Book Name:Tazkira e Ameer e Ahlesunnat Qist 1

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُودِ پاک کی فضیلت

     شیخِ طریقت،امیرِ اَہلسنّت، با نیٔ دعوتِ اِسلامی، حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ’’تذکرۂ اِمام احمد رضا ‘‘کے صفحہ 1پرنقل کرتے ہیں : رَحْمتِ عالَم ، نورِ مجَّسم، شاہِ بنی آدم ، شفیعِ اُمَم ، رَسُولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ شَفاعت نشان ہے۔ ’’جو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھے گا میں اُس کی شَفاعت فرماؤں گا۔‘‘ (القولُ البدیع ص ۱۱۷ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 مُبارَک ہستیاں

     اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ   اسلام ایساسچا اورکامل دین ہے جوقِیامت تک کے لئے قابلِ عَمَل ہے۔ جب بھی اس کے نام لیواؤں پر آزمائشکی آندھیاں چلیں ، نئے نئے فتنے ظاہرہوئے اورگمراہی کے بادل چھانے کے ساتھ ساتھ بے راہ رَوی اپنی بجلیاں گرانے لگی،بَدعقید گی  کی دعوت عام ہونے کے باعث لوگ نیکی کے راستے سے دُور ہونے لگے تو اللّٰہرَبُّ الْعِزَّتنے دین اسلام میں پیدا ہونے والے اس بگاڑ کو ختْم کرنے اور اپنے مَحبوب،دانائے غیوب ،مُنَزَّہٌ عَنِ العیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سنّتوں کو زندہ کرنے کیلئے ہَرہَر دور میں اس اُمَّتِ مَرحومہ کو ایسی ہستیاں عطا فرمائیں ،جو علْم و عَمَل اورتقویٰ وپرہیزگاری کے انوار سے منوّر ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں انقلاب برپا کرنے کی مجاہِدانہ صِفات سے بھی آراستہ تھیں ۔

         جب معاشرہ ان کی تجدیدی کوششوں کے خوشبو دار مَدَنی پھولوں سے معطّر ہونا شروع ہواتوفتنے دُور ہونا شروع ہوگئے اور گمراہی کے بادل چھٹنے لگے ،بے راہ روی کی طوفانی شدت میں کمی آگئی ،بے عملی کے سیلاب کا زور ٹوٹنے لگااورشجرِاسلام پھر سے سرسبزوشاداب ہوکر لہلہااُٹھا۔ہرطرف سنّتوں کی بہار آگئی ، رُوحانیت کے پھول کِھل اُٹھے،علم کے چشمے پھوٹ نکلے ،عمل کے دریا بہنے لگے اور عاشقانِ رسول‘ گلستانِ اسلام کے مہکتے پھول ’’اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اصلاح‘‘کے مقدس جذبے کے تحت سنّتوں کی خوشبو ہَرسُو پھیلانے لگے۔   

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ   اِحیائے سنّت و بَقائے اسلام کے لیے انقلابی جِدوجَہد کرنے والی ایسی شخصیات ہر صدی میں اپنا فَیضان عام کرتی ہیں جیسا کہ  حضرت سیدنا ابو ہُریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور سراپا نور، فیض گنجور،شاہ ِغیور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے،’’اِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَأسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا ترجمہ :بے شک  اللہ تَعَالٰی اس امّت کے لیے ہر صدی (سوسال) کے سِرِے پر ایسے شخص کو بھیجے گا جو اس دین کی تجدید کرے گا ۔ (سنن ابوداؤد،الحدیث ۴۲۹۱ ج۴ ص۱۴۸ )

        شیخ الاسلام بدرُالدین اَبدال  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں ، ’’عُموماً ایسا ہی ہوتا ہے کہ صدی کے ختْم ہوتے ہوتے علمائے امّت بھی ختْم ہوجاتے ہیں ۔دینی باتیں مٹنے لگتی ہیں ، بدمذہبی اوربِدْعَت ظاہر ہوتی ہے ،اس واسطے دین کی تجدید کی ضَرورت پڑتی ہے ۔ اس وقت  اللہ تَعَالٰی ایسے عالم کو ظاہر کرتا ہے جو ان خرابیوں کودور کردیتاہے اوران برائیوں کو سب کے سامنے علی الاعلان بیان کر کے دین کو از سرِ نو نیا کردیتا ہے ۔وہ سَلَف صالحین کا بہتر عِوَض ، خیر الخلف ، نعم البدل ہوتاہے ‘‘ (رسالہ مرضیہ فی نصرۃ مذہب الاشعریۃ  بحوالہ حیات اعلی حضرت ج۳ ص۱۲۶ )   

        تجدیدِ دین کا معنی بیان کرتے ہوئے خلیفۂ اعلیٰ حضرت ،مَلِکُ الْعُلَماء ، حضرت علامہ محمد ظفرالدین بِہاری علیہ رحمۃالباری فرماتے ہیں : ’’تجدید کے معنٰی یہ ہیں کہ ان میں ایک صفت یا صفتیں ایسی پائی جائیں ،جن سے امّت محمدیہ علی صاحبہا افضْل الصلوۃ والتسلیم کو دینی فائدہ ہو ۔جیسے تعلیم وتدریس ، وعظ، امر بالمعروف ، نہی عن المنکر، لوگوں سے مکروہات کا دفع، اَہلِ حق کی اِمداد ۔ ‘‘ (حیات اعلی حضرت، ج۳ ،ص۱۲۴ )

سَلَف صالِحین  کے مَدَنی کام کا انداز

        اگر ہم اپنے اَکابرین کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ نیکی کی دعوت عام کرنے والے اکثر بزرگانِ دین کا طریقہ یہی رہا کہ انہوں نے اپنی حکمت و فِراست



Total Pages: 12

Go To