Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

خیر خواہ، آمِنہ کے مہر و ماہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْاٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْاٰذَی اللّٰہ ۔ یعنی جس نے (بِلاوجہ ِشَرعی ) کسی مسلمان کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے مجھے اِیذا دی اُس نے اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّکو اِیذا دی ۔ (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطَّبَرَانِی  ج ۲ص  ۳۸۶ حدیث ۳۶۰۷ )

 بدترین سُود مسلمان کی آبروریزی

                سرکارِ والا تبار، بِاِذنِپروَردگاردو جہاں  کے مالِک ومختار، شَہَنْشاہِ اَبرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ گوہر بار ہے :  ’’بدترین سُود مسلمان کی آبرو میں  ناحق دست درازی ہے ۔ ‘‘ (ابوداوٗدج۴ص۳۵۳حدیث ۴۸۷۶ )

مسلمان کی آبرو اُس کے مال سے اَہَم ہے

                مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتمُ المُحَدِّثین ، حضرتِ علّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں  : اس(یعنی مسلمان کی عزّت میں  ناحق دست اندازی) سے مُراد اس کی غیبت کرنا ، اس کوگالی دینا ، اسے حقیر جانتے ہوئے تکبُّر کرنا ہے بشرطیکہ کوئی شَرعی حکمت ومَصلَحَت نہ ہو ۔ (مزید تحریر فرماتے ہیں  ) اِس کو(یعنی مسلمان کی عزّت پر ناحق ہاتھ ڈالنے کو) بدترین سُود اِس لئے قرار دیا گیا ہے کہ مسلمان کی عزّت وآبرو اُس کے ہر (قسم کے )مال سے بڑھ کر(قیمتی) ہوتی ہے تویقینا اس(ناحق آبروریزی) میں فَساد دوسرے مال سے  بڑھ کرہی ہو گا ۔ ’’ناحق ‘‘کی قید اِس لئے لگائی گئی ہے کہ بعض صورَتوں  میں  (مسلمان کی عزّت پر ہاتھ ڈالنا) مُباح ہوتا ہے جیسا کہ وہ کسی کا حق نہیں  دیتا یا ظالم ہے یاضَرورتاً کبھی گواہ پرجَرح کی جاتی ہے ۔ اسی طرح رُواۃ (یعنی احادیثِ مبارَکہ کے راویوں  ) پر حفاظتِ دین کی خاطِرمحدِّثینِ کرام(رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام) جرح (یعنی راویوں  کے عیوب کو ظاہر)کرتے ہیں  اور ایسی صورَتوں  میں  غیبت مُباح (جائز )  ہے ۔ (اَشِعَّۃُ اللَّمعات ج ۴ ص۱۵۷ )

مومِن کی حُرمت کعبے سے بڑھ کرہے

             سُنَن ابنِ ماجہ میں  ہے  : خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کعبۂ معظمہ کو مخاطَب کر کے ارشاد فرمایا : ’’مومن کی حُرمت تجھ سے زِیادہ ہے ۔  ‘‘ ( سُنَنِ ابنِ ماجہ ج۴ ص۳۱۹ حدیث ۳۹۳۲)

یہودو نصاریٰ کی بد خَصلتیں

             بَہَرحال مسلمان کا یہ شَیوہ ہی نہیں  کہ خوامخواہ کسی کی تذلیل کرے ۔  میرے آقا اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فتاوٰی رضویہ جلد24 صَفْحَہ 108 اور 109پر نَقْل کرتے ہیں : یہودیوں  اور عیسائیوں  کے اَخلاق



Total Pages: 50

Go To