Book Name:Pani Kay Baray Main Aham Malomat

سُوال :           نَفْل نماز شروع کردی پھر کسی وجہ سے فاسِد ہوگئی تو کیا کرنا چاہئے ؟

جواب :          دُرِّمُخْتَارمیں  ہے  : ’’ نفل نماز قصداً شروع کرنے سے واجب ہو جاتی ہے کہ اگر توڑ دے گا قضا پڑھنی ہوگی اور اگر قَصْدًا(جان بوجھ کر) شروع نہ کی تھی مثلاً یہ گمان تھا کہ فَرْض پڑھنا ہے اور فَرْض کی نیَّت سے شروع کیا پھریادآیا کہ پڑھ چکا تھا تو اب یہنَفْل ہے اور توڑ دینے سے قضا واجِب نہیں   بشرطیکہ یاد آتے ہی توڑ دے اور یاد آنے پر اس نَماز کو پڑھنا اِختیار کیا تو(اب) توڑ دینے سے قضا واجِب ہوگی ۔ ‘‘   (اَلدُّرُّالْمُخْتارج۲ص۵۷۴تا۵۷۶دارالمعرفۃ بیروت)

قضا نمازیں   ذِ مّے ہوں   تونوافِل پڑھنا کیسا؟

سُوال :           جس کے ذِمّہ َّ قَضا نمازیں   ہوں   کیااُس کے نوافِل مقبول ہیں  ؟

جواب :            جب تک کسی شخص کے ذِمّہ فرض باقی رہتاہے ، ا س کاکوئی نَفْل قَبول نہیں   کیاجاتا ۔ جیساکہ میرے آقائے نعمت ، اعلیٰ حضرت، امامِ اَہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنی شہرۂ آفاق کتاب فتاوٰی رضویہ شریف مُخرَّجہ جلد 10 صَفْحَہ 179 پر نَقْل فرماتے ہیں   کہ جب اَمیرُالْمؤمنین حضرتِ سیِّدنا صدیقِ اکبر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نَزْع کا وقت ہوا اَمیرُالْمؤمنین فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بُلا کر فرمایا : اے عمر!( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنا اور جان لوکہ اللّٰہ تعالیٰ کے کچھ کام دن میں   ہیں   کہ انھیں   رات میں   کرو تو قَبول نہ فرمائے گا اور کچھ کام رات میں   کہ انھیں   دِن میں   کرو تو مَقْبول نہ ہوں   گے اور خبردار رہو کہ کو ئی نَفْل قَبول نہیں   ہوتا جب تک فرض ادا نہ کر لیا جائے  ۔ (حِلْیَۃُ الْاَوْلِیاء لِاَبِی نُعَیْم ج۱ص۷۱حدیث ۸۳دارالکتب العلمیۃ بیروت)

حُضُورپُر نور سیِّدُنا غوثِ اعظم مولائے اَکرم حضرتِ شیخ مُحِیُّ المِلَّۃ والدِّین ابو محمدعبدُالقادِرجیلانیقُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی  اپنی کتاب مُسْتَطاب ’’ فُتوحُ الْغَیب‘‘ میں   ایسے شَخْص کی مثال جو فرض چھوڑ کرنَفْل بجا لائے یُوں   بیان فرماتے ہیں    : ا س کی کہاوت ایسی ہے جیسے کسی شَخْص کوبادشاہ اپنی خدمت کے لئے بُلائے یہ وہاں   تو حاضِر نہ ہوا اور اس کے غُلام کی خدمت گاری میں   موجُود رہے ۔ نیزفرماتے ہیں   : اگر فرض چھوڑ کر سُنَّت ونَفْل میں   مَشْغُول ہو گا ، یہ قَبول نہ ہوں   گے اور خَوار(ذلیل) کیا جا ئے گا ۔ (فُتُوْحُ الْغَیْب(مُتَرجَم) ص۵۱۱صفہ اکیڈمی مرکز الاولیاء لاہور)

حضرتِ شیخ الشیوخ اِمام شہابُ الْمِلّۃ والدِّین سُہروردی قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز’’عوارِف شریف‘‘ میں   حضرتِ خواص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے نَقْل فرماتے ہیں   : ہمیں   خبرپَہُنچی کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کو ئی نَفْل قَبول نہیں   فرماتا یہاں   تک کہ فَرْض ادا کیا جا ئے  ۔ اللّٰہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے فرماتا ہے :  کہاوت تمہا ری ، بَدْبندہ (اُس بُرے شخص)کی مانَنْدہے جو قَرْض ادا کرنے سے پہلے تُحْفَہ پیش کرے ۔ (عَوَارِفُ الْمَعارِف ص۱۹۱دارالکتب  العلمیۃ بیروت )

میرے آقااعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولاناشاہ اِمام احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : ’’جب تک فَرض ذِمَّہ پر باقی رہتاہے کوئینَفْل قَبول نہیں   کیاجاتا ۔ (اَلْمَلْفُوْظ حصّہ اوّل ص۷۰ فرید بک سٹال مرکزالاولیاء لاہور)

ہاں  ! جب وہ بندہ اپنے ذِمّہ باقی تمام فرائض سے بَری ہوجاتاہے تو بارگاہِ ربُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ سے اُمّید ہے کہ اس کے نوافل بھی مَقْبول ہو جائیں   گے کہ قبولیّتِ نوافل میں   جوچیز رُکاوٹ تھی ، زائل ہوگئی ۔

جیسا کہسرکارِ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مزید فرماتے ہیں   : ’’اِن سب کی بھی مَقْبولی کی اُمید ہوگی کہ جس جُرْم کے باعِث یہ قابلِ قَبول نہ تھے ، جب وہ زائل ہوگیا تو اِنہیں   بھی باذنِ اللہ تعالیٰ شرفِ قَبول حاصل ہوگیا ۔ ‘‘(فتاوٰی رَضَوِیّہ مُخَرَّجہ ج ۱۰ص۱۸۲مرکزالاولیاء لاہور)

ایک مَدَنی اِلتجا

اس لئے مَدَنی اِلتجا ہے کہ اگرآپ کی نمازیں   فوت ہوئی ہیں   تو نوافل کی جگہ بھی فوت شُدہ نَمازیں   ہی پـڑھیئے تاکہ جس قَدَر جلدمُمْکِن ہو اپنے ذِمّہ باقی فرائض سے سَبُکْدوش ہوسکیں   کہ قضا نَمازیں   نوافل سے زیادہ اَہم ہیں   ۔

صَدْرُالشَّرِیعہ، بَدْرُالطَّرِیقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں   : ’’قضا نَمازیں   نوافِل سے اَ ھَم ہیں   یعنی جس وقت نَفْل پڑھتا ہے انہیں   چھوڑکران کے بدلے قضائیں   پڑھے کہ بَرِیُٔ الذِّمَّہ ہو جائے اَلْبَتَّہ تراویح اوربارہ رکعتیں  (فجرکی2سنتیں  ، ظہرکی6 سنتیں  ، مغرب کی2سنتیں  ، عشاء کی 2سنتیں   ) سُنَّتِ مُوکِّدَہ نہ چھوڑے ۔   (بہارِشریعت حصّہ ۴ص ۵۵مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

خلیلِ ملّت حضرتِ علَّامہ مولانا مفتی محمد خلیل خان قادری برکاتی عَلَیْہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباقیاسی کے تحت فرماتے ہیں  : ’’اور لَو لگائے رکھے کہ مولا عَزَّوَجَلَّ اپنے کرمِ خاص سے قضا نَمازوں   کے ضِمْن میں   ان نوافل کا ثواب بھی اپنے خزائنِ غیب سے عطا فرمادے ، جن کے اَوقات میں   یہ قضا نَمازیں   پڑھی گئیں   ۔ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ  ۔

(سُنِّی بِہِشْتِی زِیْوَرص۲۴۰فریدبک سٹال مرکزالاولیاء لاہور)

سبزچپل پہنناکیسا؟

سُوال :           سبز چپل پہننا جائز ہے یاناجائز؟

جواب :            جائز ہے ۔  اَلْبَتَّہ سبز سبز گنبد کی نِسبَت کاخیال کرتے ہوئے کوئی اَدَباً نہ پہنے تو خوب ۔ مجھے تو سبزW.C، سبز بَیسن نیز اِستِنجاخانہ میں   اگر سبز لوٹا ہو تو اُسے اِسْتِعْمال کرنے کو دِل نہیں   کرتا بلکہ سبز چادر، سبز کارپٹ، سبزگھاس وغیرہ پربیٹھنا یا اِن پر چلنا اَلْغَرَض سبز رنگ کو قَدْموں   تَلے روندنا بھی میرے دِل پر گِراں   گزرتاہے اگرچِہ بارہا مجبوری ہوتی ہے اور بچنا



Total Pages: 9

Go To