Book Name:Pani Kay Baray Main Aham Malomat

سُوال :           نابالِغ سے پانی بھرواناکیساہے ؟ کیااُستاد اس سے پانی بھروا سکتا ہے ؟

جواب :            والِدَین یاسیٹھ جس کا یہ مُلازِم ہے ، کے سوا کسی کے لئے نابالغ سے پانی بھروانا جائز نہیں  اورنابالِغ کا بھرا ہوا پانی جو کہ شرعاً اس کی مِلک  ہوجائے کسی اور کیلئے اس کو اِستِعمال میں   لانا جائز نہیں   ۔ (سیٹھ بھی صرف اجارے کے اوقات ہی میں   بھروا سکتا ہے ) اُستادکے لئے بھی یہی حکم ہے کہ نابالِغ شاگرد سے پانی نہیں   بھروا سکتا نیز اس کے بھرے ہوئے کوکام میں   بھی نہیں   لاسکتا ۔ صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی   عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں  : ’’نابالغ کا بھرا ہوا پانی کہ شرعاً اس کی مِلک ہو جائے ، اسے پینا یا وُضُو یا غُسْل یا کسی کام میں   لانا، اس کے ماں   باپ یا جس کا وہ نوکر ہے اس کے سوا کسی کو جائز نہیں  ، اگرچہ وُہ (نابالِغ)اِجازت بھی دے دے ، اگر وُضُو کر لیا تو وُضُو ہو جائے گا اور گنہگار ہو گا، یہاں   سے مُعَلِّمِیْن (یعنی اَساتِذہ)کو سَبَق لینا چاہیے کہ اکثر وہ نابالغ بچوں   سے پانی بھروا کر اپنے کام میں   لایا کرتے ہیں   ۔ (بہارِشریعت حصّہ ۲ص۵۶مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

نابالِغ خوشی سے پانی بھردے تو لیناکیسا؟

سُوال :           نابالِغ اگر اپنی خوشی سے پانی بھرکر کسی کو وُضُو کے لئے دے ، تو لے سکتا ہے یا نہیں  ؟

جواب :            نابالِغ کا بھرا ہواپانی کہ شرعاً اس کی مِلک ہوجائے تو نابالِغ اپنی مِلک کو ھِــبَہنہیں   کرسکتا(تحفۃََ نہیں   دے سکتا)حتّی کہ اپنی خوشی سے کسی کودے جب بھی وہ نہیں   لے سکتا ۔  ہاں   والِدَین یاجس کاوہ نوکر ہے اُس سے پانی بھروا سکتے ہیں  ۔ صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں    : ’’والِدَین کے سِوا دوسرے کسی کو بچوں   سے مُفت پانی بھروانا جائز نہیں   ، نہ وُضُو کیلئے ، نہ اور کسی کام کیلئے کہ کنویں   کا پانی جس نے بھرا اس کی مِلک ہو جا تا ہے ۔ لہٰذا بچّہ مالِک ہو گیا اور بچّہ اپنی مِلک کو ہِبہ نہیں   کر سکتا  ۔ لہٰذااگر دوسرے کو اپنی خوشی سے دے جب بھی وہ نہیں   لے سکتا ۔ ہاں   اگر بچّہ اُس کا نو کر ہے اور نوکَری کے وقت میں   پانی بھرایا، بِہِشْتِی (پانی بھرنے والے )کے لڑکے کہ پانی بھرنے کے لئے ماہوار پر رکھے جاتے ہیں  ، ان کا بھرا ہوا پانی اُس شخص کی مِلک ہو گا جس کا نو کر ہے  ۔ (فتاوٰی اَمْجَدِیّہ ج۱ص۱۰مکتبہ رضویہ بابُ المدینہ کراچی)

نابالِغ کا تحفہ

سُوال :           کیا نابالغ اپنی کوئی چیز مَثَلاً ٹافی یا  بسکٹ بخوشی کسی اسلامی بھائی کو تحفے میں   دے تو قبول کرنا جائز ہے ؟

جواب :  قبول کرنا جائز نہیں   ۔

وَسْوَسَۂ شَیْطَان سے بچنے کاآسان ترین عمل

سُوال :           شیطان کے وَسوَسوں   سے بچنے کاآسان ترین عمل کیا ہے ؟

جواب :          وَسْوَسُوْں سے نَجات پانے کا آسان ترین عمل یہ ہے کہ ان کی طرف بالکل اِلتِفات(تَوَجُّہ)نہ کرے اور اللّٰہُقُدُّوْس عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہوئے اپنے کام میں   مگن رہے جیساکہ اللّٰہُ رَحْمٰن عَزَّوَجَلَّ نے قراٰنِ مجید میں   نُور کے پیکر، تمام نبیوں   کے سَروَر، دو جہاں   کے تاجوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو ارشادفرمایا  :

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ(۹۷)وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ(۹۸)

ترجَمۂ کنزالایمان : اور تم عرض کرو، اے میرے رب تیری پناہ شیطان کے وَسْوَسوں   سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں    ۔ (پ۱۸المؤمنون ۹۷ ۔ ۹۸)

شیطان لعین ومردود اِنسان کا اَزَلی دشمن ہے جو اوَّل تو اِنسان کو نیک کام کرنے ہی نہیں   دیتا لیکن اگر بندہ توفیقِ الہٰی عَزَّوَجَلَّسے ہمت کرکے شروع کردے تو وَسوَسوں   کے ذَرِیعے حملہ آور ہوکراسے اللّٰہُ رَبُّ العِزّت اور رسُو لِ رحمت عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اِطاعت  سے روکنے کی بھر پور کو شش کرتا ہے ۔  بندہ جُوں   جُوں  ربّ العزت عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت میں  آگے بڑھتا ہے ، سُنَّتوں   پر عمل پیرا ہوتا ہے اسی قَدَر شیطان کی مخالَفت و عَدَاوَت بھی زورپکڑتی جاتی ہے اور وہ ہَمہ اَقسام کے مَکروفریب کے جال بچھاتا چلاجاتا ہے ۔ یہاں   تک کہ بندہ بسا اَوقات جَہالت کی بنا پر اس کے وَسْوَسوں   کا شکار ہو کر نیکی اور بَھلائی کے کام سے رُ ک جاتا ہے اور یوں   شیطان اپنے مَقْصَد میں   کامیاب ہو جاتا ہے  ۔ ایسے مواقِع پر اِن وساوِس پربالکل تَوَجُّہ نہ دی جائے اورنہ ہی اِن پرعمل کیاجائے ۔  میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ان وساوِس کا علاج یُوں   بیان فرماتے ہیں   : ’’وَسْوَسَہ کی نہ سُننا، اس پر عمل نہ کرنا، اس کے خِلاف کرنا بھی علاجِ وَسْوَسَہ ہے ۔  اس بَلائے عظیم (یعنی شیطان ) کی عادت ہے کہ جس قَدَر اس(یعنی وَسْوَسے ) پر عمل ہواُسی قَدَر بڑھے اور جب قَصْداً اس (کے ڈالے ہو ئے وَسْوَسے )کا خلاف کیاجائے تو بِاِذْنِہٖ تَعَالٰی تھوڑی مُدَّت میں   بالکل دَفْع ہو جائے ۔  حضرتِ سیِّدُناعبد اللہ بن مُرَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں   : شیطان جسے دیکھتاہے کہ میراوَسْوَسَہ اس پرکارگرہوتاہے ، سب سے زیادہ اُسی کے پیچھے پڑتاہے ۔ ‘‘(فتاوٰی رَضَوِیّہ مُخَرَّجہ ج۱ص۷۷۱مرکزالاولیاء لاہور )

وَسْوَسَہ اور اِلہام میں   فرق

سُوال : وَسْوَسَہ اور اِلہام میں  کیافرق ہے ؟

جواب :  بُرے خیالات کو وَسْوَسَہ اور اچّھے خیالات کو اِلْہَام کہتے ہیں   ۔ وَسْوَسَہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے جب کہ اِلہام رحمن  عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ۔ اللّٰہُ رحمٰن عَزَّوَجَلَّ نے ہر اِنسان کے دل پر ایک فرِشتہ مقرَّر کیا ہوا ہے جو اسے نیکیوں   کی طرف بُلاتا ہے اسے مُلْہِم کہتے ہیں   اور اس کی دعوت کو اِلْہَام کہتے ہیں   ۔ اس کے مُقابَلے میں   اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے دل پر ایک شیطان مُسَلَّط کردیا گیا ہے جو بُرائی کی طر ف بلاتا ہے  ۔ اس شیطان کو وَسْوَاس کہتے ہیں   اور اس کی دعوت کو وَسْوَسَہ کہتے ہیں    ۔ مِرقَاۃ اور اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات میں   ہے کہ جُوں   ہی کسی اِنسان کا بچّہ پیدا ہوتا ہے اُسی وقت اِبلیس کے ہاں   بھی بچّہ پیدا ہوتا ہے جسے فارسی میں   ہَمْزَاداور عَرَبی میں   وَسْوَاس کہتے ہیں   ۔ (مِرْاٰۃُ الْمَنَاجِیْح ج۱ص۸۱تا۸۳ مُلَخّصًا ضیاء القرآن مرکزالاولیاء لاھور)

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے بارے میں   وسوسے

سُوال :