Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

جواب :  کسی سیِّد صاحِب نے مَثَلاًزید کے ایک لاکھ روپے کی زکوٰۃ غیر مَصرَف میں  صَرف کردی تو اب بطورِ چندہ ملی ہوئی زکوٰۃ کا کسی فقیرِ شَرعی کو مالِک بنادیا جائے ۔ فقیرِ شَرعی قبضہ کر لینے کے بعد وہ رقم سیِّد صاحِب کی نَذر کردیں  ، اب سیِّد صاحِب قبضہ کرلینے کے بعد اُس رقم کو تاوان کے مَدّمیں  ادا کریں  یعنی جن صاحبان کی زکوٰۃ میں  خطاکی گئی تھی اُن کو یا ان کے وکیل کووہ رقم لوٹا دیں   ۔ اور توبہ بھی کریں   ۔

زکٰوۃ فِطرہ غیرِ مَصرَف میں  خرچ کرڈالا اب کیا کرے ؟

سُوال : کئی افراد کی زکوٰۃ ، فطرے کی رقم بِغیر حیلہ کئے غیرِ مَصرف میں  مَثَلاً تعمیر مسجد و مدرَسہ اور امام ومؤَذِّن اور مدرِّسین وغیرہ کی تنخواہوں  میں  استِعمال کر ڈالی! مَسئَلہ (مَس ۔ ء ۔ لہ)معلوم ہونے پر اب نادِم ہے ۔ زکوٰۃ و فطرہ دینے والوں  یا ان کے وکیلوں  وغیرہ کی کوئی پہچان نہیں  ۔ رقم کی گنتی بھی نہیں  معلوم، یہ اُلجھن کیسے حل ہو؟

 جواب :  اگر اصل مالِکان یا ان کے وکیلوں  کا کسی بھی صورت میں  معلوم نہ ہوسکے یا ان کا

 انتقال ہو گیا ہو اور وُرَثاء تک رسائی ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں  اگر رقم یا دہے تو شخصِ مذکور (یعنی جس نے یہ غلطی کی ہے وہ) اتنی رقم فُقَراء پر تصدُّق (خیرات)کردے اوراللہتعالٰی کی بارگاہ میں  توبہ واستِغفار کی کثرت کرتا رہے یوں  اُمّید ہے کہاللہتبارک وَتعالٰی اس کے حقِّ عبد سے سُبکدوشی کی کوئی سبیل فرمادے  ۔ اور اگر یہ بھی یا د نہیں  کہ کتنی رقم تھی جو کہ غیرِ مَصرف میں  استعمال کرڈالی اور اس پر دُرُست اطِّلاع کی بھی کوئی سبیل نہیں  تو ایسی صورت میں  تَحَرّی کرے یعنی غور کرے کہ اندازا ًکتنی رقم اس نے خرچ کی ہوگی پھر جتنی رقم پر گُمان غالب ہو احتیاطاً اس سے کچھ زیادہ رقم فُقَراء کو صَدَقہ کردے  ۔

ہر فرد مسائل نہیں  جانتا ، اس کا حل؟

سُوال : دعوتِ اسلامی بَہُت ہی بڑی تحریک ہے ، ہر فردعُمُوماً مسائل سے واقِف نہیں  ہوتا ، ان مُعاملات کا حل کیا؟

جواب :  میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : علمِ دین سیکھنا اس قَدَر کہ مذہبِ حق سے آگاہ ، وُضُو، غسل، نَماز، روزے وغیرہا ضَروریات کے اَحکام سے مُطَّلع ہو ۔  تاجر تجارت ، مُزارِع( کسان ) زَراعت، اَجِیر ( مزدور، ملازم) اِجارے ، غَرَض ہر شخص جس حالت میں ہے اُس  کے مُتَعَلِّق اَحکامِ شریعت سے واقِف ہو فَرضِ عَین ہے   ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص ۶۴۷، ۶۴۸)

 نیزجس پر زکوٰۃ فَرض ہوئی اُس پر یہ بھی فرض ہے کہ زکوٰۃ کے ضَروری مسائل سیکھے اِسی طرح چندہ لینے والے پر بھی یہ فَرض ہے کہ اِس کے ضَروری مسائل سیکھے ۔ دیکھئے ! نفس کی چال میں  آ کر ہمّت ہار کر کہیں دینِ اسلام کی عظیم خدمتوں  کیلئے کئے جانے والے چندوں  سے ہی کَنارہ کشی نہ کر بیٹھیں ، بِالفَرض چندہ کرنا تَرک کر بھی دیا تب بھی نہ



Total Pages: 50

Go To