Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

جاننے والے کیلئے مزید کئی طرح کے عُلوم سیکھنے فرض ہیں  جن کی ہلکی سی جھلک آپ نے فتاوٰی رضویہ شریف کے جُزیئے میں مُلاحَظہ فرمائی ۔  لہٰذا ہمّت کیجئے اور سیکھنے پر کمر بسَتہ ہو جایئے ۔  میری ہر ذِمّے دار اسلامی بھائی کی خدمت میں  عاجِزانہ مَدَنی التجا ہے کہ جس کو چندہ یا قربانی کی کھالیں  وُصول کرنے کی اجازت دیں  اُس کی شَرعی مسائل میں  تربیت بھی فرمائیں   ۔

چندہ کرنے والوں  کی تربیت کا طریقہ

سُوال :  چندہ اور کھالیں  وُصول کرنے والوں  کی تربیت کی کیا صورت ہونی چاہئے ؟

جواب : فتاویٰ رضویہ اور بہارِ شریعت وغیرہ مُبارک کتابیں  ان مسائل سے مالا مال ہیں  ان کا مُطالَعہ کیا جائے ۔  نیز یہی کتاب : ’’چندے کے بارے میں  سوال جواب ‘‘ پڑھنے کی اسلامی بھائیوں  اور اسلامی بہنوں  کو سخت تاکید کیجئے ، وَقت مخصوص کر کے اِس کتاب کے درس کا سلسلہ فرمایئے ، جو مسئلہ سمجھ میں  نہ آئے اُسے اپنی اٹکل سے حل کرنے کی بھول کرنے کے بجائے عُلَمائے اہلسنّت سے رُجوع کیجئے ۔  سمجھنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اِس کتاب سے مطلوبہ’’ سُوال جواب‘‘ عالم صاحِب کو دکھا کر رہنمائی کی درخواست کیجئے ۔  ضِمناً مشورہ ہے کہ عُلَمائے کرام کی خدمت میں  بصد نِیاز یہ کتاب نَذر کر کے اُن کی دُعائیں  لیجئے  ۔ اگر دعوتِ اسلامی کی ہر ذَیلی سَطح کا ذِمّے دار اسلامی بھائی(اور اسلامی بہن ) اپنی اور اپنے اپنے ماتَحتوں  کی تربیت کا بِیڑا اُٹھا لے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ لاکھوں  اسلامی بھائیوں  اور اسلامی بہنوں  کی تربیت ہو جائے گی ۔ اِس سلسلے میں  اوپر سطح کے ذِمّے دار وں  کومل کر’’ مَدَنی تحریک‘‘ چلانی ہوگی ۔

چندہ ذاتی اَکاؤنٹ میں  جَمْعْ کروانا کیسا؟

سُوال : کسی نے مدرَسے کے چندے کی رقم اپنی ذاتی رقم میں  اِس طرح ملا دی کہ ایک ہی طرح کے سب نوٹ آپس میں  مل گئے اور مقصد یہ تھا کہ جب ضَرورت پڑے گی نکال کر مدرَسے پر خرچ کردوں  گا ۔  اُس کیلئے کیاحکم ہے ؟

جواب :   اگرچِہ اُس کی نیّت رقم کھاجانے کی نہیں  تھی تاہَم وہ گنہگارہے کیوں  کہ چندے کی رقم اپنے ذاتی مال میں  اِس طرح ملادینا کہ نوٹوں  وغیرہ کی شناخْتْ نہ رہے جائز نہیں  ۔ نیز اِس میں  مزید قَباحَتیں  بھی ہیں  مَثَلاً اگر کسی کو معلوم ہوگیا تو تُہمت لگے گی ، فوت ہوگیا تو وہ رقم ڈُوب جانے کا  اِمکان موجود ہے ۔  چندے کی رقم اپنے گھر وغیرہ میں  رکھنی پڑے تب بھی اُس میں  چٹھّی لکھ کر ڈالدینی چاہئے کہ یہ فُلاں  فُلاں  مدّ میں  فُلاں  فُلاں  سے اِتنا اِتنا لیا ہوا چندہ ہے  ۔ بَہرحال کوئی بھی ایسی تدبیر اِختیار کرنی چاہئے جس سے دنیا میں  بعد والوں  کو آسانی اور آخِرت میں  اپنی    گُلو خلاصی ہو ۔ چندے کی رقم اپنے مال میں  خلْط مَلْط کردینے کی مُمانَعت کیمُتَعَلِّقمیرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولاناشاہ



Total Pages: 50

Go To