Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

تیرے منہ پرمَردود ہے ۔    ([1])یہاں  تک کہ تُو یہ مالِ حرام(جو) کہ تیرے قبضے میں  ہے اُس کے  مُستَحِقَّوں  کو واپَس دے ۔  حدیث میں  ہے :  رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ پاک ہے ، پاک ہی چیزکو قَبول فرماتا ہے ۔ ‘‘([2])

 سود نہ لیں تو بینک والے غَلَط استِعمال کر سکتے ہیں !

سُوال :  آج کل ’’ سیونگ اَکاؤنٹ(SAVING ACCOUNT) پر‘‘ بینک سے سُود ملتا ہے ، اگر ہم نہ لیں تو بینک والے اِس کاغَلَط استِعمال کرتے ہیں  بد مذہبوں  پرصَرف کرنے کا بھی امکان رہتا ہے ، کیا ایسی صورت میں  بھی ہم سُود لیکر بِغیر نیتِ ثواب کسی کارِ خیر میں خرچ نہیں کر سکتے ؟

جواب :  ایسی صورت میں  بھی اگر بینک سے سود لیں  گے تو گنہگار ہوں گے ۔ سیونگ اَکاؤنٹ(SAVING ACCOUNT) کُھلوانا ہی جائز نہیں  کیوں  کہ اس پر سُود بنتا ہے ۔ عُلَمائِ کرام سیوِنگ اکاؤنٹ کھلوانے سے منع فرماتے ہیں  ہاں  کرنٹ اَکاؤنٹ (CURRENT ACCOUNT)  کُھلوانے کی اجازت دیتے ہیں  کیوں  کہ اِس میں  سود نہیں  بنتا ۔  یاد رکھئے !شریعت میں  سُود حرامِ قَطعی ہے ، سُود لینے والا، دینے والا، اس کی گواہی دینے والا، اِس کا کاغذ لکھنے والا سبھی گنہگار اور عذابِ نار کے حقدار ہیں  سود کی مَذَمَّت پر تین عبرتناک روایات پڑھئے اور خوفِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے لرزیئے :

{۱}خون کی نَہْر

            سرکارِ والا تَبار، بے کسوں  کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’میں  نے شبِ معراج دیکھا کہ دو شخص مجھے اَرضِ مُقدَّس (یعنی بیتُ المقدَّس)لے گئے ، پھر ہم آگے چل دئیے یہاں  تک کہ ہم ایک  خون کی نہر پر پہنچے جس کے اندر ایک شخص کھڑا ہوا تھا، اورنَہْر کے کَنارے پر دوسراشخص کھڑا تھا جس کے سامنے پتھَّر رکھے ہوئے تھے ، نَہر میں  موجود شخص جب بھی باہَر نکلنے کا ارادہ کرتا توکَنارے پر کھڑا شخص ایک پتھَّر اس کے منہ پر مار کر اسے اس کی جگہ لوٹا دیتا، اسی طرح ہوتا رہا کہ جب بھی وہ (نہر والا)شخص کَنارے پر آنے کا ارادہ کرتا تو دوسراشخص اُس کے منہ پر پتھَّر مار کر اسے واپَس لوٹا دیتا، میں  نے پوچھا : ’’یہ نَہر میں  کون ہے ۔ ‘‘ جواب ملا :  ’’یہ سود کھانے والا ہے ۔ ‘‘ ( بُخارِی ج۲ ص ۱۴ حدیث  ۲۰۸۵)

{۲} گویا ماں  کے ساتھ زِنا

          خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’  سُود، 72گناہوں  کا مجموعہ ہے ، ان میں سب سے ہلکا اِس طرح ہے جیسے آدمی اپنی ماں سے زِناکرے اور سب سے بڑھ کر زیادتی کسی



[1]    اتحاف السادۃ المتقین بشرح احیاء علوم الدین ، ج۴، ص ۷۲۷ ۔

[2]    صَحِیح مُسلِم، ص۵۰۶حدیث : ۱۰۱۵



Total Pages: 50

Go To