Book Name:Pani Kay Baray Main Aham Malomat

دُشوار، تاہَم سبز رنگ کا اَدَب دِل میں   ہونا، مَحض سرکارِ نامدار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے سبز گنبد شریف کی نِسبَت کے سَبَبْ ہے ۔     اِن شَائَ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّکرم بالائے کرم ہوگا ۔ [1]؎

اے عشق تِرے صدقے جلنے سے چھُٹے سَستے

                جو آگ بُجھادے گی وہ آگ لگائی ہے (حدائق بخشش شریف)

پیلے رنگ کا جُوتا پہننے کی فضیلت

سُوال : آپ پیلے رنگ کا ہی جُوتاکیوں   اِسْتِعْمال فرماتے ہیں   جبکہ سیاہ رنگ کے جُوتے سے منع فرماتے ہیں   ؟

جواب : پیلے رنگ کا جُوتا اِسْتِعْمال کرنے میں   حِکمت ہے کہ اس سے غَموں   میں   کمی واقع ہوتی ہے جبکہ سیاہ  جُوتے غم کاباعِث ہوتے ہیں   ۔

اللّٰہُ رحمٰن عَزَّوَجَلَّقراٰنِ مجید میں   اِرشاد فرماتاہے  :

اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُۙ-فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ(۶۹)(پ۱ البقرۃ ۶۹)

ترجَمۂ کنزالایمان : وہ ایک پیلی گائے ہے جس کی رنگت ڈَہڈَہاتی[2]؎دیکھنے والوں   کو خوشی دیتی  ۔

تفسیرِ رُوحُ المعانی میں   اس آیت کے تحت ہے : ’’جمہورمُفَسِّرِیْن رَحِمَہُم اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن اس جانب اِشارہ فرماتے ہیں   کہ زرد(یعنی پیلا ) رنگ خُوشنُما رنگوں   میں   سے ہے  ۔ اِسی بِنا پر حضرتِ سیِّدُنا مولیٰ مُشْکلکُشا علیُّ المرتضٰی شیرِخُدا  کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم زَرد رنگ کے جُوتے پہننے کی ترغیب دلاتے اور فرماتے  : مَنْ لَّبِسَ نَعْلاً اَصْفَرَ قَلَّ ھَمُّہ یعنی جس نے پیلے رنگ کا جُوتا پہنا اُس کے غم کم ہوں   گے ۔ (رُوْحُ الْمَعَانی ج۱ص۳۹۲داراحیاء التراث العربی بیروت)

حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن زبیر اور یحییٰ بن کثیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے سیاہ جُوتے پہننے سے منع فرمایا کیوں   کہ یہ غَم کا باعِث ہوتے ہیں    ۔ (تَفْسِیْرِقُرْطَبِی ج۱ص ۳۶۳دارالفکربیروت)

میرے آقائے نعمت، اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنّت ، مجدِّدِ دین و مِلّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’سیاہ جُوتا رنج اور زرد خوشی لاتا ہے  ۔ ‘‘(حَیاتِ اَعلٰیٰ حَضْرَت ج۳ص۹۷مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

یاد رہے کہ سیاہ جُوتے کے اِستِعمال سے منع فرمانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں   کہ سیاہ جُوتے کا اِستِعمال ناجائز وحرام ہے ۔ اِستِعمال کرسکتے ہیں   مگر اِجتِناب کرنا (یعنی بچنا) مُناسِب معلوم ہوتاہے  ۔

کالے موزے پہننا

سُوال :           تو کیا کالے موزے بھی نہ پہنے جائیں  ؟

جواب :            کالے موزے اور کالے جوتے میں  فرق ہے ۔  فتاوٰی دیداریہ جلد اول ص 665پر ہے :  فرعون کے موزے سرخ رنگ کے تھے ، ہامان کے موزے سفید رنگ کے تھے اور سیاہ رنگ کے موزے علماء کے موزے ہوتے ہیں  ۔  ( فتاوٰی عالمگیری ج۵ ص۳۳۴)

 

چائے وغیرہ میں   مکھی گرجائے تو کیاکریں  ؟

سُوال :           اگرچائے کے کپ میں   مکّھی گِرجائے تو کیاچائے پھینک دیں  ؟

جواب :            ہرگزنہ پھینکئے بلکہ حدیثِ پاک پرعمل کرتے ہوئے مکھی کو باہَر پھینک دیجئے اورچائے کواِستِعمال میں   لایئے ۔ حدیثِ پاک میں   طبیبوں   کے طبیب ، اللّٰہُ مُجیب عَزَّوَجَلَّ کے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اِرشادِ مُشکبار ہے : ’’جب کھانے میں   مکھی گِرجائے تو اُسے غوطہ دے دو کیونکہ اس کے ایک بازومیں   شِفاہے اور دوسرے میں   بیماری، کھانے میں   گرتے وقت پہلے بیماری والا بازؤڈالتی ہے لہٰذا پُورا ہی غوطہ دیدو ۔  (سُنَن اَبُودَاوٗدج۳ص۵۱۱ حدیث۳۸۴۴داراحیاء التراث العربی بیروت )

حکیمُ الْامّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّاناس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں   : ’’اِس فرمانِ عالیشان سے معلوم ہو رہا ہے کہ مکھی نَجِس(ناپاک) نہیں   ، پاک ہے ۔ چونکہ اس میں   بہتا ہوا خون نہیں اسلئے  پانی ، دودھ، شوربے وغیرہ میں   ڈوب کر مر جانااسے نجس (ناپاک) نہیں   کرتا  ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف یہ احتمال کہ شاید مکّھی نَجا ست پر بیٹھ کر آئی ہو، شاید اِس پر گندگی لگی ہو اسلئے یہ شوربا ناپاک ہو گیا ہو، مُعتبر نہیں   کہ شریعت ظاہِر پر ہے ۔ (مزید فرماتے ہیں   : ) حدیث بالکل ظاہِری معنیٰ میں   ہے ، کسی تاویل وتوجیہ کی ضرورت نہیں    ۔ اللہ تعالیٰ نے بَہُت سے جانوروں   میں   زہر وتِریاق(علاج) جمع فرمایا دیا ہے ، شہد کی مکھی کے منہ سے شہد نکلتا ہے جو بیماریوں   کی شِفاہے اور اس کے ڈنگ سے زَہر نکلتا ہے جو بیما ری ہے ، بچّھوکے ڈنگ میں   زہر ہے اورخود بچّھو کے جسم کی راکھ زہر کا علاج ہے ۔  دوسری روایت میں   ہے کہ مکھی پہلے زہریلا بازو ڈالتی ہے  ۔ تم دوسرے بازوکو غوطہ دے کر پھینکو ۔ زہریلا بازو پہلے ڈالنا اس کی فطری بات ہے  ۔ دیکھو چیونٹی کو ربعَزَّوَجَلَّ نے کیسی کیسی با تیں   سکھا دی ہیں  ۔ گندُم جمع کرتی ہے ، اگر بھیگی گندم ہو تو اُسے خشک کرتی ہے پھر ایسے طریقہ پر رکھتی ہے کہ آئندہ نہ بھیگ سکے ، دو ٹکڑے کا ٹ کر رکھتی ہے تا کہ اُگ نہ جا ئے ، دھنیہ کو نہیں   کا ٹتی کہ وہ ثابِت بھی نہیں   اُگتا ۔  پاک ہے وہ  ربعَزَّوَجَلَّبے نیاز جس نے بے عقل  جانوروں   کو یہ عقل بخشی  ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حُضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہر مخلوق کی خاصیّت سے خبردار ہیں   ، حاکم بھی ہیں  ، حکیم بھی ہیں ۔   (مِرْاٰۃُ الْمَناجِیْح ج۵ص ۶۶۴ ملخّصاً ضیاء القرآن مرکزالاولیاء لاہور)

یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے

 



[1]     یہ سب شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے سبز سبز گنبد کی نِسبَت کے سَبَب فرمایا ہے وَرْنہ سبزہ زار میں ٹہلنا اس پر بیٹھنا نیزمذکورہ سبزاَشیاء کا اِستِعمال بِلاکراہَت جائز ہے ۔           مجلس مَدَنی مذاکرہ

[2]     ڈہڈہاتی رنگ یعنی بَہُت شوخ اور بھڑکیلا رنگ ۔



Total Pages: 9

Go To