Book Name:Murda Bol Utha

کے سخت پابند تھے اورسارا دن سر پرسبزعمامے کا تاج سجارہتا ، قراٰن پاک کی پابندی سے تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ انہیں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کی ذاتِ مبارکہ سے والہانہ عشق تھا ۔ بارہا لوگوں سے کہتے کہ میری وصیت ہے کہ کاش! میری نماز جنازہ زمانے کے ولی شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   پڑھائیں ۔ جب بھی امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کی بارگاہ میں حاضری ہوتی توبارگاہِ مرشِد میں بھی یہی عرض جاری رکھتے ۔ کچھ عرصہ بیمار رہ کر بلند آواز سے  کَلِمَۂ طَیِّبَہ لَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ(صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پڑھتے ہوئے اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ ان پر کچھ ایسا کرم ہوا کہ باب المدینہ (کراچی )سے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   میرپور خاص تشریف لائے اور ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی (جس پر تمام شرکاء رَشک کر رہے تھے)۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

 (5)جواں سال مبلغ

       باب الاسلام (سندھ) کے مشہور شہر حیدرآباد کے جواں سال مبلغِ دعوت اسلامی عبدالقادر عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی ہر دم نیکی کی دعوت عام کرنے کیلئے کوشاں رہتے۔ مدنی کام کا اس قدر جذبہ تھا کہ روزانہ مختلف مساجد میں جاجاکر فیضانِ سنت سے6درس دیا کرتے۔ وہ یوں کہ ظہر میں تودو درس دیتے، ایک30 :1بجے والی نماز میں اور، دوسرا  00: 2      بجے والی جماعت ظہر کے بعد ۔انہیں رمضان المبارک ۱۴۰۸ھ میں عمرہ کی سعادت حاصِل ہوئی۔ اور اسی رمضان المبارک کی آخر ی جمعرات دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں دعا کرانے کی سعادت بھی ملی۔ دوسرے دن جمعۃ الوداع تھا، وہ سنتوں بھرے اجتماع کی تشہیر کیلئے گھر سے نکلے، گھر پرعمامہ اور کپڑے نکلواکر رکھے کہ واپسی پرغسل کرکے پہنوں گا۔مگر کم و بیش 00: 11 بجے روزے کی حالت میں پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے جمعۃالوداع کے روز عین عالَمِ شباب میں انتقال فرماگئے۔

       عبدالقادر عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی صرف پندرہ دن قبل ہی عمرے کی سعادت پا کر لوٹے تھے ۔ ان کے بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ ایک بار عبدالقادربھائی کو سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت کی سعادت ملی، سرکار صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، ’’ الیاس قادری کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ جو تم نے ’’الوداع تاجدار مدینہ‘‘ والا قصیدہ لکھا ہے۔ وہ ہمیں بہت پسند آیا ہے اور کہنا کہ اب کی بار جب مدینے آؤ تو کوئی نئی  ’’الوداع‘‘ لکھنا اور ممکن نہ ہو تو وہی الوداع سنا دینا۔‘‘

        ایک اسلامی بھائی نے بتایا کہ چند سالوں بعد مرحوم عبدالقادرعطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی کے بڑے بھائی کی شادی کے سلسلے میں اجتماع ذکرونعت جاری تھا۔ نعت خواں نے کچھ اسطرح کہا کہ ـ’’خوشی کا موقع ہے ہمیں مرحوم عبدالقادر بھائی کو نہیں بھولنا چاہیے وہ ایک نعت بڑے شوق سے سنتے تھے اور اسی نعت کوسننے کے دوران انہیں سرکارِمدینہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت بھی ہوئی تھی۔ پھر نعت خواں نے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا لکھا ہوا پرُ سوز کلام پڑھنا شروع کیا ۔جس کا ابتدائی شعر تھا      ؎   

آیا ہے بلاوا پھر ایکبار مدینے کا

پھر جا کے میں دیکھوں گا دربار مدینے کا

                                                نعت جاری تھی کہ اچانک پیچھے سے آواز آئی اے عبدالقادر! اے عبدالقادر! میں نے مڑ کر دیکھا تو عبدالقادر عطاری بھائی کے والد ہاتھ پھیلائے کسی کو اپنے بازؤوں میں لینے کیلئے بڑھ رہے تھے ۔ دو مبلغین نے انہیں تھاما ہوا تھا، وہ روتے ہوئے کہنے لگے خدا کی قسم! ابھی عبدالقادر یہاں کھڑا تھا۔ شاید ہی کوئی آنکھ ہو ، جو نم نہ ہوئی ہو۔ شرکاء پر رقت طاری تھی ، بعد میں معلوم ہوا کہ دورانِ اجتماع ایک اسلامی بھائی کو سرکارِمدینہصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت ہوئی۔ آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’اس اجتماع میں جو بھی شریک تھا، اللہ   عَزَّ وَجَلَّ نے سب کی بخشش فرمادی۔‘‘اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

خوش نصیب عاشِقانِ رسول کو بِشارتِ عُظمٰی مبارک ہو!  اللّٰہُ ربُّ العزَّت  عَزَّ وَجَلَّ  کی رَحمت پر نظر رکھتے ہوئے قَوی امّید ہے کہ جن بختوروں کیلئے یہ مَدَنی خواب دیکھا گیا ہے اِنْ شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ اُن کا خاتمہ ایمان پر ہو گا اور وہ مَدَنی آقا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے طُفیل جنتُ الفردوس میں آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پڑوس پائیں گے ۔تاہم یہ یاد رہے! کہ اُمَّتی جو خواب دیکھے وہ شرعاً حُجَّت نہیں ہوتا، خواب کی بِشارت کی بنیاد پر کسی کو قَطعی جنّتی نہیں کہا جا سکتا ۔

(6)عطّار کا پیارا

     حاجی محمد مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی جو کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ نعت خواں اور دعوت اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگراں تھے کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد انتقال فرماگئے۔  (اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ   ) آخری وقت میں جو اسلامی بھائی ان کے پاس موجود تھے ان کا کہنا ہے کہ رات کے وقت حاجی محمد مشتاق عطاری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی کی طبیعت بگڑی اور حالت غیر ہونے لگی تو آپ  رحمۃاللہ  علیہنے ارشاد فرمایا کہ میرا رخ قبلے کی سمت کردو  ۔ آپ کے حکم کے مطابق آپ کا رخ قبلہ کی جانب کردیا گیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ آنکھیں بند کئے دُرُود و سلام اورکَلِمَہ طَیِّبَہ کا ورد کرنے لگے۔ کافی دیر تک آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اسی طرح ذکْر و دُرُود میں مصروف رہے اور بلند آواز سے  کَلِمَۂ طَیِّبَہ   لَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہ (صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پڑھتے پڑھتے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ پر نزع کا عالم طاری ہوا اور کچھ دیر بعدآپکی روح اس فانی دنیا سے کوچ کرگئی۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ   آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی قبر مبارک کے احاطے میں



Total Pages: 8

Go To