Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

کروائی ہوئی رقم تم ضبط کر لینا اور اگر تم نے (یعنی گاڑی والے نے ) بکنگ منسوخ کی تو دُگنی رقم واپَس دینی ہو گی یعنی جو رقم ہم نے دی تھی وہ بھی اور اُتنی ہی مزید ۔

جواب :   گاڑی والے کی طرف سے منسوخی کی صورت میں  جمع کردہ ضمانت سے دُگنی رقم نہیں  لے سکتے کیوں  کہ یہ تَعزیز بِالمال یعنی مالی جُرمانہ ہے اور مالی جُرمانہ ناجائز ہے ۔  فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں  : ’’مذہبِ صحیح کے مطابِق مالی جُرمانہ نہیں  لیا جا سکتا ۔ ‘‘ (اَلْبَحْرُ الرَّائِق ج ۵ ص ۶۸)گاڑی والے کوبھی چاہئے کہ بطورِ ضَمانت لی ہوئی رقم لوٹادے ، اگر رکھ لے گا گنہگار ہوگا ۔

  دو طرفہ کرائے کی گاڑی کیلئے اِحتیاطیں

سُوال :  سنّتوں  بھرے اجتماع وغیرہ کیلئے بس یا ویگن دو طرفہ کرائے پر لینے کی صورت میں  واپَسی میں  دیر ہوجانے پر گاڑی والا ناراض نہ ہو اِس کے لئے کیا کیا احتیاطیں  کرنی چاہئیں ؟

جواب :  آنے جانے کا وقت گھڑی کے مطابِق طے کر لیجئے ۔  اور وَقت وُہی طے کیجئے جس کو آپ نبھا سکیں  ۔ طے شدہ وقت سے تاخیر نہیں  ہونی چاہئے ، یہ شکایت فُضول ہے کہ اسلامی بھائی وقت پر نہیں  پہنچتے ! اسلامی بھائیوں  کی عادَتیں  کس نے خراب کیں ؟کیا یہ معمول کی بسوں  اور ٹرینوں  میں  بھی دیر سے پہنچتے ہوں  گے !ہرگز نہیں ، وہاں  تو شایدوَقت سے پہلے ہی پہنچ جاتے ہوں  گے ! توآخِرسنّتوں  بھرے اجتماع کی بسوں  کیلئے ہی تاخیر سے کیوں  آتے ہیں ؟ بات دراصل یہ ہے کہ بعض نادان ذمّہ داران خود کوتاہیاں  کرتے ، ’’ اِس کا اُس کا‘‘ انتظار کرتے ، کبھی اپنا انتظار کرواتے ہیں  ، اِس طرح ’’ تاخیر‘‘ کا مرض لاگو پڑ جاتا ہے ۔ ہونا یہی چاہئے کہ جو آئے آئے ، نہیں  آئے نہیں  آئے ، ذمّہ داران بِغیرکسی کاانتظارکئے بسیں  چلوا دیں ، ایسا کریں  گے تو اِنْ  شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ  ماتحتوں  کا ذِہن خود ہی بن جائے گا ۔ ہاں پانچ سات مِنَٹ کی تاخیرجو کہ گاڑی والے نیز وقت پر آجانے والے اسلامی بھائیوں پر گِراں  نہ ہو تو حَرَج نہیں ۔ خُصوصاً بڑے اجتِما عات میں  یہ صورت پیش آتی ہے کہ اجتِماع کے اِختِتام میں  دَیر سَوَیر ہوجاتی پھر واپَسی میں بِھیڑ کی وجہ سے بھی بعض اَوقات بس تک پہنچتے پہنچتے تاخیر ہو جاتی ہے ۔ لہٰذا پہلے ہی سے اندازہ لگا کرایک آدھ گھنٹہ زِیادہ وَقت کاطے کر لینا مناسِب ہے ۔ مَثَلاً عُموماً 10 بجے اجتِماع سے فارِغ ہو جاتے ہیں ، تاہم 11بجے تک کاوقت طے کیاجائے اورگاڑی والے سے درخواست کر دی جائے کہ ہو سکتا ہے ہم جلد آ جائیں  ، اگر مناسِب سمجھیں  تو بس چلا دیجئے ۔ اور اگر نہ چلانا چاہیں  تو کوئی بات نہیں  ہم 11 بجے تک اِنْ  شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ  انتظار کر لیں  گے  ۔ اس طرح کی ترکیب بنانے سے اِنْ  شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ  کافی آسانی رہے گی ۔  

طے شدہ سے زائد سُواری بِٹھانا

سُوال :  پوری بس کرائے پر بک کروائی اور طے ہوا کہ 40سُوار یاں  بٹھائیں  گے ۔ مگر روانگی کے وَقت 41 اسلامی



Total Pages: 50

Go To