Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

جواب :   میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی خدمت میں  کچھ اس طرح کا سُوال ہوا :  قصبہ’’ سِکندرہ راؤ ‘‘میں  مدرَسۂ اسلامیہ ہے ۔  اس میں  قراٰن شر یف ، اُردو، اِنگریزی پڑھائی جاتی ہے ، اس کی امداد کیلئے چِرمِ قربانی دینا مُوجِبِ ثواب ہے یا نہیں ؟ الجواب : ’’مَصرفِ قربانی میں  تین باتیں  حدیث میں  ارشادہوئی ہیں : (۱)کھاؤ اور(۲) ذخیرہ رکھو اور (۳) ثواب کا کام کرو ۔ ( ابوداوٗد ج۳ ص ۱۳۲حدیث ۲۸۱۳) اِنگریزی پڑھنا بیشک کوئی بات ثواب کی نہیں ۔ اگر یہ اِحتیاط ہو سکے کہ اُس کے دام صِرف قراٰنِ مجید و علمِ دین کی تعلیم میں  صَرف کئے جائیں  تو دے سکتے ہیں  ورنہ نہیں  ۔ ‘‘  وَ اللّٰہُ تَعَالٰی اَعلَم ۔ (فتا وٰی رضویہ ج۲۰ص۵۰۶)

غُرَبا کو کھالیں  لینے دیجئے

سُوال : اگر کوئی شخص ہر سال غریبوں  کو کھال دیتا ہو، اُس پر انفِرادی کوشِش کر کے اپنے مدرَسے یا دیگر دینی کاموں  کیلئے کھال لینا اور غریبوں  کو محروم کر دینا کیسا ہے ؟

جواب :  اگر واقِعی کوئی ایسا غریبمُسْتَحِق آدَمی ہے جس کا گزارہ اُسی کھال یا زکوٰۃ  و فِطرہ پر موقوف ہے تو اب اُس کو ملنے والے اِن عطِیّات کی اپنے ادارے کیلئے ترکیب کر کے اُس غریب کو محروم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں   ۔ اور اگر ان غریبوں  کا گزارہ کھال وغیرہ پر موقوف نہ ہو تو کھال کا مالِک جس مَصرف میں  چاہے دے سکتا ہے مَثَلاً دینی مدرسے کو دیدے  ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : اگر کچھ لوگ اپنے یہاں  کی کھالیں  حاجت مند یتیموں ، بیو اؤں  ، مسکینوں  کو دیناچاہیں  کہ ان کی صورتِ حاجت روائی یہی ہو ، اُسے کوئی واعِظ ( یعنی وعظ کہنے والا) یا مدرَسے والا روک کر مدرَسے کیلئے لے لے تو یہ اُس کا ظلم ہو گا ۔ وَاللّٰہُ تَعالٰی اَعلَم  ۔          (مُلَخَّص از فتاوٰی رضویہ ج ۲۰ ص ۵۰۱)

کھالوں  کیلئے بے جا ضِد مت کیجئے

سُوال :  اگر کوئی شخص اہلسنَّت کے کسی مدرَسے یاکسی غریب مسلمان کو کھال دینے کا وعدہ کر چکاہو اُس کو بَاِصرار اپنے اِدارے مثَلاً دعوتِ اسلامی کیلئے کھال دینے پر آمادہ کرنا کیسا؟

جواب : ایسا نہ کرے کہ یوں  آپس میں  عداوت ومُنافَرت کا سلسلہ ہو گا ، فِتنوں  ، غیبتوں  ، چغلیوں ، بدگمانیوں ، الزام تراشیوں  اوردل آزاریوں  وغیرہ گناہوں  کے  دروازے کُھلیں  گے  ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ  جلد21 صَفْحَہ 253 پر فرماتے ہیں : ’’مسلمانوں  میں  بِلا وجہِ شَرعی اختِلاف و فِتنہ پیدا کرنا نَیابتِ شیطان ہے ۔ ‘‘  (یعنی ایسے لوگ اس مُعامَلے میں  شیطان کے نائِب ہیں )



Total Pages: 50

Go To