Book Name:Pani Kay Baray Main Aham Malomat

اس سے ان لوگوں   کودرس حاصل کرناچاہئے جو نَماز کے لئے تیّاری کرنے میں   سُستی برتتے ہیں   اور جب جماعت قائم ہونے کا وقت ہوتاہے تو دوڑکر، جلدی جلدی وُضُوکرتے ، مسجد میں   وُضُوکے قَطْرے ٹپکاتے ، بھاگتے ہوئے صَفْ میں   شامِل ہو جاتے ہیں   لیکن یہ بات ذِہن میں   رہے کہ یہاں   صرف مسجد میں  وُضُو کے قَطْرے ٹپکانے کا ہی مسئلہ(مَسْ  ۔ ء ۔ لَہ)  نہیں  ، اس کی اِبتداء نَماز میں   سُستی کرنے سے ہوتی ہے کہ اَذان ہوجانے کے بعد بِلا ضَرورت بیٹھے بیٹھے وقت بَرْباد کرتے رہتے ہیں  پھرنَماز کاوقت ہوجانے پر دوڑکر جلدی جلدی وُضُو کرتے ہیں   ایسی صُورت میں   اَعْضائے وُضو کے جن حصّوں   کا دھونا فرض ہے ، بال برابر جگہ بھی خشک رہ گئی تو وُضُونہ ہوگااور جب وضو نہ ہو گا تو نَماز بھی نہ ہوگی ۔  پھرجماعت میں   شامل ہونے کیلئے مسجد میں   اِس طرح دوڑتے ہیں   کہ پاؤں   کی دھمک کی آواز پیدا ہوتی ہے حالانکہ حدیثِ پاک میں   اِس طرح دوڑنے سے منع فرمایا گیا ہے ۔ بسا اَوقات پہلی رکعت سے مَحروم ہوجاتے ہیں  ، تکبیر ِاُولیٰ کی فضیلت تو فوت کرہی چکے اور سُستیوں   کے باعِث بارہابعض کئی رَکْعات مزید فوت ہو جاتی ہیں   بلکہ کئی بار تومعاذاللہ عَزَّوَجَلَّ جَماعت تک کی سعادت سے مَحروم ہو جاتے ہیں   ۔ کاش !ہم سب کواَذان سُن کر ، گفتگواورکام کاج روک کراس کا جواب دینے ، اِطمِینا ن سے وُضُو کرکے مسجد میں   جانے ، ممکنہ صورت میں   تحیِّۃُ الْوُضُوپڑھنے ،  سُننِ قَبلیہ اداکرنے اور پہلی صَفْ میں   تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجَماعت نمازیں   اداکرنے کاجَذبہ نصیب ہوجائے  ۔ اس جَذبہ کو بیدار کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے راہِ خُداعَزَّوَجَلَّ میں   سفرکرنے والے سُنَّتوں   کی تربیّت کے مَدَنی قافلوں   میں   عاشقانِ رسول کے ہمراہ سنّتوں   بھرا سفر کرنے اور روزانہفکرِ مدینہ کے ذریعے مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پُرکرکے ہرمَدَنی ماہ کے اِبتدائی دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں   کے ذِمّہ دار کو جمع کروانے کامَعْمُول بنالیجئے ۔ اِنْ شَآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خوب خوب نیک اَعمال کرکے اپنی آخرت سنوارنے کا جَذبہ نصیب ہوگا ۔

گنّے کے رَس یادُودھ سے وُضُو نہ ہوگا

سُوال :           کیاگَنّے کے رَس (Juice) یا دُودھ سے وُضُو ہوجائے گا؟  

جواب : نہیں   ہو گا ۔

صَدْرُالشَّرِیعہ، بَدْرُالطَّرِیقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں   : ’’کسی دَرَخْت یاپھل کے نچوڑے ہوئے پانی سے وُضُو جائز نہیں   جیسے کیلے کاپانی یا انگور اور اَنار اور تَربُز(تربوز) کا پانی اور گنّے کا پانی(رس) ۔ ‘‘(بَہَارِشَرِیعَت حصّہ۲ص۵۶مکتبۃالمدینہ بابُ المدینہ کراچی)

اِسی طرح دُودھ سے بھی وُضُو کرناجائز نہیں  ۔ ہاں   اگر اس میں   اِتنا پانی مل گیاکہ دُودھ پر غالِب آگیاتو اب اس سے وُضُو کرسکتے ہیں    ۔ چُنانچِہ بہارِ شریعت میں   ہے :  اگر(پانی میں  ) اِتنا دُودھ مل گیا کہ دُودھ کا رنگ غالِب نہ ہوا تو وُضُو جائز ہے ورنہ نہیں  ۔ غالب مغلوب کی پہچان یہ ہے کہ جب تک یہ کہیں   کہ’’ پانی‘‘ ہے جس میں   کچھ دُودھ مل گیا تو وُضُو جائز ہے اور جب اسے ’’ لسّی‘‘ کہیں   تو وُضُو جائز نہیں  ۔   (اَیضاً ص ۵۱)

چھوٹے بچّے کا پیشاب ناپاک ہے

سُوال :           چھوٹے بچے کا پیشاب پاک ہے یا ناپاک؟

جواب :            چاہے بچّہ یابچّی کی عمر ایک دِن یاایک گھنٹہ ہو بلکہ پیدا ہوتے ہی پیشاب کردے ، ناپاک ہے ۔

صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں   : ’’دُودھ پیتے لڑکے اورلڑکی کا پیشاب نَجاستِ غَلِیظہ ہے ، یہ جو اکثر عوام میں  مَشْہُور ہے کہ دُودھ پیتے بچّوں   کا پیشاب پاک ہے ، مَحض غَلَط ہے ۔    (اَیضاً ص ۱۱۲)

کونساپانی نابالِغ کی مِلکِیَّت ہوتا ہے ؟

سُوال :              نابالِغ کونسا پانی بھرنے کے بعداِس کا مالک ہوجاتاہے ؟

جواب :          اس مَسئَلے کی مُتَعدَّدصُورَتیں   ہیں   جو میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنّت، مجدِّدِ دین وملّت مولاناشاہ اِمام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فَتَاوٰی رَضَوِیَّہ مُخَرَّجہ جلد2کے رسالہ ’’عَطَاءُ النَّبِیّ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )‘‘ میں   تَفصِیل سے ذکرفرمائی ہیں   ان میں   سے ایک صُورت یہ ہے کہ وُہ پانی جو کسی کی مِلک نہ ہو اور سب کے لئے مُباح ہو یعنی سب کو بھرنے کی اِجازت ہو تونابالِغ ایساپانی بھرنے سے اس کا مالک ہو جائے گا ۔  مَثَلاً مسجِدکا پانی جو کہ فی نَفسہٖ وَقف نہ ہو جیسے مسجد میں   سرکارِی نَل کے ذَرِیعے آنے والا پانی، زمین کا پانی نیز سرکا ری نَل، سرکاری نَہَر یا تالاب ، دریاؤں   ، جِھیلوں  ، برساتی نالوں   کاپانی مُباح غیرمَمْلُوک ہے یعنی یہ پانی سب کے لئے مُباح(جائز) ہے ، کسی اور کی مِلک نہیں  ۔ لہٰذا جو بھی اوّل بار اس پانی کو بھر لے یا قبضے میں   لے لے تویہ پانی اِسی کی مِلک ہوجائے گا ۔ (ماخوذ ازفتاوٰی رَضَوِیّہ مُخَرَّجہ ج۲ص۴۹۴ ۔ ۴۹۵مرکزالاولیاء لاہور)

نابالِغ کس پا نی کامالِک نہیں   ہوتا؟

سُوال :              نابالِغ کس پانی کا بھرنے کے بعد بھی مالِک نہیں   ہوتا؟

جواب :           اس کی بھی کئی صُورتیں   ہیں  اِن میں   سے عُموماً جو صُورت پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایساپانی جو کسی کی مِلک ہواگرچہ مالِک لوگوں   کے لئے اس کا اِسْتِعْمال جائز بھی کردے ، تب بھی کوئی دوسراخواہ بالِغ ہو یا نابالِغ، اس پانی کا مالِک نہیں   ہوسکتا اورنہ مالِک کی اِجازت کے بِغیر کہیں   لے جاسکتاہے ۔ مَثَلاً میزبان نے مہمانوں   کے لئے جگ یا واٹر کولر میں   بَھروا کر رکھا یا کسی نے سبیل یا سَقایَہ کا پانی خو د بھرایااپنے مال سے بھروایا ایسا پانی لو گوں   کیلئے مُباح مَمْلُوک [1]؎   کہلا تا ہے کہ اس کا پینا جا ئز ہے مگر بِلا اجازتِ مالک لیکرجاناجائز نہیں  ۔ نیز اس پانی کو بالغ بھر ے یا نابالغ ، حکم میں   کچھ فرق نہ پڑے گا کہ پانی لینے والا اس کا مالِک ہی نہیں   ہوتا ۔          (ماخوذ ازفتاوٰی رَضَوِیّہ مخرّجہ ، ج۲ص۴۹۵ ۔ ۵۳۰ )

نابالغ سے پانی بَھرواناکیسا؟

 



[1]    جو شے کسی کی ملک ہو البتہ دوسروں کو استعمال کی اجازت ہو ۔



Total Pages: 9

Go To