Book Name:Buland Awaz Say Zikr Karnay Main Hikmat

پاس اِتنا ہے کہ اسے بے پرواہ کرے ، وہ آگ کی زیادَتی چاہتا ہے ۔  عرض کی گئی، یارسُولَ اللّٰہ(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) ! وہ کیا مِقْدار ہے جس کے ہوتے ہوئے سُوال جائز نہیں ؟ فرمایا، ’’دِن اور رات یا رات اور دِن کا کھانا ۔ ‘‘(اَلسُّنَنُ الْکُبْرٰی لِلْبَیْھَقِی ج۷ص۳۹حدیث۱۳۲۱۲دارالکتب العلمیۃ بیروت )

مِسکین کی تعریف

سُوال :    مسکین کی تعریف بھی بتادیجئے ۔

جواب :     جس کے پاس ایک دِن کے کھانے اور پہننے کا نہ ہو وہ مسکین ہے ۔  

اگر کپڑے ہیں ، کھانا نہیں توکھانے کے لئے سُوال کرسکتا ہے ۔ کھانا ہے اور کپڑے نہیں تواب کپڑے مانگ سکتاہے ۔

فتاوٰی عالمگیری  میں ہے  : ’’مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو حتّٰی کہ کھانے اوربَدَن چُھپانے کے لئے بھی سُوال کرنے کا مُحتاج ہوپس اس کے لئے سُوال کرناحَلال جبکہ فقیر کے لئے سُوال کرناحلال نہیں کیوں کہ بَدَن کو ڈھانپنے کے بعد جو ایک دِن کے کھانے کا مالِک ہواس کے لئے سُوال کرناحلال نہیں ۔ ‘‘(اَلْفَتَاوی الھِنْدِیّۃج۱ص۸۷ا ۔  ۱۸۸کوئٹہ)

پیشہ وربھکاریوں کے بارے میں حکم

سُوال :    بعض لوگ جو بطورِ پیشہ بھیک مانگتے ہیں اِن وعیدوں کی رُو سے وہ توسخت مُجرِم ہوئے ؟

جواب :     جی ہاں ! میرے آقا ، اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  سے پیشہ ور گداگروں (بھکاریوں ) کے بارے میں سُوال کیا گیاتواِرشاد فرمایا : ’’جو اپنی ضَروریاتِ شَرعِیَّہ کے لائق مال رکھتاہے یا اس کے کَسْب پر قادِر ہے اسے سُوال حرام اورجو اس مال سے آگاہ ہو اسے دینا حرام، اور لینے اور دینے والا دونوں گنہ گار و مُبتَلائے آثام(یعنی گناہوں میں مبتَلا ہوئے ) ۔ ‘‘   (فتاوٰی رَضَوِیّہ مُخرّجہج ۱۰ص۳۰۷مرکزالاولیاء لاہور)

فتاوٰی عالمگیری میں ہے  : ’’ جس کے پا س اس دن کے کھانے کے لئے موجود ہواس کے لئے سُوال کرنا حلال نہیں  ۔ سائل نے اس طریقے پر جو جمع کیا وہ خبیث مال ہے ۔ ‘‘(اَلْفَتاوی الْہِنْدِیّۃ ج۵ص۳۴۹کوئٹہ)

گداگری کی موجودہ صورتِ حال

صَدْرُالشَّریعہ، بَدْرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی   عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں  : ’’آج کل ایک عام بَلا یہ پھیلی ہوئی ہے کہ اچھّے خاصے تَنْدُرُست چاہیں تو کما کر اَوروں کو کھلائیں ، مگر انہوں نے اپنے وُجُود کو بیکار قرار دے رکھا ہے ، کون محنت کرے مُصِیبَت جَھیلے ، بے مشقَّت جو مل جائے تو تکلیف کیوں برداشت کرے ۔  ناجائز طور پر سُوال کرتے اور بھیک مانگ کر پیٹ بھرتے ہیں اور بَہُتِیرے ایسے ہیں کہ مَزدُوری تو مَزدُوری، چھوٹی موٹی تَجارت کو ننگ و عار(شرم و ذِلّت کاکام) خیال کرتے اور بھیک مانگنا کہ حقیقۃً ایسوں کے لئے بے عزّتی و بے غیرتی ہے ، مایۂ عزّت جانتے ہیں اور بَہُتوں نے تو بھیک مانگنا اپنا پیشہ ہی بنا رکھا ہے ، گھر میں ہزاروں روپے ہیں ، سُود کا لَین دین کرتے ، زِراعت وغیرہ کرتے ہیں مگر بھیک مانگنا نہیں چھوڑتے ، اُن سے کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ یہ ہمارا پَیشہ ہے واہ صاحِب واہ ! کیا ہم اپنا پَیشہ چھوڑ دیں ! حالانکہ ایسوں کو سُوال حرام ہے اور جسے اُن کی حالت معلوم ہو، اُسے جائز



Total Pages: 13

Go To