Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

اورصِلہ عطا فرمانے کو محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ساصاحِبُ التّاج، خداجانے کیا کچھ دیں  اور کیسا کچھ نِہال فرما دیں ، ایک      نگاہِ لطُف اُن کی جُملہ مُہِمّاتِ دو جہاں  کو( یعنی دونوں  جہاں  کی تمام مشکلات کے حل کیلئے ) بس ہے ، بلکہ خود یہی صِلہ (بدلہ ) کروڑوں  صلے ( بدلوں ) سے اعلیٰ و اَنفس (یعنی نفیس ترین) ہے ، جس کی طرف کلمۂ کریمہ : اِذَا لَقِینِی ( جب وہ روزِ قِیامت مجھ سے ملے گا ) اشارہ فرماتا ہے ، بَلَفْظِ اِذا   تعبیر فرمانا(یعنی’’ جب‘‘ کا لفظ کہنا)  بِحَمدِ اللّٰہ روزِ قِیامت وعدۂ وِصال و دیدارِ محبوبِ ذی الجلال کا مُثردہ سُناتا ہے ۔ (گویا سیّدوں  کے ساتھ بھلائی کرنے والوں کو قیامت کے روز تاجدارِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی زیارت و ملاقات کی بشارت ہے ) مسلمانو! اور کیا درکار ہے ؟ دوڑو اور اِس دولت و سعادت کو لو ۔  وَ بِاللّٰہِ التَّوفِیق ۔

کم مالدار کیلئے سیِّد کی خدمت کا طریقہ

            اور مُتَوَسِّطحال والے ( یعنی جو زیادہ مالدار نہ ہوں ) اگر مَصارِف مُستَحَبَّہ کی وُسعت نہیں  دیکھتے تو  بِحَمدِ اللّٰہ وہ تدبیر ممکن ہے کہ زکوٰۃ کی زکوٰۃ ادا ہو اور خدمتِ سادات بھی بجا ہو یعنی کسی مسلمان مَصْرَفِ زکوٰۃ مُعْتَمَد عَلیہ ( یعنی کسی قابلِ اعتماد فقیرِ شرعی ) کو کہ اس کی بات سے نہ پِھرے ، مالِ زکوٰۃ سے کچھ روپے   بہ نیّتِ زکوٰۃ دے کر مالِک کر دے ، پھر اُس سے کہے  : ’’تم اپنی طرف سے فُلاں  سیِّد کی نَذر کردو ‘‘اِس میں  دونوں  مقصود حاصِل ہو جائیں  گے کہ زکوٰۃ تو اِس فقیر کو گئی اور یہ جو سیِّدنے پایا نَذرانہ تھا، اس کا فرض ادا ہو گیا اور خدمتِ سیِّدکا کامِل ثواب اسے اور فقیر دونوں  کو مِلا ۔  ( فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج ۱۰ ص ۱۰۵ تا ۱۰۶)

  حِیلے کے بعد رقم لوٹانے کے مُحتاط اَلفاظ

سُوال :  چندہ دیتے یا حِیلے میں  رقم لوٹاتے وَقت دینی یا سماجی کام کیلئے کُلّی اختیارات دینے کے مُحتاط الفاظ بتا دیجئے ۔

جواب :  (زکوٰۃ فطرہ وغیرہ صَدَقات ِ واجبہ کے علاوہ)نفلی چندہ دیتے یا حیلے میں  رقم لوٹاتے وَقت دینے والا یہ کہے : ’’ یہ رقم دعوتِ اسلامی (یا یہ ادارہ ) جہاں  مناسِب سمجھے وہاں  نیک و جائز کام میں  خَرچ کرے ۔ ‘‘

زکٰوۃ کے وکیل کیلئے مُحتاط اَلفاظ

سُوال :  شَرعی فقیر اپنے وکیل کوزکوٰۃ فطرہ لیکر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں  میں  صَرف کرنے کے کُلّی اختیارات کس طرح دے ؟

جواب :  وکیل کو کہنے کے مُحتاط الفاظ یہ ہیں  : ’’ آپ میرے لئے جو بھی زکوٰۃ  فِطرہ وُصول کریں  اُسے دعوتِ اسلامی ( یا فُلاں  فرد یا ادارے ) کو یہ کہہ کر دے دیجئے کہ یہ رقم دعوتِ اسلامی ( یا فُلاں  فرد یا ادارہ ) جہاں  مناسِب سمجھے نیک و جائز کام میں  خرچ کرے ۔ ‘‘

 



Total Pages: 50

Go To