Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا فتویٰ مُلاحَظہ ہو ۔ چُنانچِہ ایک سُوال کے جواب میں  فرماتے ہیں  : ’’ جبکہ وہ اَشرَفیاں  وکیل ( یعنی چندہ لینے والے ) نے اپنے مال میں خَلْط کر لیں ( یعنی اِس طرح مِلاڈالیں ) کہ اب تمیز نہیں  ہو سکتی (تو چندہ دینے والے کا) وہ مال ہلاک ہو گیا اور وکیل (یعنی لینے والے ) پراس کی ضَمان(تاوان) لازِم ہوئی ۔  کیونکہ کسی کے مال کو اپنے مال میں  ملا دینا اسے ہَلاک کرناہے اور ہَلاک کرنے والا غاصِب (یعنی غصب کرنے والے )کی طرح ہے اور غَصْب  پر ضَمان (تاوان)  ہے  ۔ ‘‘اِلَخ (فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص ۵۵۴مُلَخَّصاً )

مالِ غَصْب کی تعریف    

سُوال : مالِ غَصْب کی کیا تعریف ہے ؟

جواب : صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں  : مالِ مُتَقَوِّم(یعنی جسے شریعت نے مال قرار دیا ہو) مُحْتَرَم (یعنی شریعت نے جسے قابلِ حرمت قرار دیا ہے ) منقول (یعنی قابلِ مُنتَقِلی مال وسامان ) سے جائز قبضے کو ہٹا کر ناجائز قبضہ کرنا غَصْب ہے جبکہ یہ قبضہ خُفیَۃً ( یعنی پوشیدہ طور پر)نہ ہو ۔ (بہارِ شریعت ج۳ص۲۰۹)    

سُود سے مسجِد کے اِستِنجاخانے بنانا کیسا؟

سُوال :   سُودی رقم سے غریبوں  کی مدد کرنا یا مسجِد کے اِستِنجاخانے تعمیر کروانا کیسا؟ کیا سُودی رقم چندہ میں  دی جا سکتی ہے ؟

جواب :  کسی نے سُود اگر چِہ نیک کاموں  میں  خرچ کرنے کیلئے لیا تاہَم اُسے سُود لینے کا گُناہ ہوگا ۔ کسی بھی نیک کام میں  سُود اور مالِ حرام نہیں  لگایا جا سکتا ۔  بلکہ سودی مال کے مُتَعلِّق حکم یہ ہے کہ جس سے لیا اسے واپس کریں  یا اس مال کو صدقہ کریں  جبکہ رشوت ، چوری یا گناہوں  کی اجرت کے بارے میں  حکم یہ ہے کہ انہیں  بھی نیک کاموں  میں  خرچ نہیں  کرسکتے بلکہ ان میں  تو یہ ضَروری ہے کہ جس کی رقم ہے اُسے ہی واپس لوٹائے اور وہ نہ رہے ہوں  تو اس کے وُرَثاء کو دے اور وہ بھی نہ ملیں  تو پھر صَدَقہ کرنے کا حکم ہے چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : جو مال رشوت یا تَغَنِّی(یعنی گانے ) یا چوری سے حاصل ہوا اس پر فرض ہے کہ جس جس سے لیا ان پر واپس کر دے ، وہ نہ رہے ہوں  ان کے وُرثہ کو دے ، پتا نہ چلے تو فقیروں  پر تصدُّق کرے ۔  خریدوفروخت کسی کام میں  اس مال کا لگانا حرامِ قطعی ہے بِغیر صورتِ مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وَبال سے سُبکدَوشی کا نہیں  یہی حکم سُود وغیرہ عُقُودِ فاسِدہ کا ہے  فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں  جس سے لیا بِالخصوص انہیں  واپَس کرنا فرض نہیں  بلکہ اسے اختیار ہے کہ(جس سے لیا ہے )  اسے واپَس دے خواہ ابتِدا ء ً  تصدُّق(یعنی خیرات)



Total Pages: 50

Go To