Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  کے ایک مبارَک فتوے کا اِقتِباس غور سے مُلاحَظہ فرما لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ   وَجَلَّ اِس سے بَہُت کچھ سیکھنے کو ملیگا ۔  چُنانچِہ فرماتے ہیں : یہاں حُْکمِ شَرعی یہ ہے کہ َاوقاف (یعنی وقف کی ہوئی چیزوں )میں  پہلی نظر شَرطِ واقِف(یعنی وقف کرنے والے کی شرط) پر ہے (کہ)یہ زمین و دکانیں  اس نے جس غَرَض کے لئے مسجِد پر وَقف کی ہوں  ان میں  صَرف کیا جائے گا اگر چِہ وہ اِفطاری و شیرینی و روشنیٔ ختم(شریف) ہو اور اس کے سوا دوسری غَرَض میں  اُس کاصَرف کرنا حرام حرام سخت حرام اگر چِہ وُہ بِنائِ مدرَسۂ دِینیہ ہو ۔ واقِف کی شَرط ایسے ہی واجِبُ العمل ہے جیسے شارِع کی نَص(یعنی قراٰن وحدیث کا حکم ) ۔ (دُرِّمُختار ج ۶ ص ۶۶۴) حتّٰی کہ اگر اس نے صِرف تعمیرِ مسجِد کے لئے (رقم) وَقف کی تومَرمّتِ شِکَست و ریخت(یعنی ٹوٹ پھوٹ کی مرمّت) کے سوا مسجِد کے لوٹے چَٹائی میں  بھی صَرف نہیں  کر سکتے (اور) اِفطاری وغیرہ(تو) دَرکنار ، اور اگر مسجِد کے مَصارِفِ رائجۂ فی المساجِد (یعنی مسجِدوں  میں  جن چیزوں  میں  خرچ کرنے کا عُرف ہو اُن) کے لئے وَقف ہے تو بَقَدرِمَعہُود(یعنی عُرف کی مقدار میں  )شیرینی و روشنیٔ ختم (شریف) میں صَرف (یعنی خرچ کرنا)جائز(مگر) اِفطاری و مدرَسہ میں  ناجائز، نہ اسے تنخواہ ِ مُدَرِّسین وغیرہ میں  صَرف کر سکتے ہیں  کہ یہ اَشیاء مَصارفِ مسجِد(یعنی مسجِد کے اَخراجات)سے نہیں  ۔ جب خود واقِف کے لئے اِحداث (یعنی نئی چیز شروع کرنا) وقف میں  جائز نہیں  تو محض اجنبی شخص کیلئے کیسے جائز ہو سکتا ہے  اور اگر اس نے ان چیزوں  کی بھی صَراحَۃً (یعنی واضِح لفظوں  میں )اجازت شرائطِ وقف میں  رکھی یا مَصارِفِ خیر کی تعمیم (تَع ۔ مِیم) کر دی(یعنی ہر قسم کا اچھا کام کر سکتے ہیں  یہ کہدیا) یا یوں  کہا کہ دیگرمَصارفِ خیر حسبِ صَوابدیدِ مُتَوَلّی (یعنی مُتَوَلّی کو دیگربھلائی کے مصارف میں  خرچ کرنے کے کلّی اختیارات دیئے ) تو ان میں  بھی مُطْلقاً یا حسبِ صَوابدیدِ مُتَوَلّی (یعنی مُتَوَلّی کی صوابدید کے مطابِق ) صَرف ہوسکے گا ۔ غَرَض  ہرطرح اس کے شرائط کا اِتِّباع کیا جائے گا اور اگر شرائط معلوم نہیں  تو اس کے مُتَوَلّیوں  کا قدیم(یعنی شروع ہی ) سے جو عملدر آمد رہا اس پر نظر ہو گی ، اگر ہمیشہ سے اِفطاری و شیرینی و روشنیٔ ختم(شریف) کُل یا بعض میں  صَرف ہوتا رہا (تو)اس میں  اب بھی ہو گا ورنہ اَصلاً نہیں  اور اِحداثِ مدرَسہ(یعنی نیا مدرَسہ بنانا ) بالکل ناجائز ۔ قدیم سے ہونے کے یہ معنیٰ کہ اس کاحُدُوث(یعنی وُجُود میں  آنا)  معلو م نہ ہو اور اگر معلوم ہے کہ یہ بِلا شَرط بعد کو حادِث ہوا(یعنی پہلے نہ تھا بعد میں  جاری ہوا ) تو قدیم نہیں  اگر چِہ سوبرس سے ہو اگر چِہ نہ معلوم ہو کہ کب سے ہے ۔  (فتاوٰی رضویہ ج ۱۶ ص ۴۸۵، ۴۸۶ )

چندہ  کی رقم ذاتی کام میں  خَرچ کر ڈالی تو؟

سُوال :  مسجِد یا مدرَسے (مَد ۔ رَ ۔ سے ) کیلئے کیا ہوا چندہ اگر مُتَوَلّی اپنے ذاتی استِعمال میں  لے آئے تو اُس کیلئے کیا حکم ہے ؟اگر یہی کام غیر مُتَوَلّی سے سر زد ہو تو کیا کرے ؟ جلدی میں  اُتنی ہی رقم پلّے سے چندے میں  ڈالدی اُس کیلئے کیا حکم ہے ؟

 



Total Pages: 50

Go To