Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

کُفّار کی امداد کرنا کیسا؟

سُوال :  کیا چندے میں  اِس طرح کے کلّی اختیارات لے لینے سے اب سماجی ادارے والے کسی کافِر یا مُرتد کو دوا فراہم کر سکتے یا اس کی مالی امداد بھی کر سکتے ہیں ؟

جواب : نہیں  کر سکتے ۔  کیوں  کہ ’’ نیک اور جائز کام‘‘ کی اجازت لی ہے اور کافِر و مُرتَد کی مالی امداد یا اُ س کی دوا پر رقم خرچ کرنا ’’ نیک اور جائز کام‘‘ نہیں  ۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : غیر مسلِم کو مالِ وَقف سے بھیجنا تو کسی طرح جائز نہیں  کہ وَقف کارِ خیر کیلئے ہوتا ہے اور غیر مسلم کو دیناکچھ ثواب نہیں ۔ کَمَا فِی الْبَحْرِ الرَّائِق وغیرہ (یعنی جیسا کہ اَلْبَحْرُ الرَّائِق  وغیرہ میں  ہے ) (فتاوٰی رضویہ ج ۱۶ ص۲۲۶)

سماجی ادارے کے اَسپتال میں زکٰوۃ کا استِعمال کرنا کیسا؟

سُوال :   سماجی ادارے کے اَسپتال میں  زکوٰۃ استِعمال کی جا سکتی ہے یا نہیں ؟

جواب :  اِس میں  زکوٰۃ کے صحیح استِعمال میں دشواریاں  ہیں  مَثَلاً اگر ادارے والوں  نے  زکوٰۃ کی رقم وُصول کی تو تملیک (یعنی حقدار کو اُس رقم کا مالک بناناہو گا اِس)سے پہلے دوائیں  وغیرہ نہیں  خرید سکتے ۔  البتّہ کسی نے رقم لا کردی کہ اس سے دوائیں  خرید کر زکوٰۃ کے طور پرمُسْتَحِق مریضوں  کو دیدینا تو یہ ابتداء ًدوائیں  خریدنے کا وکیل بنانا اور اس کے بعد زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل بنانا ہوا ۔  لیکن دواؤں  کی صورت میں  زکوٰۃ کی رقم رکھی رہنے اور ادائیگی میں  تاخیر ہونے کا اندیشہ ہے نیز زکوٰۃ کی رقم سے ڈاکٹروں اوردیگر عملے کو تنخواہیں ، جگہ کا کرایہ اور بجلی کا بِل وغیرہ نہیں  دے سکتے ۔

فَلاحی اِداروں  کیلئے زکٰوۃ کے استِعمال کا طریقہ

سُوال :  سَماجی اداروں  کے اَسپتالوں  میں  اور دیگر فلاحی کاموں  میں  زکوٰۃ و فطرہ کے استِعمال کا مُناسِب طریقہ کیا ہے ؟

جواب :  تعمیرات، مُشاہَرات (یعنی تنخواہوں  ) اور کِرایوں وغیرہ میں  زکوٰۃ ، فِطرہ اور واجِب صَدَقات استِعمال نہیں  کئے جا سکتے ۔  ان میں  حقدار کو مالِک بنانا شَرط ہے ، یہاں  تک کہ کسی  مُسْتَحِقِّمریض کا علاج بھی کرنا ہو تو زکوٰۃ کی دوا اُس کے قبضے میں  دینی ہو گی ۔  اگر اُس کو مالِک بنائے بِغیر زکوٰۃ کے پیسے سے انجکشن لگا دیا آپریشن یا ڈاکٹر کی فیس میں  ادا کر دیئے تو زکوٰۃ نہیں  ہو گی ۔  لہٰذا فِطرہ و زکوٰۃ اور واجِب صَدَقات کا شَرعی حِیلہ کر لیا جائے ۔  اب اِس رقم سے سیِّدو امیر غریب و فقیر ہر ایک کا علاج کرنا جائز ہوگیا ۔ بہتر یہ ہے کہ قربانی کی کھالیں  اور دیگر صَدَقاتِ نافِلہ دینے والوں  نیز جس فقیرِشرعی سے زکوٰۃ وغیرہ کا حیلہ کیا ہے وہ جب رقم وغیرہ لوٹائے تو اُس سے ہر نیک اور جائزکام میں  خرچ کرنے کے کُلّی اختیارات لے لئے جائیں ۔ ہر رسید پر یہ عبارت لکھ دی جائے  : ’’آپ اجازت دیجئے کہ آپ کانفلی چندہ یا قربانی کی کھال ہمارا ادارہ جہاں  مناسب سمجھے وہاں  نیک و جائز کام میں  خرچ کرے ۔ ‘‘دیکھئے صرف لکھ دینا کافی نہیں ، چندہ یا کھال لیتے



Total Pages: 50

Go To