Book Name:Murda Bol Utha

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )پڑھا اور ہمیشہ کیلئے آنکھیں موند لیں ۔اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 (11) قابلِ رشک وفات

         گلزارِ طیبہ(پنجاب) کے مقیم 60سالہ ملک عبدالعزیز عطاری ایک بارُعب قدآور شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کمپنی کے منیجر و یونین کے صدر بھی تھے۔ مَدَنی ماحول سے دوری کے باعث اِس عمر میں بھی ’’تھری پیس سوٹ‘‘ میں ملبوس رہتے۔ ان کے صاحبزادے کے بیان کا خلاصہ ہے کہ میری خوش قسمتی کہ میں اوائل عمری ہی سے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیرسیاسی تَحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ گھر میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    کے رسائل اور کیسٹیں لے آتا۔ جس کی بَرَکت سے گھر میں مَدَنی ماحول قائم ہونا شروع ہوگیا۔والد صاحب بھی امیرِاَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   سے مرید ہو گئے ۔1994-12- 31 میں جب امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   گلزارِطیبہ(پنجاب) شبِ معراج کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کیلئے تشریف لائے اوردوسرے دن یکم جنوری بعدِ نمازِ عصر والد صاحب ملاقات کیلئے حاضر ہوئے توامیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   نے اشارے سے داڑھی شریف رکھنے کی ترغیب دلائی تووالد صاحب نے بلا چون و چرا  نیّت کرلی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّمرتے دم تک داڑھی شریف چہرے پر جگمگاتی رہی۔ سر پر سبز عمامہ شریف سجا رہتا۔ گھر سے T.Vنکال باہر کیا۔5سال تک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماعی اعتکاف میں شرکت فرماتے رہے۔ایک بار دورانِ اعتکاف کھڑے ہوکر اعلان کردیا کہ مجھے دونوں بیٹوں سے کوئی دُنیوی نفع نہیں لیناآج سے یہ دعوتِ اسلامی کیلئے وقف ہیں ۔قریبی مسجد کی خدمت بھی اپنے ذمہ لے لی۔مَدَنی ماحول سے عقیدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مجھے اولاد ہونے کے باوُجود’’ آپ‘‘ کہہ کر مخاطب فرماتے اور آتا دیکھ کر تعظیماً کھڑے ہوجاتے۔  ۱۰ربیع النور شریف (-05-199925) کو’’ہارٹ اٹیک‘‘ کے باعث ہسپتال میں داخل کردیا  گیا۔میں ربیع النورشریفکی سجاوٹ کے سلسلے میں مصروف تھا۔ اطلاع ملنے پَر نما زِ عصر میں جب والد صاحب کے پاس پہنچا تو مجھے ایسا لگا کہ اب شاید والد صاحب جانبر نہیں ہو سکیں گے۔ کم و بیش رات 10بجے میں نے بآوازِ بلندکَلِمَۂ طَیِّبہ  لَآاِلٰہ اِلَّا اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہ( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )کا وِرد کرنااورالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْل اللّٰہ وَعلٰی اٰلِک واَصْحَابِکَ یا حَبِیْبَ اﷲ پڑھنا شروع کردیا۔ والد صاحب نے جو پہلے آنکھیں نہیں کھول رہے تھے ، اچانک آنکھیں کھول دیں اور میری طرف متوجہ ہوئے ، ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی اور گردن قبلہ رُخ ڈھلک گئی۔ دیکھا تو ان کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کر چکی تھی۔ پیشانی پرپسینہ اور آنکھوں سے آنسو کے قطرے بہ نکلے تھے ۔ وہی ہلکی سی مسکراہٹ تدفین تک ان کے لبوں پر کھیلتی رہی۔غسل دینے والے اسلامی بھائیوں کابیان ہے کہ غسل کے وقت انکا جسم بالکل تروتازہ تھاگویا لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ انتقال کرچکے ہیں ۔ تدفین کیلئے مسجد کمیٹی اور اَہلِ محلہ کے اِصرار پر چونکہ قبرستان مسجد کے ساتھ ہی تھا لہٰذامسجد کے قریبی حصے میں تدفین کی ترکیب بنائی گئی۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(12)پیر سے مَحبّت کی بَرَکا ت

                                                باب المدینہ(کراچی) کے علاقے لانڈھی کے غلام نبی عطاری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی گویاہر وقت اپنے مرشد کریم امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی محبت میں گم رہتے ۔ایسا لگتا تھا کہ فنافی الشیخ کے اعلیٰ منصب پر فائز ہیں ۔ انتہائی پرہیز گار اور صالح نوجوان عاشقِ رسول تھے ۔ گرمی ، سردی کی پرواہ کئے بغیر لانڈھی نمبر 1سے5 نمبر تک روزانہ صدائے مدینہ لگاتے۔ایک مرتبہ علاقے میں ہونے والے چوک اجتماع کی تیاری میں ایسے مگن ہوئے کہ کھانے کا ہوش تھا نہ سونے کا ۔ انفرادی کوشش بیانات و اعلانات کے ذریعے اجتماع کی تشہیر میں مصروف رہے اور تھکن کے باعث اجتماع والے دن شدید بخار میں مبتلا ہوگئے ، اجتماع بہت کثیر ہوا مگر غلام نبی عطاری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی سخت علیل ہوکر 30سال کی عمر میں کَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ(صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کا وِرد کرتے ہوئے دنیائے فانی سے رخصت ہوگئے۔امیرِاَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   نے ایک بار دورانِ بیان غلام نبی عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی کے بارے میں فرمایا کہ میں نے ایسا نورانی اور مطمئن چہرہ زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا ، ایسا لگتا ہے یہ کامیاب ہوگئے۔   

 عاشقِ رسول کی با بَرَکت قَبْر

                        غلام نبی عطاری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی کی میت کو تدفین کیلئے ان کے آبائی شہر کوہاٹ (سرحد)کے ایک گاؤں میں لے جایا گیا۔ جس قبرستان میں دفن کیا گیا وہاں کے گورکن کا کہنا ہے کہ چند دن قبل گاؤں کی کسی عورت کے انتقال پَر مجھے قَبْر کھودنے کاحکم ملا۔میں نے جب قَبْر کھودنا شروع کی تو عجیب معاملات پائے، میں کدال چلاتا اس سے پہلے خود ہی مٹی نکل پَڑتی اور قَبْرکی دیواروں پَر عجیب چمک پاتا۔میں چونکہ اس عورت اور اسکے گھر کے افراد سے واقف تھا اور بظاہر ان میں کوئی نیک نامی والی بات نہیں پاتا تھا اسلئے میں یہ بَرَکتیں دیکھ کر حیران تھا۔پھر کسی وجہ سے  ان لوگوں نے ا س عورت کی تدفین کسی اور جگہ قَبْرکھود وا کرکی۔یوں یہ با بَرَکت قَبْر خالی رہ گئی۔ پھر چند دنوں بعد باب المدینہ (کراچی) سے عاشقِ رسولغلام نبی عطاری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی کاجَسَدِ مبارَک لایا گیا تو ان کی تدفین کیلئے اسی با بَرَکت قَبْر  کو منتخب کیا گیا۔اب معاملہ میری سمجھ میں آگیا کہ دکھائی دینے والی یہ برکتیں اس عاشقِ رسول کی وجہ سے تھیں ۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

 



Total Pages: 8

Go To