Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

مسجِد کے چندے سے چَراغاں

سُوال : مسجِد کے چندے کی رقم سے مسجِد پر جشنِ ولادت کے دِنوں  میں  چَراغاں  کرنا کیسا؟

جواب :   اگر چندہ دینے والوں  کی صَراحۃ ًیا دَلالۃًاجازت ہو تو کرسکتے ہیں  ورنہ نہیں  ۔ صَراحۃً سے مُراد یہ ہے کہ مسجِد کے لئے چندہ لیتے وقت کہدیا کہ ہم آپ کے چندے سے جشنِ ولادت اور گیارھویں  شریف، شبِ براءت  وغیرہ بڑی راتوں  کے مواقِع پرنیز رَمَضانُ المبارَک میں مسجِد میں  روشنی بھی کریں  گے اور اُس نے اجازت دیدی ۔ دَلَالۃً یہ ہے کہ چندہ دینے والے کو معلوم ہے کہ اِس مسجِد پر جشنِ ولادت اور دیگر بڑی راتوں  کے مواقِع پر اور رَمَضانُ المبارَک میں  چَراغاں  ہوتا ہے اور اُس میں  مسجِد ہی کا چندہ استِعمال کیا جاتا ہے ۔  عافِیّت اِسی میں ہے کہ چَراغاں  وغیرہ کے لئے الگ سے چندہ کیا جائے ، جتنا چندہ ہوجائے اُسی سے چَراغاں  کر لیا جائے اور چَراغاں  میں  جو کچھ بجلی خرچ ہوئی اُس کے پیسے بھی اُسی سے ادا کئے جائیں ۔  

اجتِماع کا چندہ بچ گیا تو کیا کرے ؟

سُوال : دعوتِ اسلامی کے سنّتوں  بھرے اجتماع کیلئے جو چندہ کیا تھا ، وہ بچ گیا تو کیا کریں  ؟ کیا مسجِدیامدرَسے میں  یا اپنے تنظیمی حلقے کیلئے دریاں  وغیرہ خریدنے میں اُسے خرچ کرسکتے ہیں  ؟

جواب :  اجتِماع، جلسہ، نعت خوانی، جشنِ ولادت کی سجاوٹ ، اَعراسِ بزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناورگیارھویں  شریف کی نیاز وغیرہ کیلئے لیا ہوا چندہ بچ جانے کی صُورت میں چندہ دینے والے اگر معلوم ہوں  توبچی ہوئی رقم اُنہیں  کو لوٹانی ضَروری ہے ، اُن کی اجازت کے بِغیر کسی دوسرے مَصرف میں  استِعمال کرنا جائز نہیں  اور اگر معلوم نہ ہوں  تو جس کام کے لئے چندہ دینے والوں  نے دیاتھا اسی میں  صَرف کریں  (مَثَلاً سنّتوں  بھرے اجتماع کے لئے دیا تھا تو کسی دوسرے سنّتوں  بھرے اجتماع پر خرچ کریں )اگر اس طرح کا کوئی دوسرا کام نہ پائیں  تو فقراء پر تصدُّق کریں  ۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰحضرت، اِمامِ اَہلسنّت،  ولیِ نِعمت ، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین  ومِلَّت، حامیِ سنّت ، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ جلد16صَفْحَہ 206پرفرماتے ہیں  : چندہ کا جو روپیہ کام ختم ہوکر بچے لازم ہے کہ چندہ دینے والوں  کو حصہ رسد واپس دیا جائے یا وہ جس کام کے لئے اب اجازت دیں  اس میں  صَرف ہو ، بے ان کی اجازت کے صَرف کرنا حرام ہے ، ہاں  جب ان کا پتا نہ چل سکے تو اب یہ چاہئے کہ جس طرح کے کام کے لئے چندہ لیا تھا اسی طرح کے دوسرے کام میں  اُٹھائیں  (یعنی استِعمال کریں )مَثَلاً تعمیرِمسجد کا چندہ تھا مسجد تعمیر



Total Pages: 50

Go To