Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

کی اشاعت و تقسیم وغیرہ میں  استِعمال کرنا کیسا؟

جواب :  جائز ہے ۔

کیا حیلے کی رقم سے تحفہ یا نذرانہ دے سکتے ہیں ؟

سُوال :  بعض لوگ زکوٰۃ کی رقم کا حِیلہ کر کے اپنے پاس محفوظ رکھ لیتے ہیں  پھر اُس رقم سے بِلا امتیازِ امیر و غریب ہر ایک کو تحائف وغیرہ تقسیم کرتے ہیں ، بلکہ اُسی حیلہ شدہ رقم سے عُلَماء و مشائخ کو نذرانہ بھی پیش کرتے ہیں !کیا اِس طرح زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے ؟

جواب :  زکوٰۃ تو ادا ہو جاتی ہے مگراِس طرح بانٹنا اور بالخصوص عُلَماء و مشائخ کو حیلہ شدہ رقم سے نذرانے دینا کسی طرح مناسِب نہیں ۔ فتاویٰ فقیہِ ملّتجلد اوّل صَفْحَہ 308 پر حضرتِ فقیہِ مِلّت مفتی جلالُ الدّین احمد امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کے مُصَدَّقہ(تصدیق کردہ) فتوے کا اِقتِباس مُلاحَظہ ہو ۔  ’’زکوٰۃ و صَدَقۂ فِطر کے اصل مُستَحِقِین غُربا و مساکین ہیں ۔ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ      ( پ ۱۰ توبہ ۶۰)

{ترجَمۂ  کنزالایمان :  زکوٰۃ تو انہیں  لوگوں  کیلئے ہے جو محتاج اورنِرے نادار ہوں   ۔ }

            لیکن وہ مدارِسِ اسلامیہ جن میں  خالِص اسلامی تعلیم ہوتی ہے دین کی بقا کے لئے ان میں ضَرورۃً حِیلے کے بعد صَرف کرنے کی اجازت دی گئی ۔ مگر اب لوگ دُنیاوی اسکول اور کالج جن میں  برائے نام دینی تعلیم ہوتی ہے زکوٰۃ و صَدَقاتِ واجبہ کی رقم حِیلۂ شرعی سے خرچ کر کے غُرباء و مساکین کی حق تلفی کرتے ہیں  جو  سرا سرغَلَط ہے ۔ ‘‘میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : اَغنیائے کثیرُ المال (یعنی بڑے سرمایہ داروں  کوچاہئے کہ) شکرِ نعمت بجا لائیں  ، ہزاروں  رُوپے فُضول خواہِش یا دُنیوی آسائش یا ظاہِری آرائش میں  اُٹھانے والے ( یعنی کثیر رقم فُضول خرچیوں  اور آسائشوں  میں  اُڑانے والے ) مَصارفِ خیر ( یعنی بھلائی کے کاموں  )میں  حِیلوں  کی آڑ نہ لیں  ، مُتَوَسِّطُ الحال (مُ ۔ تَ ۔ وَسْ ۔ سِطُ ۔ الحال، یعنی درمیانے دَرَجے کے صاحبِ حیثیت حضرات) بھی ایسی ضَرورَتوں  کی غَرَض سے خالِص خُدا ہی کے کام میں صَرف کرنے پر اقدام کریں  ۔ نہ یہ کہ مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّاُن کے ذَرِیعے سے ادائے زکوٰۃ کانام کر کے روپیہ اپنے خُردبُرد میں  لائیں  کہ یہ اَمر مقاصدِ شَرع کے بالکل خلاف اور اس میں  اِیجابِ زکوٰۃ (یعنی زکوٰۃ کوواجب کرنے )کی حکمتوں  کا یکسر اِبطال (یعنی سرا سر باطل کردینا یا ختم کر دینا)ہے تو گویا اِس کا بَرَتنا(یعنی استعمال کرنا) اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ کو فریب(یعنی دھوکہ ) دینا ہے ۔  ربُّ العٰلمِین سے پناہ چاہتے ہیں ۔  وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ



Total Pages: 50

Go To