جائز) نہ ہو گا اور خاص اُس شخص کے لئے یوں کہ سبیل تو پینے ہی کو لگائی مگراُسے اُس سے وُضو یا غسل کی اِجازت خودیا اس کے سُوال پر دی اور دلالۃً یوں کہ لو گ اس سے



Total Pages: 13

Go To