Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا چہرۂ انور خوشی کے باعث کُندَن(یعنی خالص سونے )کی طرح دَمکنے لگا اور ارشاد فرمایا : ’’جو شخص اسلام میں  کوئی اچّھی راہ نکالے اُس کے لئے اُس کا ثواب ہے اور اُس کے بعد جتنے لوگ اُس راہ پر عمل کریں  گے سب کا ثواب اُس(اچھی راہ نکالنے والے ) کیلئے ہے بِغیر اس کے کہ اُن  (عمل کرنے والوں  ) کے ثوابوں  میں  کچھ کمی ہو ۔ ‘‘ (مُسلِم ص۵۰۸ حدیث ۱۰۱۷ )

          کیا  ہرچندے کو وَقف کا پیسہ بول سکتے  ہیں ؟

سُوال :  کیا ہر طرح کے چندے کی رقم کو’’ وقف کا پیسہ ‘‘ کہا جا سکتا ہے ؟

جواب : بعض صورتوں  میں  چندہ’’ وَقف ‘‘ کے حکم میں  آتا ہے اور بعض صورتوں  میں  نہیں  آتا ۔ چُنانچِہ صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکی بارگاہ میں  سُوال ہوا : مسجِدوں  ، مدرَسوں  کی تعمیر و اَخراجات کے لئے یا کسی اور مذہبی و دینی ضَرورت کے لئے جو چندے وُصُول ہوتے ہیں  یہ محض صَدَقہ ہیں  یا وَقف بھی کہے جا سکتے ہیں ؟ الجواب :  عُمُوماًیہ چندے صَدَقۂ نافِلہ ہوتے ہیں  ان کو وَقف نہیں  کہا جاسکتا کہ وَقف کے لئے یہ ضَرور ہے کہ اصل حَبس( محفوظ) کر کے اس کے مَنافِع کام میں  صَرف کئے جائیں  ۔  جس کے لئے وَقف ہو ، نہ یہ کہ خود اصل ہی کو خرچ کر دیا جائے  ۔ یہ چندے جس خاص غَرَض کے لئے کئے گئے ہیں  اس کے غیر میں صَرف نہیں  کئے جا سکتے ۔ اگر وہ غرض پوری ہو چکی ہو تو جس نے دیئے ہیں  اس کو واپَس کئے جائیں  ۔ یا اس کی اجازت سے دوسرے کام میں  خرچ کریں  ۔ بِغیر اجازت خرچ کرنا ناجائز ہے ۔  (فتاوٰی امجدیہ ج ۳ ص ۳۸)

کُفّار سے چندہ مانگنا کیسا؟

سُوال :  دینی کاموں  کیلئے کُفّار سے چندہ لینا کیسا؟

جواب :  ممنو ع ہے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : کسی دینی کام کے لئے کُفّار سے چندہ لینا اول تو خود ہی ممنوع اور سخت معیوب ہے ۔  رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : ہم کسی مشرک سے مدد نہیں  لیتے  ۔ ( ابوداوٗد ج۳ص۱۰۰حدیث ۲۷۳۲ ، فتاوٰی رضویہ ج۱۴ ص ۵۶۶)

مسجِد کے چندہ سے نِیاز کرنا کیسا؟

سُوال :            مسجِد کے نام پر کیا ہوا چندہ گیارہویں  شریف کی نیاز کے کھانے پر صَرف کرسکتے ہیں  یا نہیں  ؟

جواب : اگر کسی مسجد کا قدیم سے عُرف چلتا آرہا ہے تو گیارہویں  شریف اُس مسجد کے چندے سے کرسکتے ہیں ورنہ نہیں  کرسکتے  ۔ چندے کا اُصول یہ ہے کہ جس مَدّ (یعنی عُنوان ) میں  وُصول کیااُس کے علاوہ کسی اور مَدّ میں  استِعمال کرنا گناہ ہے  ۔

 



Total Pages: 50

Go To