Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

جواب : انتِظامیہ کی طرف سے کتابوں  وغیرہ پر نمبر لکھ د یئے جائیں  اور طالبِ علم ان کو یاد کرلیں ۔ طَلَبہ اپنی طرف سے اپنا نام وغیرہ کچھ نہ لکھیں  ۔

مدرَسے کا ڈیسک توڑ ڈالا تو؟

سُوال :  کسی کی وجہ سے مدرَسے کا ڈَیسک ٹوٹ گیا کیا کرے ؟

جواب :   اگر اس کی اپنی غَلَطی سے ڈَیسک ٹوٹا یا کوئی سا نقصان ہوا تو تاوان دینا ہوگا اگر اپنی غلطی سے ایسانہیں ہوا تو اِس پرمُوَاخذَہ نہیں  ۔

مدرَسے کے ڈیسک وغیرہ پر کچھ لکھنا

سُوال : مدرَسے کے ڈَیسک ، دروازے اوردیوار وغیرہ پرکچھ لکھنا کیسا؟

جواب :   مدرَسہ اور مسجِد کی چیزوں  پر کُجا، کسی دوسرے کے مکان، دُکان دیوار ، دروازے یاگاڑی اور بس وغیرہ چیزوں  پربھی بِلااجازتِ شرعی کچھ لکھنا اسٹیکر یا اشتہار چَسپاں  کرنا ممنوع ہے ۔ مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّبعض بداَخلاق اور گندی ذِہنیت کے لوگ مسجِدوں ، مدرَسوں  یا عوامی اِستِنجاخانوں  کی دیواروں  اور دروازوں  پر فُحش باتیں  تحریر کرتے اورگندی تصویر یں  بناتے ہیں  ان کو اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے ہوئے توبہ کر لینی چاہئے نیز اس کااِزالہ بھی کرنا ہوگا ۔

اِزالے کا طریقہ

سُوال :  مدرَسے وغیرہ کی دیوار یا ڈیسک پر کچھ لکھااور اب مسئلہ معلوم ہو جانے پر نادِم ہے کیا کرے ؟ اِزالے کی کیا صورت ہوگی؟

جواب :  اُس لکھائی کو اِس طرح صاف کرے کہ اُس چیز کو کسی طرح کانقصان نہ پہنچے ۔ مَثَلاً ممکن ہو تو پانی والے کپڑے سے آہِستہ آہِستہ مِٹائے ، اگر رنگ خراب ہو جائے یا دھبّہ پڑ جائے تو جو رنگ پہلے سے لگا ہوا ہے اُسی طرح کا رنگ اِس طرح لگائے کہ جونَقص یا بدنُمائی پیدا ہو گئی تھی وہ دُور ہوجائے ۔ توبہ بھی کرے ۔ اِزالہ کرنے سے قَبل ضَرورتاً مدرَسے کی انتِظامیہ یا اُس گھر یا دکان کے مالِک کو اعتِماد میں  لے لے تا کہ کسی قسم کافساد وغیرہ نہ ہو ۔  وَقف کے مقامات مَثَلاً مسجِد یا مدرَسے کی انتِظامیہ کامُعاف کر دینا کافی نہ ہوگا اِزالہ ضَروری ہے  ۔ ہاں  اگر کسی کی ذاتی دیوار وغیرہ پر لکھا تھا، چاکنگ وغیرہ کی تھی تو اُس کا(چوکیدار یا ملازِم یا کرائے دار وغیرہ نہیں  بلکہ اصل) مالِک اگر مُعافی دیدے تو اِزالے کی حاجت نہیں  ۔

  چندہ کے کُلّی اختِیارات کا مَسئَلہ

سُوال : اگردعوتِ اسلامی کیلئے چندہ یا کھال دینے والے نے دیتے وَقت’’ کُلّی اختیارات ‘‘ دیدیئے کیا پھر بھی فَلاحی



Total Pages: 50

Go To