Book Name:Main nay Madani Burka Kyun Pehna?

دعوت عام کرنے میں مصروف ہو گئیں ۔ مجھے اجتماع کے آخری دن کی خصوصی نشست کا بڑی بے چینی سے انتظار تھا ۔ بالآخر وہ دن بھی آیا کہ میں نے سالانہ سنتوں بھرے اجتماع کی خصوصی نشست میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔  جس میں امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہنے ’’گناہوں کا علاج‘‘کے موضوع پر  بیان فرمایا ۔  یہ بیان سن کر میں خوفِ خدا   عَزَّوَجَلَّ   سے کانپنے لگی کہ میں اپنے رب   عَزَّوَجَلَّ   کی کیسی کیسی نافرمانیوں میں مبتلاء ہوں ۔  پھر دعا مانگی گئی ۔  دورانِ دعا اجتماع میں شریک اسلامی بہنوں کی گریہ و زاری دیکھ کر میری آنکھوں سے بھی آنسو بہہ نکلے ۔ میرا دل ندامت کے سمندر میں غوطے کھانے لگا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   میں نے ربّ   عَزَّوَجَلَّ   کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اپنی اصلاح کی کوشش کی پُختہ نیّت کرلی ۔  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کی برکت سے میں نے شرعی پردہ کرنا شروع کردیا اور نَماز وں کی بھی پابند ہوگئی ۔ آج میرے والدین مجھ سے بہت خوش ہیں اور دعوتِ اسلامی کے احسان مند ہیں جس کی برکت سے ان کی فیشن زدہ بیٹی سنّتوں بھری زندگی کی طرف مائل ہوئی ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(5) بیٹا صحت یاب ہوگیا

        بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبارمدنی ماحول سے وابستہ کچھ ذمہ داراسلامی بہنیں نیکی کی دعوت دینے کے لئے ہمارے گھر آیا کرتیں ۔ وہ مجھ پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے  اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع اور علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کی دعوت پیش کرتیں مگر میں سستی کی وجہ سے یہ سعادت حاصل کرنے سے محروم رہتی۔ ایک دن اچانک میرے بیٹے کی طبیعت خراب ہو گئی۔  ڈاکٹرکو دکھایا تو اس نے اندیشہ ظاہر کیا کہ شاید اب یہ بچہ عمر بھر ٹانگوں کے سہارے چل نہ سکے ، اسکا دماغی توازن بھی ٹھیک نہیں رہا لہذا! اب یہ نارمل (NORMAL)  بچوں کی طرح زندگی نہ گزار سکے گا۔ یہ سن کر میرے پاؤں تلے کی زمین نکل گئی ۔ ہر ماں کی طرح مجھے بھی اپنے بیٹے سے بہت محبت تھی ۔ اس صدمے نے مجھے نیم جان کردیا۔

        کچھ دن اسی حالت میں گزر گئے ۔ ایک دن پھر وہی اسلامی بہنیں نیکی کی دعوت کے لیے آئیں ۔ انہوں نے میرے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھے تو میری غم خواری کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا : ’’خیریت تو ہے آپ بہت پریشان دکھائی دے رہی ہیں ؟‘‘میں نے انہیں سارا ماجراسنایا تو انہوں نے مجھے حوصلہ دیا اور کہا کہ نیک اجتماعات میں شرکت کی بڑی برکتیں ہیں ، آپ دعوتِ اسلامی کے 12 ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات میں پابندی سے شرکت کیجئے اور وہاں پر اپنے بچے کے لئے دعابھی مانگئے، ان شاء اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   آپ کا بیٹا صحت یاب ہوجائے گا ۔     

چنانچہ میں نے 12اجتماعات میں شرکت کی پُختہ نیت کر لی ۔ جب میں پہلی مر تبہ سنتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوئی اور بیان کے بعد جب رقت انگیزدعا مانگی گئی تو میں نے اپنے رب   عَزَّوَجَلَّ   سے اپنے لخت جگر کی صحت یابی کی دعا بھی مانگی۔  اجتماع میں شریک ہونے کے بعد جب میں گھرواپس آئی تو مجھے اپنے بیٹے کی طبیعت پہلے سے بہتر دکھائی دی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرا بیٹا مکمل طور پر صحت یاب ہوگیا۔ یوں ڈاکٹروں کے اندیشے غلط ثابت ہوئے اور سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی برکت سے میرابیٹا چلنے پھرنے بھی لگا ۔  تادمِ تحریر ہمارا سارا گھرانا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر جنت کی تیاری میں مصروف ہے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(6)تین یا چار فلمیں دیکھ لیا کرتی تھی

        بابُ المدینہ(کراچی )کی ایک اسلامی بہن کے بیان کاخلاصہ ہے کہ دعوت اسلامی کے مشکبارمدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں ایک ماڈرن لڑکی تھی۔  دنیوی تعلیم حاصل کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا ۔  فلم بینی کا بھوت مجھ پر ایسا سوار تھا کہ میں ایک رات میں تین تین چار چار فلمیں بھی دیکھ لیا کرتی تھی۔  مَعَاذَاللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    گانوں کی توایسی رسیا تھی کہ گھر کا کام کاج کرتے وقت بھی ٹیپ ریکارڈر پر اونچی آواز سے گانے لگا یا کرتی تھی ۔  میری ایک بہن (جوشادی ہوجانے کے بعد دوسرے شہر میں رہائش پذیر تھیں )انہیں دعوتِ اسلامی سے بڑی محبت تھی ۔ وہ جب کبھی بابُ المدینہ (کراچی )آتیں تو اتوار کے دن دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ میں ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں ضرور شرکت کرتیں ۔  رات میں عشق رسول سے بھرپورپرسوزنعتیں سنا کرتیں ۔  جس کی وجہ سے مجھے گانے سننے کا موقع نہ ملتا چنانچہ مجھے ان پر بہت غصہ آتابلکہ کبھی کبھی تو ان سے لڑائی بھی کرتی تھی ۔

   ایک مرتبہ جب وہ باب المدینہ آئیں تو مجھے قریب بلاکر نہایت شفقت سے انفرادی کوشش کرتے ہوئے کہنے لگیں : ’’جو فلمیں اور ڈرامے دیکھتا ہے اسکو عذاب دیا جائے گا۔ ‘‘ ساتھ ہی ساتھ سنتوں بھرے اجتماع کی برکتیں بھی بتانے لگیں ۔  اس طرح انفرادی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے مجھے فیضان مدینہ میں ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے پر راضی کر لیا۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   میں نے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی ۔ اتفاق سے سنتوں بھرے اجتماع میں ہونے والے بیان کا موضوع بھی ٹی وی کی تباہ کاریاں تھا ۔ یہ بیان سن کر میرے دل کی کیفیت بدلنا شروع ہو گئی۔ رقت انگیز دعا نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ۔ دوران دعا مجھ پر رقت طاری تھی اورآنکھوں سے آنسوؤں کے دھارے بہہ رہے تھے ۔  میں نے سچے دل سے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ بھی کی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    جب میں سنتوں بھرے اجتماع سے واپس گھر کی طرف روانہ ہوئی تو میرا دل ٹی وی اور گانوں سے بیزار ہو چکا تھا ۔  اجتماع سے واپسی پر اپنے کمرے میں موجود کارٹونز کی تصاویر اتار کر پیارے پیارے کعبۂ مشرفہ اورمیٹھے میٹھے مدینۂ منورہ کے طغرے آویزاں کر دئیے ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   تادم تحریر میں



Total Pages: 8

Go To