Book Name:Murda Bol Utha

گیاوکیونکہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   سلسلہ عالیہ قادِریہ رضویہ میں مُرید کرتے ہیں اورقادِرِی سلسلے کے عظیم پیشوا حضور سیدنا غوث الاعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ قیامت تک کے لئے (بفضل ِ خدا عَزَّوَجَلَّ) اپنے مریدوں کے توبہ پر مرنے کے ضامن ہیں ۔   (بہجۃ الاسرار، ص۱۹۱، مطبوعۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

         ابھی میں نے یہ سوچا ہی تھا کہ اچانک میرے بھائی نے آنکھیں کھول دیں ۔یہ دیکھ کر مارے خوشی کے ہم پر سکتے کا عالم طاری ہوگیاکہ وہ زندہ تھا۔ وہ بڑے پُرسکون انداز میں یوں والدہ سے عرض کرنے لگا  : ’’ امّاں ! شکوہ مت کرنا۔‘‘ پھرپانچ مرتبہ کہا ، اللہ  بہت بڑا ہے، اور بلند آواز سے پڑھا اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط پھر بلند آواز سیکَلِمَۂ طَیِّبَہ  لَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) پڑھ کرذِکْرُ اللّٰہ ( عَزَّوَجَلَّ)  شروع کردیا، پورا کمرہ  اللّٰہ، اللّٰہ، اللّٰہ کے ذِکْر سے گونجنے لگا۔ اس دوران ڈاکٹر، اسپتال کا عملہ اور دیگر افراد بھی بھائی کو بولتا دیکھ کر جمع ہوچکے تھے اور حیرت کے ساتھ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول اورپیرِ کاملسے مرید ہونے کی بَرَکات کے ایمان افروز نظارے کررہے تھے۔ آہستہ آہستہ بھائی کی آواز مدہم ہوتی چلی گئی اور کچھ ہی دیر بعدمیرے بھائی کامران عطاری  علیہ رحمۃ الباری نے کَلِمَۂ طَیِّبَہ لَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پڑھ کر ذکرُاللہ  کرتے کرتے دم توڑ دیا۔ یہ ایمان افروز منظر دیکھ کر وہاں پر موجود اکثر لوگوں کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں ۔  

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کَلِمَۂ طَیِّبَہکا وِرْد کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونے والے َ  محمدکامران عطاری  علیہ رحمۃ الباری اس زمانے کے سلسلۂ عالیہ قادِریہ رَضَوِیہ عطاریہ کے مشہور بُزُرگ شیخِ طریقت، امیرِاَہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے مرید اور تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی‘‘  کے مَدنی ماحول سے وابستہ تھے۔اس ایمان افروز سچی حکایت سے معلوم ہوا کہ کسی  ولیِ کامل کے دامن سے وابستگی میں دنیا وآخرت کی ڈھیروں بھلائیاں پوشیدہ ہیں ۔

   میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ماضی قریب میں رُونما ہونے والے عاشقانِ رسول کی دنیا سے ایمان افروز رخصتی کے بہت سے سچے واقعات ہیں ، ان میں سے مزید 11منتخب واقعات ملاحظہ ہوں ۔

(2)آخری وقت کلمہ نصیب ہوگیا

        صوبہ مہاراشٹر(ضلع ناسک تعلقہ ڈوڈانچا) ناگپور(تاجپور شریف ہند) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ ماہ اپریل2007ء کو تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا ایک مدنی قافلہ سنّتوں کی تربیت کیلئے ضلع ناسک تعلقہ ’’ڈوڈانچا‘‘ کی جامع مسجد میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ قیام پذیر تھا۔ شرکائِ قافلہ میں سے کچھ اسلامی بھائی مسجد کے سامنے ہوٹل پر ’’چوک درس‘‘ دینے پہنچے اور  امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کی مشہورِ زمانہ تالیف ’’فیضانِ سنّت‘‘  (جس کے فیضان سے لاکھوں مسلمانوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا ہوا )کا درس شروع ہوا۔ ذکراللہ  ( عَزَّوَجَلَّ) کے موضوع پر بیان ہورہا تھاجس میں بتایا جارہا تھا کہکَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ(صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)  کے کس قدر فضائل ہیں ۔ ہوٹل کا مالک بھی درس میں شریک تھا۔ایک ولیِ کامل کی تحریرتاثیر کا تیر بن کر اسکے قلب میں ایسی پیوست ہوئی کہ بے ساختہ اس کی زبان پربآوازِ بلندکَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )  جاری ہوگیا۔وہ کافی دیر تک کَلِمَۂ طَیِّبہکا وِرْدکرتا رہا۔اب اس کا وقت عاشِقانِ رسول کی صحبت میں گزرنے لگا۔ کچھ ہی دنوں بعد یہ اسلامی بھائی بیمار ہوکر ہسپتال میں داخل ہوگئے۔ علاج ہوا مگر مرض میں اِفاقے کے بجائے شدت بڑھتی چلی گئی ۔پھر انہوں نے بلند آواز سے کَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پڑھنا شروع کردیا اوراسی طرح کَلِمَۂ طَیِّبہ پڑھتے پڑھتے انہوں نے ہمیشہ کیلئے آنکھیں موند لیں ۔

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(3) عطاریہ اسلامی بہن

          بلوچستان کے مشہور شہرکوئٹہ کے مبلغِ دعوتِ اسلامی کی والدہ جو امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   سے مرید تھیں ۔انہیں اپنے پیر و مرشد سے بے حد عقیدت تھی۔ وہ نماز روزے کی پابند اور با اخلاق خاتون تھیں ۔ ایک روزاچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی جس پر انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ان پر غشی طاری تھی مگر راستے میں جیسے ہی ہوش آیا تو فوراً سورۃ یٰسین شریف اور دُرود ِ تاج کا وِرد شروع کردیا۔جب تک ہوش میں رہیں وِرد جاری رہا، پھر دوبارہ بے ہوشی طاری ہوگئی۔پھر اچانک ہوش میں آئیں اور سیدھی جانب رُخ کیا اور آہستہ سے کہاکہ اس طرف ہٹ جاؤ یہاں سبز عمامے والے بیٹھے ہیں ۔ پِھراچانک کمرے میں خوشگوار خوشبو مہک اٹھی جو سب نے واضح طور پر مَحسوس کی۔ پھر ان کی والدہ نے سب کے سامنے بلند آواز سے کَلِمَۂ طَیِّبَہ  لَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ

( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پڑھا اور ان کی روح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کر گئی۔

اللّٰہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اَہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(4)خوش نصیب مرید

                                                 باب الاسلام سندھ( میر پورخاص) کے مقیمحاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی  امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   سے طالب تھے۔ عمر کم وبیش 70 سال تھی۔ نمازو روزے



Total Pages: 8

Go To