Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

کیا اُس کوتاوان دینا ہو گا؟

جواب :  امانت کا مال اگر اچّھی طرح سنبھال کر رکھا اور ضائِع ہو گیا تو تاوان نہیں  ورنہ ہے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  کی خدمت ِ سراپا عظمت میں  عرض کی گئی :  مُتَوَلّیٔ وَقف کے مَسکَن (یعنی مکان) و صندوق سے مالِ وَقف چوری ہوگیا تاوان  لازِم ہے یا نہیں  ؟ الجواب : اگرمُتَوَلّی نے کوئی بے اِحتِیاطی نہ کی تو اُس پر تاوان نہیں ، اگر وہ قَسَم کھا لے گا تو اُس کی بات مان لی جائیگی اور اگر بے اِحتِیاطی کی مَثَلاً صندوق کُھلا چھوڑ دیا، غیر محفوظ جگہ رکھا تو اس پر تاوان ہے ۔  ( فتاوٰی رضویہ ج  ۱۶  ص ۵۶۹، ۵۷۰مُلَخَّصاً )

مدرسے کے چندے کے غَلَط استعمال میں  تاوان کی صورتیں

 سُوال :    مدرَسے کی کسی خاص مد میں  لئے ہوئے چندے کے غلط استعمال کی وجہ سے اگر تاوان لازم آئے تو وہ تاوان کسے دینا ہوگا؟

جواب : اس مسئلے کی مُتَعَدَّد صورَتیں  ہیں ۔ ان میں  سے چار صورتیں  عرض کرتا ہوں : {1}اگر وہ زکوٰۃ یافطرہ وغیرہ صَدَقاتِ واجِبہ کی رقم یا چیز تھی تو فقیرِشَرعی کو دینے (شَرعی حِیلہ کرنے )سے پہلے بے جا (مَثَلاً مُدَرِّسین کی تنخواہوں  یا تعمیراتی کاموں  وغیرہ میں )استعمال کی صُورت میں  اِس کا تاوان زکوٰۃ یا فطرہ وغیرو صدقاتِ واجِبہ جس نے دیئے تھے اُسی دینے والے کو ادا کرے {2} اگر وہ آلات و اسباب چولھے ، برتنوں  اور دیگر سامان کے مد کی چیز ہے جوکہ چندہ دینے والے کی ملک پر باقی رہتی ہے تو بھی بے جااستعمال کی صورت میں  تاوان چندہ دینے والے کو ہی دیا جائے گا {3}اگروہ عام صدقاتِ نافِلہ (عطیّات DONATION ) ہیں  تو اگر وہ مدرسے کے مُتَوَلّی یامُتَولّی کے وَکیل یعنی ناظِم ومہتمم کو دیدیے گئے مَثَلاً ناظِم کو دیئے گئے اور اس نے اس میں  بیجا تَصَرُّف کرکے ہَلاک کردیا تو وہ تاوان کی رقم مدرسہ میں  جمع کروائے گا اور اگر یہ صَدَقاتِ نافِلہ ، دینے والے کے وکیل ہی کے پاس تھے اور ابھی مدرَسے کو نہیں  دئے گئے تھے اور اس میں  بیجا تصرُّف ہوا تو اب تاوان کی رقم چندہ دینے والے کو دی جائے گی اور وہ نہ ہو تو اس کے وُرثاء کو اور وہ نہ ملیں  تو کسی فقیرِشرعی کو دیدیں  اگرچِہ وہ فقیر شرعی اسی مدرَسے کا طالبِ علم ہو اور طالبِ علم چاہے تو قبضے کے بعد وہ رقم مدرَسے کو دیدے {4}  اگر یہ مسئلہ کھانے وغیرہ کے مُتَعلِّقہو مَثَلًا ناظم نے مدرَسے کا کھانا کسی غیرِ مستحق کو کھلا دیا تو اس صورت میں  تاوان کی رقم مدرَسے میں  جمع کروائی جائے گی ۔  اور ان سب صورَتوں  میں  توبہ بھی لازم ہو گی ۔  

 



Total Pages: 50

Go To