Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

ہے ۔  (تفصیلی معلومات کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد 23صَفْحَہ 623 تا630 کا مُطالَعَہ فرمایئے )

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذہبی و فلاحی کام اکثر چندے ہی پر چلتے ہیں  ، جوں  توں  کر کے چندہ تو کر ہی لیا جاتا ہے مگر علمِ دین کی کمی کے باعِث ایک تعداد ہے جو اِس کے استِعمال میں  شَرعی غلطیاں  کر کے گناہوں  میں  جا پڑتی ہے ۔  چندہ وصول کرنے والوں  کیلئے چندے کے ضَروری مسائل کا سیکھنا فرض ہے لہٰذانیکیاں  کمانے اور مسلمانوں  کو گناہوں  سے بچانے کے مقدَّس جذبے کے تحت ثواب کی نیّت سے چندے کے مُتَعَلِّق سُوالاً جواباً معلومات فراہم کرنے کی حقیر کوشش کی ہے  ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کی ’’ مجلسِ اِفتاء‘‘ اور’’ مجلس المدینۃ العلمیۃ‘‘ کے عُلَمائے کرام کَثَّرَ ھُمُ اللّٰہُ السَّلامکو اجرِ عظیم عطا فرمائے کہ انہوں  نے کتابِ ہٰذا کے مُندَرَجَاتکی بڑی عَرَق ریزی کے ساتھ تفتیش (چھان بین) فرمائی اور بعض مقامات پر اَہَم روایات و جُزئیات کا اِضافہ کر کے اِس کی افادیت دوبالا کردی ! بِلا خوفِ لَومَتِ لَائِم اس حقیقت کا اعتِراف کرتا ہوں  کہ یہ کتاب انہیں  کی خصوصی رہنمائی اور فیضانِ نظر کاثمر ہے ورنہ

سچی بات یہی ہے کہ جس کا نام الیاس قادری ہے اُس کو صحیح طریقے سے قلم پکڑنا بھی نہیں  آتا ۔ یاربِّ کریم! اپنے گنہگار ترین بندے الیاس سے ہمیشہ کیلئے راضی ہو جا اور بے پوچھے بخش دے ۔ اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری اُمّت کی مغفِرت فرما ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

         ہراسلامی بھائی اور اسلامی بہن لازِماً اس کتاب کا مُطالَعَہ کرے اور ضَرورتاً بار بار پڑھے تا کہ مسائل اَزبَر ہو جائیں  ، جہاں  تک بن پڑے اپنے علاقے میں  واقِع مسجدوں  ، مدرسوں ، مذہبی و سماجی اداروں  کے ذمّے داروں  نیزسنّی عالموں  کی خدمتوں  میں  بہ نیّتِ ثواب یہ کتاب تحفۃً پیش کیجئے ۔

دُعائے عطّار

            یاربِّ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ ! اِس کتاب کامُطالَعَہ کرنے والوں  اور والیوں کا حافِظہ خوب قوی کردے کہ ان کو صحیح مسائل یاد رہیں  اور عمل کرنے اور دوسروں  کو سکھانے کی سعادت نصیب ہو ۔  یااللہ عَزَّ وَجَلَّ! جواس کتاب کو اپنے عزیزوں  کے ایصالِ ثواب کیلئے نیز دیگر اچّھی اچّھی نیتوں  کے ساتھ تقسیم کرے ، بالخصوص مسجدوں ، مدرسوں ، مذہبی و سماجی اداروں  کے ذمّے دار وں  اور سنّی عالموں  کے ہاتھوں  میں  پہنچائے ، اُس کا اور اُس کے طفیل مجھ گنہگاروں  کے سردار کا بھی دونوں  جہاں  میں  بَیڑا پار کردے ۔  یااللہ عَزَّ وَجَلَّ!ہم سب کو اخلاص کی لازوال دولت سے مالا مال فرما ۔                        

مرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو     کر اخلاص ایسا عطا یا الٰہی

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 



Total Pages: 50

Go To