Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

سے بَہُت زیادہ چندہ پیش کیا چُنانچِہ مُفسّرِشَہیر ، حکیمُ الامّت ، حضر ت مفتی احمد یا ر خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّاناِس حدیثِ پاک کے تَحْت فر ماتے ہیں : خیا ل رہے کہ یہ تو اُن کا اعلان تھا مگر حا ضِر کرنے کے وَقت آپ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے 950اُونٹ، 50گھوڑے اور 1000 اشرفیاں  پیش کیں ، پھر بعد میں 10 ہزار اشرفیا ں  اور پیش کیں   ۔ (مفتی صا حب مزید فر ماتے ہیں  )خیال رہے کہ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پہلی بار میں  ایک 100 کا اعلان کیا ، دُوسری بار 100اونٹ کے علاوہ اور200کا ، تیسری باراور300 کا کل 600اُونٹ (پیش کرنے ) کااعلان فر مایا ۔  (مراٰۃ المناجیح ج۸ص۳۹۵)

مجھے گر مل گیا بحرِ سخا کا ایک بھی قطرہ

مِرے آگے زمانے بھر کی ہوگی ہیچ سلطانی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

چندہ کرنے سے روکنا کیسا؟

سُوال :  دینی کاموں  کیلئے چندہ کرنے والے کو روکنا کیسا؟

جواب :  بِلاوجہ اس کارِ خیر سے روکنے کی شَرْعاً مُمانَعَت ہے چُنانچِہ فتاوٰی رضویہ جلد 23صَفْحَہ127 پر میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت مو لانا شا ہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ایک سُوال کے جواب میں  ارشا د فرماتے ہیں   : اُمُو ر ِخیر کے لیے مسلمانوں  سے اس طرح چندہ کرنا بد عت نہیں  بلکہ سنّت سے ثا بِت ہے جو لوگ اس سے روکتے ہیں  (وہ)  مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ(۱۲) ([1])   (ترجَمۂ کنز الایمان : بھلائی سے بڑا روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگار) میں  داخل ہوتے ہیں  ۔

حضرتِ سیِّدُنا جَریررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہے ، کچھ(حضرات)بَرَہْنہ پا، بَرَہْنہ بدن، صِرْف ایک کملی کفنی کی طرح چِیر کر گلے میں  ڈالے خدمتِ اقدسِ حضورِ پُر نور ، سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  حاضِر ہوئے ، حُضُورِ پُر نور، رَحْمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُن کی مُحتاجی(یعنی غُربت) دیکھی، چہرۂ انور کا رنگ بدل گیا ۔ بِلال(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کو اَذان کا حکم دِیا، بعدِ نَماز خُطبہ فرمایا، بعدِتلاوتِ آیاتِ مبارَکہ ارشاد کیا : ’’کوئی شخص اپنی اشرفی سے صَدَقہ کرے ، کوئی روپے سے ، کوئی کپڑے سے ، کوئی اپنے قلیل(یعنی تھوڑے ) گیہوں  سے ، کوئی اپنے تھوڑے چُھوہاروں  سے ، یہاں  تک فرمایا : اگرچِہ آدھا چُھوہارا ۔ ‘‘ اِس ارشادِ گِرامی (یعنی عطیّات دینے کی ترغیب ) کو سُن کر ایک انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روپیوں  کا تھیلا اُٹھا لائے جس کے اُٹھانے میں  اُن کے ہاتھ تھک گئے ، پھر لوگ پے دَرپے صَدَقات لانے لگے ، یہاں  تک کہ دو انبار  (یعنی 2ڈھیر)کھانے اور کپڑے کے ہو گئے یہاں  تک کہ میں  نے دیکھا کہ صَلَّی اللہُ



[1]    پ۲۹، القلم : ۱۲



Total Pages: 50

Go To