Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

سُوال :  کسی نے اپنی قربانی کی کھال بیچ کر رقم حاصِل کر لی اب وہ مسجِد میں  دے سکتا ہے یا نہیں ؟

جواب : : یہاں  نیّت کا اعتِبار ہے ۔  اگر اپنی قربانی کی کھال اپنی ذات کیلئے رقم کے عِوَض بیچی تو یوں  بیچنا بھی ناجائز ہے اور یہ رقم اِس شخص کے حق میں  مالِ خَبیث ہے اوراِس کا صَدَقہ کرنا واجِب ہے لہٰذا کسی شَرعی فقیر کو دیدے  ۔ اور توبہ بھی کرے اور اگر کسی کارِ خیر کیلئے مَثَلاً مسجِد میں  دینے ہی کی نیّت سے بیچی تو بیچنا بھی جائز ہے اوراب مسجِد میں  دینے میں  کوئی حَرَج(بھی) نہیں  ۔

مَدَنی قافِلے کے اَخراجات کے بارے میں  سُوال جواب

سُوال :  سات اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی کے سُنّتوں  کی تربیت کے تین روزہ مَدَنی قافلے کے مسافِربنے سب نے اَخراجات کیلئے فی کس 92روپے جمع کروائے مگر ایک نے 63 روپے پیش کئے اور سب مل جُل کر یکساں  طور پر کھانا وغیرہ کھاتے رہے ، اِس صورت میں  کوئی مسئلہ تو نہیں  ؟

جواب : اگر مل جُل کر خرچ کرنا ہو تو یہ ضَروری ہے کہ سب سے یکساں  رقم وُصُول کی جائے ایسا نہ ہو کہ بعض سے کم لی جائے اور کھانا ، پینا اور دیگر سَہولیات برابر برابر دی جائیں  کہ اس صورت میں  کم رقم جمع کروانے والے زِیادہ دینے والوں  کے حصّے میں  بِلا اجازتِ شرعی شامِل ہو کر گناہ گار ہوں  گے ۔   نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ایک مسلمان کا خون ، مال اور عزّت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔  (مُسلِم  ص۱۳۸۶ ۔ ۱۳۸۷حدیث۲۵۶۴)  مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی کوئی مسلمان کسی مسلمان کامال بغیر اس کی اجازت نہ لے ، کسی کی آبروریزی نہ کرے ، کسی مسلمان کو ناحق اور ظلماً قتل نہ کرے کہ یہ سب سخت جرم ہیں ۔         (مراٰۃ ج۶ ص۵۵۳)

    قافِلے میں  سب یکساں  رقم جمع کروائیں

             مَدَنی قافِلے میں  ہر ایک یکساں  رقم جمع کروائے اگر یہ ممکن نہ ہو تو جس کے پاس کم رقم ہو کوئی اسلامی بھائی اُس کی کمی پوری کر دے اگر یہ نہ ہو سکے توامیرِ قافِلہ فَقَط مُبہَم(یعنی غیر واضح)سا اعلان نہ کرے ، بلکہ سب سے فرداً فرداً صَراحَۃً(یعنی ایک ایک سے صاف لفظوں  میں ) اِجازت لے ۔ ہاں  کم رقم دینے والے کی نشاندہی کر کے اُس کو شرمندہ نہ کیا جائے ۔ مَثَلاً امیرِ قافِلہ ایک ایک سے کہے :  مَثَلاً ہم نے سب سے فی کس 92 روپے لئے ہیں  مگر ایک اسلامی بھائی ایسے ہیں  جنہوں  نے 63 روپے دیئے ہیں  ، کیا آپ کی طرف سے اجازت ہے کہ وہ بھی کھانے پینے وغیرہ مُعاملات میں  برابر کے شریک رہیں ؟ جو جو اجازت دیں  گے صِر ف ان ہی کی طرف سے اِجازت مانی جائے گی ۔ بِالفرض کسی نے اجازت نہ دی تو اُس کا حساب الگ رکھنا ضَروری ہے ۔

 



Total Pages: 50

Go To