Book Name:Main nay Madani Burka Kyun Pehna?

جامعۃالمدینہ (للبنات ) میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں نیز اپنے علاقے میں علاقائی مشاورت کی خادمہ(ذمہ دارہ) کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرنے کے لئے کوشاں ہوں ۔  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(7)اولاد مل  گئی 

        بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کا بیان کچھ اس طرح ہے کہ میری شادی کو 12 سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا لیکن میں اولاد کی نعمت سے محروم تھی ۔  ایک مرتبہ میں نے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی تو اجتماع کے اختتام پر میری ملاقات ایک مبلغہ اسلامی بہن سے ہوئی ۔ انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے مَدَنی ماحول کی برکتیں بتائیں ۔ میں نے ان سے اپنی محرومی کا تذکرہ کیا تو انہوں نے نہایت شفقت سے کہا :  آپ دعوتِ اسلامی کے 12 سنتوں بھرے اجتماعات میں مسلسل شرکت کی نیت کر لیجیے اور دوران اجتماعات ہونے والی دعا میں اپنے لیے اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   کی بارگاہ سے اولاد کی بھیک طلب کریں ان شاء اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے میں ضرورکرم ہو گا ۔ چنانچہ میں نے نیت کر لی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    سنتوں بھرے اجتماع میں پابندی سے شرکت کی برکت سے میری دعائیں قبول ہوئیں اور اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   نے مجھے چاند سا مدنی منا عطا فرمادیا اور اس طرح میرے اجڑے چمن میں بھی بہار آ گئی ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(8)گناہ کو گناہ سمجھنے کا شعور مل گیا

         بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کے بیان کالب لباب ہے کہ میں نمازیں قضا کر ڈالنے اور بے پردگی جیسے گناہوں میں گرفتار تھی ۔ افسوس! کہ مجھے گناہ کو گناہ سمجھنے کا بھی احساس نہ تھا ۔ میں فکرِ آخرت سے غافل اوراسلام کی بنیادی معلومات سے جاہل تھی ۔  دنیاوی آسائشیں میسر ہونے کے باوجود قلبی سکون نصیب نہ تھا ۔ میں عجیب بے چینی اور گھٹن کا شکار رہتی تھی ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   مجھے سُکونِ قلب مل گیا وہ اس طرح کہ چند اسلامی بہنوں کی دعوت پر مجھے دعوتِ اسلامی  کے ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت ملی ۔ وہاں میں نے بیان سُنا ، اپنے رب قدیر   عَزَّوَجَلَّ    کا ذکر کیا اور دعامانگی اور رو رو کر اپنے گناہوں سے توبہ کی تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا میرے دل سے کوئی بوجھ اُتر گیاہے اوراسے قرار نصیب ہو گیا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   اسی اجتماع میں شرکت کی برکت سے میں نہ صرف  مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوئی بلکہ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   سے بیعت ہوکر عطّاریہ بھی بن گئی ۔  تادمِ تحریر دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی ترقی کے لیے کوشش کر رہی ہوں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(9) میرے مسائل حل ہو گئے

        باب المدینہ (کراچی )کی ایک معمر اسلامی بہن کاحلفیہ بیان کچھ اس طرح ہے کہ میں مختلف گھریلو مسائل میں گرفتارتھی ۔ ہم کرائے کے مکان میں رہتے تھے ، آمدنی کم ہونے کی وجہ سے وقت پر کرایہ نہ دے پاتے جس کی وجہ سے مالک مکان کی گرم سرد باتیں سننا پڑتیں ۔ بچیاں بھی جوان ہورہی تھیں ، اُن کی شادی کی فکر مجھے الگ کھائے جارہی تھی۔ ایک دن دعوتِ اسلامی کے مشکبارمدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بہن سے میری ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے میری غم خواری کی اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوت اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں پابندی کے ساتھ شرکت کی بھی نیت کروائی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مجھے سنّتوں بھرے اجتماع میں اپنے مسائل کے حل کے لئے دُعا کرنے کی بھی ترغیب دی ۔  الحمدللہ  عَزَّوَجَلَّ  اُس اسلامی بہن کی انفرادی کوشش کی برکت سے میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے لگی ۔ وہاں میں اپنے مسائل کے حل کے لیے اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   کی بارگاہ میں دعا بھی کیا کرتی، امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے بیعت ہوکر عطّاریہ بھی بن گئی ۔  کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ    نے میرے بچوں کے ابو کو اچھی ملازمت عطا فرمادی۔ کرم بالائے کرم یہ ہواکہ کچھ ہی عرصہ میں ہم نے کرایہ کے مکان کو چھوڑکر اپنا ذاتی مکان بھی خرید لیا۔  اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    نے اپنے حبیب لبیب صلی اللہ   تَعَالٰی علیہ واٰلہ وسلم کے صدقے ، سنتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کی برکت سے بچوں کی شادی کے فریضہ سے عہدہ برآہونے کی بھی طاقت دے دی۔  اس طرح دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے ہمارا مسائل کا ریگستان ، ہنستے مُسکراتے نخلستان میں تبدیل ہوگیا ۔ الحمدللّٰہ ربّ العٰلمین۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(10) میں ڈانس کیا  کرتی تھی

         بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کے بیان کاخلاصہ ہے کہ میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے گانے باجے بڑے شوق سے سنتی تھی ۔  مجھے مُووی بنوانے کاجنون کی حد تک شوق تھا ۔ جب کسی شادی میں شریک ہوتی یا وہاں ڈانس کرتی تو خود کہہ کر مُووی بنوایا کرتی تھی ۔ میرا دل گناہوں کی لذّت میں ایسا گرفتار تھا کہ مجھے نماز قضاہونے کا غم ہوتا نہ روزہ چھوٹ جانے کا ۔ گناہوں کی وجہ سے بربادی کا شکار ہونے والی میری زندگی نیکیوں سے اس طرح آباد ہوئی کہ کچھ عرصہ قبل کچھ اسلامی بہنوں کی انفرادی کوشش کی برکت سے مجھے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت ملی۔ سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی مجھے ایسی برکتیں نصیب ہوئیں کہ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے تمام گناہوں



Total Pages: 8

Go To