Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

کاموں  میں خَرچ نہیں  کر سکتے ؟

جواب : نہیں  کر سکتے ۔  چندہ یااس کھال سے ملنے والی رقم کو دعوتِ اسلامی کے طے شدہ طریقِ کارکے مطابِق ہی خَرچ کرنا ہو گا، اگرعُرف سے ہٹ کر کسی اور نیک کام میں  خَرچ کر دیا تو تاوان ادا کرنا ہو گا یعنی جس کسی نے جتنی رقم خرچ کی وہ اُسے پلّے سے لوٹانی پڑے گی اور توبہ بھی کرنی ہو گی ۔

     کُلّی اختیارات کے مُحتاط الفاظ

سُوال : زکوٰۃ فِطرہ وغیرہ عَطِیّات لیتے وقت کس طرح کے الفاظ کہے جائیں  جس سے ہر طرح کے نیک کام میں  استِعمال کی اجازت ہو جائے ۔

جواب : زکوٰۃ ، فِطرہ ، جو کہ صَدَقاتِ واجِبہ میں  سے ہیں  ان میں  کُلّی اختیارات لینے کی حاجت نہیں  کیوں  کہ ان میں  مستحق کو مالِک بنانا شَرط ہے ۔  لوگ اگر چِہ زکوٰۃ یا فطرہ بظاہِر دعوتِ اسلامی کو دیتے ہیں  مگر درحقیقت وہ دعوتِ اسلامی والوں  کواپنی زکوٰۃ یا فطرے کواُس کے صحیح مَصرف میں  استِعمال کرنے کیلئے ’’ وکیل‘‘ بناتے ہیں  ۔ لہٰذا دعوتِ اسلامی میں  پہلے اِس کا شَرْعی حِیلہکیا جاتا ہے پھر اِس کو مختلف نیک اور جائز کاموں  میں  خرچ کیا جاتا ہے ۔  صَدَقاتِ واجِبہکے علاوہ قربانی کی کھالیں  یا جوعام چندہ دیا جاتا ہے ان کو صدقاتِ نافِلہ ( یعنی نفلی صدقے ) کہتے ہیں  ۔ ان کا شرعی حیلہ کرنے کی حاجت نہیں  ہوتی ۔ چُنانچِہ ایسا چندہ یا قربانی کی کھال لیتے وقت مُحتاط الفاظ یہ ہیں  : ’’آپ اجازت دیدیجئے کہ آپ کا چندہ یا قربانی کی کھال دعوتِ اسلامی جہاں  مناسِب سمجھے وہاں  نیک وجائز کام میں  خرچ کرے  ۔ ‘‘یہ الفاظ سُن کر دینے والا ’’ ہاں  ‘‘ کہہ دے یا کسی طرح بھی آپ کی بات سے مُتَّفِق ہو جائے تو اب ہر طرح کے نیک و جائز کام میں  استعمال کرنے کی شرعاً اجازت مل جائیگی اور یوں  کافی سہولت رہے گی ۔  (یاد رہے ! چندہ یا کھال کے مالِک کی اجازت ہی دُرُست مانی جائے گی وہاں  موجود کسی اور شخص یا بچّے کا سر ہِلا دینا کافی نہیں  بلکہ’’وکیل‘‘ یا نمائندے کی اپنی مرضی سے دی ہوئی اجازت بھی (کئی صورتوں  میں )ناکافی ہوگی اُسے چاہئے کہ اپنے ’’ مُوَکِّل‘‘ (یعنی جس نے ا ِس کو وکیل یعنی نمائندہ کیا ہے اس )سے صَراحَۃًیعنی کھلے الفاظ میں  اِس کی اجازت لائے یافون پر ہاتھوں  ہاتھ بات کرلے یاکروا دے ) بہتر یہ ہے کہ مذکورہ محتاط الفاظ والا جُملہ رسید پر لکھ دیا جائے مگر جو شخص چندہ یا کھال دے اُس کو ہاتھوں  ہاتھ پڑھا یا یا پڑھ کر سنادیا جائے ۔  صرف رسید دیکر دل کو نہ منالیا جائے کہ ہم نے اجازت لے لی ہے ، کیوں  کہ یہاں  معاملہ مجہول ہے وہ اردو پڑھنا نہ جانتا ہو، یا مذکورہ عبارت نہ پڑھے یا پڑھ کر سمجھ نہ پائے ، یا رسید ہی فوراً گم ہو جائے یا پڑھ کر اتِّفاق نہ کرے کوئی بھی صورت ہو سکتی ہے ۔ نیز’’ وکیل‘‘ (نمائندے ) کی اجازت کوکافی تصوُّرنہ کیاجائے بلکہ کسی طرح اصل مالِک سے فون پر رابِطہ کر کے یا اس سے مل کر مذکورہ الفاظ میں  کلّی اختیارات کی واضح طور پر ترکیب بنائی جائے ۔

 



Total Pages: 50

Go To