Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

سُوال :  چندہ غیر مصرف میں خرچ کر دیا اب اس کاتاوان (ضَمان) ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟

جواب :  ایسے معاملے میں  تاوان(ضَمان) ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس نے چندہ دیا اُسے اِطِّلاع کرے کہ میں  نے آپ کے بتائے ہوئے مَصْرَف (یعنی آپ نے جہاں  جہاں  خرچ کرنے کا کہا تھا یا جن کاموں  میں  خرچ کیا جانا چاہئے تھا اس )کے علاوہ میں  خرچ کر دیا ہے ، اگر چندہ دینے والا اسے دُرُست قرار دے دے (یعنی مَثَلاًکہہ دے کوئی حرج نہیں ) تو یہ بَرِیُّ الذِّمّہ ہو جائے گا اور اگر وہ اسے دُرُست نہ قرار دے تو جس کے چندے کی جتنی رقم غَلَط استِعمال کر دی اُتنی ہی رقم پلّے سے چندہ دینے والے کو ادا کرے مَثَلاً مسجِد کے وُضو خانے کی تعمیر یا وُضو کے پانی کیلئے  ٹینکر منگوانے کی مَدّ میں  جو چندہ کیا وہ وَیسے ہی یا بچ جانے کی صورت میں  چندہدینے والے کی اجازت کے بِغیر مسجِد کے رنگ چُونے میں  خَرچ کر دیا تو جِتنی رقم رنگ چُونے پرخَرچ کی وہ اپنے پَلّے سے چندہ دینے والے کو لوٹائے ، وہ فوت ہو چکا ہو تو اُس کے وارِثوں  کو دے اگر بالِغ وارِث کسی اور نیک کام میں  صَرف کرنے کی اجازت دے دیں  تو جو جو اِجازت دیگا اُسی کے حصّے میں  سے صَرف کیا جا سکتا ہے اور اگر ان میں نابالِغ یا پا گل بھی ہیں  تو ان کا حصّہ ہر صورت میں  ادا کرنا واجِب ہے ، کیونکہ وہ اجاز ت دینے کے شرعاًاہل نہیں ۔ اگر چندہ دینے والے کا کوئی وارِث نہ ہو یا کسی طرح چندہ دینے والے کا پتا نہ لگے تو اب چندہ جس مَدّ میں     ( یعنی جس کام کے لئے )لیا تھا اُسی طرح کے کام میں  تاوان والی رقم خرچ کر دے ، اگر یہ بھی نہ بن پڑے تو اس کا حکم لُقطے کے مال(یعنی گری پڑی ملنے والی چیز) کی طرح ہے یعنی مساکین میں  خیرات کر دے یا کسی بھی مَصْرَفِ خیر مَثَلًا مسجد مدرَسہ وغیرہ میں  بھی صَرف کر سکتاہے ۔

            میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فتاوٰی رضویہ جلد 23صَفْحَہ563 پر فرماتے ہیں : ’’چندے کا روپیہ چندہ دینے والوں  کی مِلک رہتاہے جس کام کے لئے وہ دیں ، جب اس میں  صَرف نہ ہو تو فرض ہے کہ انہیں  کو واپس دیا جائے یا کسی دوسرے کام کے لئے (استِعمال کر لیں  جس کی) وہ اجازت دیں ، ان(چندہ دینے والوں ) میں  جو(زندہ) نہ رہا ہو ان کے وارِثوں  کو دیا جائے یا ان کے عاقِل بالِغ(ورثاء) جس کام میں  (صَرف کرنے کی) اجازت دیں (اس میں  استعمال کریں ) ہاں  جو ان میں  (زندہ)نہ رہا اور ان کے وارث بھی(زندہ) نہ رہے یا پتا نہیں  چلتا یا معلوم نہیں  ہو سکتا کہ کس کس سے لیا تھا کیا کیا تھا وہ مِثلِ مالِ لُقطہ ہے ۔  مَصرفِ خیرمِثلِ مسجِد اور مدرَسۂ اہلِ سنّت و مَطبعِ اہلِ سنّت وغیرہ میں  صَرف ہو سکتا ہے ۔  وھُوَ تعالٰی اعلم ۔ ‘‘ مزید معلومات کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد16 صَفْحَہ 134 پر لکھا ہوا اِسْتِفْتاء  اور فتویٰ پڑھ لیجئے ۔

 چندے کی رقم گُم ہو گئی تو؟

سُوال :  کسی کے پاس چندے کی رقم اَمانَتاً رکھی ہوئی تھی اور وہ گم ہو گئی یا کسی نے چُرا ، یا چھین لی ایسی صورت میں  بھی



Total Pages: 50

Go To