Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

سُواری کے جانور ( یا اسکوٹر یا کار) ، کاریگروں  کے اَوزار، پہننے کے کپڑے ، خِدمت کیلئے لونڈی ، غلام، عِلمی شُغُل رکھنے والے کے لیے اسلامی کتابیں  جو اس کی ضَرورت سے زائد نہ ہوں  ٭ اِسی طرح اگر مَدیُون ( یعنی مقروض ) ہے اور دَین ( یعنی قرضہ ) نکالنے  کے بعدنِصاب باقی نہ رہے تو فقیر ہے اگر چہ اس کے پاس ایک تو کیا کئی نِصابیں  ہوں  ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۹۲۴، رَدُّالْمُحتار ج۳ص۳۳۳)

 مِسکین کی تعریف

سُوال :  مسکین کی تعریف بھی ارشاد ہو ۔

جواب :    مِسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں  تک کہ کھانے اور بدن چُھپانے کیلئے اِس کامُحتاج ہے کہ لوگوں  سے سُوال کرے اور اسے سُوال حلال ہے ۔  فقیر ( یعنی جس کے پاس کم از کم ایک دن کا کھانے کیلئے اور پہننے کیلئے موجود ہے اُس) کوبِغیر ضَرورت و مجبوری سُوال حرام ہے ۔ (عالمگیری ج۱ص۱۸۷ ۔ ۱۸۸، بہارِ شریعت ج ۱ ص ۹۲۴ )

  حِیلہ کرنے کا آسان طریقہ

سُوال : زکوٰۃ وفِطرے کے حیلے کا آسان طریقہ بتا دیجئے ۔

جواب :  کسی فقیرِ شَرعی کویا اس کے وکیل کو مالِ زکوٰۃ وفِطرہ کا مالِک بنا دیا جائے مَثَلاً اُس کو نوٹوں  کی گڈّی یہ کہہ کر دیدی کہ یہ آپ کی مِلک ہے ، وہ اُس کو ہاتھ میں  لیکر یا کسی طرح قبضہ کر لے اب یہ اِس کا مالِک ہو گیا اور کسی بھی کام (مَثَلاًمسجِدکی تعمیر وغیرہ) میں  صَرف کردے ۔  یوں  زکوٰۃ ادا ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں  ثواب کے بھی حقدار ہوں  گے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ  ۔

فقیر کے وکیل سے کیا مُراد ہے ؟

سُوال  : آپ نے کہا  : ’’شَرعی فقیر یا اس کے وکیل ‘‘یہاں  وکیل سے کیا مُراد ہے ؟

جواب :  اِس سے مُراد وہ شخص ہے جسے شَرعی فقیر نے اپنی زکوٰۃ وُصُول کرنے کی اجازت دی ہو یا اس نے خود اس سے اجازت لی ہو  ۔

کیا وکیل زکٰوۃ پر قبضہ کرنے کے بعد خرچ کر سکتا ہے ؟

سُوال  : تو کیا وکیل بھی مالِ زکوٰۃ پر قبضہ کرنے کے بعد اسے کسی بھی کام میں  صَرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے ؟

جواب :  نہیں   ۔ البتّہ اگر اسے فقیر نے اجازت دی ہو یا اس نے خود اجازت لی ہو تو کرسکتا ہے  ۔

وکیل کا قبضہ مُوَکِّل ہی کا قبضہ کہلائے گا

 



Total Pages: 50

Go To