Book Name:Main nay Madani Burka Kyun Pehna?

اے دعوتِ اسلامی تیری دُھوم مچی ہو

شعبہ امیرِ اَہلسنّت   (مد ظلہ العالی)   مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی) 

                                                                                                                 ۲ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم ۱۴۲۹ ھ،  5اگست 2008ء   

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود شَریف کی فضیلت

شیخِ طریقت ، امیرِ اَہلسنّت ، با نیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابوبلال  محمد ا لیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے تحریری بیان ’’بادشاہوں کی ہڈیاں ‘‘میں ہے :

’’ رَحْمتِ عالَم ، نورِمُجسَّم ، شاہِ بنی آدم ، شفیعِ اُمَم، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ شَفاعت نشان ہے، ’’جو مجھ پر دُرُود ِپاک پڑھے گا میں اُس کی شَفاعت فرماؤں گا۔ ‘‘  

  (القول البدیع ص۱۱۷  دار الکتب العلمیۃ بیروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(1) میں نے مَدَ نی برقع کیوں پہنا ؟

         بابُ المدینہ(کراچی)کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا لبّ لبا ب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہونے سے پہلے میں بہت زیادہ فیشن ایبل تھی ، فون کے ذریعے غیر مردوں سے دوستی کرنے میں بڑا لُطف آتا۔  آس پڑوس کی شادیوں میں رسمِ مہندی وغیرہ کے موقع پَر مجھے خاص طور پر بُلایا جاتا۔  وہاں میں نہ صرف خُود ڈانس کرتی بلکہ دوسری لڑکیوں کوبھی  ڈانڈیاسکھاکر اپنے ساتھ نچوایا کرتی تھی ۔ ڈھیروں گانے مجھے زبانی یا د تھے۔  آواز چونکہ اچھی تھی اس لئے میری سہیلیاں مجھ سے اکثر گانا سنانے کی فرمائش کیا کرتیں ۔ بدقسمتی سے گھر میں T.V بہت دیکھا جاتا تھا۔ جس کی وجہ سے میں گناہوں کی دلدل میں دھنستی چلی گئی۔ افسوس کہ میں اپنی زندگی کے قیمتی لمحات عذاباتِ جہنم کی حقدار بننے میں صرف کررہی تھی ۔

          رَبِیْعُ النُّورشریف کی ایک سہانی شام تھی ۔ نمازِ مغرب کے بعد میرے بڑے بھائی گھر آئے توان کے ہاتھ میں امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکے بیانات کے کیسٹس تھے۔ ایک بیان کا نام ’’قبر کی پہلی رات‘‘ تھا۔ قبر کا مرحلہ کس قدر کٹھن ہے ، اِس کا احساس مجھے یہ بیان سن کر ہوا ۔  مگر افسوس کہ میرے دل پر گناہوں کی لذت کااس قدرغلبہ تھا کہ مجھ میں کوئی خاص تبدیلی نہ آئی ۔  ہاں !اتنا فرق ضرور پڑا کہ اب مجھے گناہوں پر ندامت ہونے لگی ۔

        کچھ ہی دن بعد پڑوس میں دعوتِ اسلامی کی ذمہ دار اسلامی بہنوں نے بسلسلہ ’’گیارہویں شریف‘‘ اجتماعِ ذکرو نعت کا اہتمام کیا۔ مجھے بھی شرکت کی دعوت دی گئی ۔   ’’قبر کی پہلی رات‘‘ سن کر میرا دل پہلے ہی چوٹ کھاچکاتھا ، چنانچہ میں نے زندگی میں پہلی باراجتماعِ ذکرو نعت میں جانے کا ارادہ کیا ۔  مگرافسوس کہ وہاں جانے کیلئے بھی خوب میک اپ کر کے جدید فیشن کا لباس پہنا۔ اجتماعِ ذکرو نعت میں ایک اسلامی بہن نے سنتوں بھرا بیان فرمایا، جسے سُن کر میرے دل کی دُنیا زیر وزبر ہوگئی ۔  بیان کے بعدجب( امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا لکھا ہوا) استغاثیہکلام ’’یاغوث بلاؤ مجھے بغداد بلاؤ‘‘ پڑھا گیا تو اس کے پُرتاثیر اشعار نے گویا گرم لوہے پر ہتھوڑے کا کام کیا ۔  یوں میں دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعات میں شریک ہونے لگی ۔  گناہوں بھری زندگی کا خاتمہ ہوا اور میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے نیکیوں کی شاہراہ پر ایسی گامزن ہوئی کہ میں جو پہلے باہر نکلتے وقت دوپٹا بھی ٹھیک طرح سے نہیں اوڑھتی تھی ، کچھ ہی عرصہ میں مدنی برقع پہننے کی سعادت پانے لگی۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ آج میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر مدنی کاموں کی دُھومیں مچانے کیلئے کوشاں ہوں ۔

اللہ  کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں

اے دعوت ِاسلامی تیری دُھوم مچی ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(2)  اِسی ماحول نے ادنٰی کو اعلٰی کردیا دیکھو!

        بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کے بیان کالبّ لباب ہے کہ والدین کے بے حد اِصرار پر میں نے قراٰن پاک حفظ کرنے کی سعادت توحاصل کر لی تھی مگر بعد میں اس کو دُہرانا چھوڑدیا تھا جس کی وجہ سے والدین کو سخت تشویش تھی ۔  اتنی عظیم سعادت حاصل کرلینے کے باوجود میری عملی کیفیت یہ تھی کہ میں نمازوں کی پابندی سے غافل تھی ۔ نت نئے فیشن اور گانے سننے کی تواتنی شوقین تھی کہ بعض اوقات توساری ساری رات ہیڈ فون لگا کرگانے سنا کرتی ۔  T.Vکی تباہ کاریوں نے بھی مجھے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ، چنانچہ مجھے فلمیں ڈرامے دیکھنے میں بہت مزا آتا تھا ۔  بالخصوص ایک گلوکار کے گانوں کی اسقدر دیوانی تھی کہ میری سہیلیاں مذاقاًکہتی تھیں کہ یہ تومرتے وقت بھی اسی گلوکار کو یاد کرے گی۔ صد افسوس کہ اگر میں اُس کا کوئی شو (پروگرام)نہ دیکھ پاتی تو رو رو کر برا حال کر لیتی یہاں تک کہ کھانابھی نہیں کھاتی تھی۔ افسوس! میرے صبح وشام یونہی گناہوں میں بسر ہو رہے تھے۔  

        میری ممانی دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے سنتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کیا کرتی تھیں ۔ وہ مجھے بھی اجتماع میں شرکت کی دعوت دیتیں مگر میں ٹال دیتی ۔  ان کی مسلسل انفرادی کوشش کے نتیجے میں بالآخر میں نے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی ۔  وہاں پر ہونے والے سنّتوں بھرے بیان، ذکراللہ    عَزَّوَجَلَّ   



Total Pages: 8

Go To