Book Name:Pani Kay Baray Main Aham Malomat

 

جواب :          مُـسْـتَـعْـمَـلپانی ناپاک نہیں   ہے ، اِس سے نَجاسَتِ حقیقیَّہ [1]؎    زائل کرسکتے ہیں  ، کپڑے اور برتن وغیرہ بھی دھوسکتے ہیں  ، اس طرح اس سے بَدَن پرلگی ہوئی نَجاسَت بھی دُور کرسکتے ہیں   ۔ اَلْبَتَّہ نَجاسَتِ حُکمیَّہ [2]؎ زائل نہیں   کرسکتے یعنی اس سے وُضُو و غُسْل نہیں   کرسکتے ۔  فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں   : ’’مُـسْـتَـعْـمَـل پانی سے وُضُو کرناجائز نہیں   اَلْبَتَّہ صحیح قول کے مُطابق نَجاستِ حقیقیّہ زائل کر سکتے ہیں   کہ مُطْلَق پانی بذاتِ خود پاک اورنَجاستِ حُکمیہ کوپاک کرنے والا ہے جبکہ مُقَیَّدپانی (جیسے مُـسْـتَـعْـمَـل پانی ) پاک توہے لیکن پاک کرنے  والا نہیں    ۔ ‘‘ (تَبْیِیْنُ الْحَقَائِق  ج۱ص۷۵دارالکتب العلمیۃ بیروت)

کیامُسْتَعْمَل پانی پی سکتے ہیں  ؟

سُوال :           کیامُـسْـتَـعْـمَـلپانی پی بھی سکتے ہیں  ؟

جواب :            فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  نے اس کا پِینا اور اس سے آٹا گوندھنا مَکرُوہ لکھا ہے ۔ فتاوٰی شامی میں  ہے : ’’مُـسْـتَـعْـمَـل پانی پینااوراس سے آٹا گوندھنا قولِ صحیح کے مطابق مَکْرُوْہہے  ۔ ‘‘(اَلدُّرُّالْمُخْتارمَع رَدُّ الْمُحْتار ج ۱ص۲۷۱دارالمعرفۃ بیروت)یہاں   مکروہ سے مراد مکروہِ تنزیہی ہے ۔

مُونچھیں   پست رکھئے !

اِس سے ان لوگوں   کو سَبَق حاصل کرناچاہیے جو بڑی بڑی مُونچھیں   رکھنے کے شوقین ہوتے ہیں  کہ یہ مُونچھیں   پانی کو چُھو کر مُـسْـتَـعـمَـل کر دیتی ہیں  جس کاپینا مَکرُوہ ہے ، ہاں   مُنہ دُھلا ہوا ہو یا وُضُو کیا ہو تو حَرَج نہیں   ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین و ملّت مولانا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے لَبوں   کے بال بڑھے شَخْص کے جُھوٹے کے بارے میں   سُوال کیاگیاتو اِرشاد فرمایا :  ’’اگر اِسے وُضو نہ تھااس حالت میں   اِس نے پانی پیااور لبوں   کے بال پانی کو لگے تو پانی مُـسْـتَـعْـمَـلہوگیا اور مُـسْـتَـعْـمَـلپانی کا پینا ہمارے اِمام اعظم (ابوحنیفہ) رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اَصل مَذْہَب میں   حرام ہے ، اِن کے نزدیک وہ پانی ناپاک ہوگیا، خود اس نے جوپیا ، ناپاک پیا اور اب جو پئے گا ناپاک پئے گا اور مَذْہَب مُفتیٰ بِہٖ پر مُـسْـتَـعْـمَـل پانی کا پینا مَکرُوہ ہے ۔  اس نے جو پیا مَکرُوہ پیا اور اب جو بَچا ہواپئے گا مَکرُ وہ پئے گا ۔  ہاں   اگر اسے وُضُو تھایا مُنہ دُھلا تھا تو شرعاً حَرَج نہیں   اگرچہ اس کی مُونچھوں   کا دھوون پینے سے قَلْب کراہَت کرے گا ۔ ‘‘(فتاوٰی رَضَوِیّہ مُخرّجہ ج ۲۲ص۶۰۶مرکزالاولیاء لاہور)

 

مُونچھیں   کس قَدْر ہو نی چا ہئیں  ؟

لہٰذا صُورت ِمذکورہ میں   بچنے کاطریقہ یہی ہے کہ مُونچھوں   کو پَست رکھا جائے کہ اَبرو کی مِثل ہوجائیں  اوراُوپروالے ہونٹ کے بالائی حصّہ سے نیچے نہ لٹکیں   ۔ جیساکہفتاوٰی عالمگیری میں   ہے  : ’’مُونچھوں   کو کم کرنا سُنَّت ہے اِتنی کم کرے کہ اَبرو کی مِثل ہوجائیں  (یعنی اِتنی کم ہوں   کہ اُوپر والے ہونٹ کے بالائی حصّہ سے نہ لٹکیں  )مُونچھوں   کے دونوں   کَناروں   کے بال بڑے بڑے ہوں   تو حَرَج نہیں   بعض سَلَف کی مُونچھیں   اس قسم کی تھیں   ۔         (اَلْفَتاوی الھِنْدِیّہ ج۵ص۳۵۸کوئٹہ)

فتاوٰی رضویہ میں   ہے  : ’’لبوں   کی نِسبت حکم یہ ہے کہ لَبیں   پَست کر و کہ نہ ہونے کے قریب ہوں   اَلْبَتَّہ مُنڈانانہ چاہیے ، اس میں   عُلماء کو اِختِلاف ہے ۔      (فتاوٰی رَضَوِیّہ ج ۲۲ص۶۰۶مرکزالاولیاء لاہور)

اَعْضائے وُضُو سے پانی کے قَطْرات مسجدمیں   نہ ٹپکائیں 

سُوال :           آپ کودیکھاگیاہے کہ وُضُوکرنے کے بعد چہرہ اور بازؤوں   کو ہاتھ ہی سے پُونچھ لیتے ہیں   نیزمسجد میں   داخِل ہونے سے پہلے پاؤں   کو بھی اپنی چادر کے ذریعے خشک کرلیتے ہیں  ، اس کے بارے میں   وضاحت فرما دیجئے  ۔

جواب :          وُضُوکرنے کے بعدچہرے اوربازؤوں   کو تَولیہ یا کپڑے وغیرہ سے صاف کرنے کی بجائے بسااوقات ہاتھ ہی سے صاف کرلیتاہوں   کہ قَطْرے ٹپکنا موقوف ہو ں   مگر تَری باقی رہے کیوں   کہ َاعْضائے وُضُو کی تَری بروزِ قِیامت نیکیوں   کے پَلڑے میں   رکھی جا ئے گی ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  نے وُضُو کے قَطْرات کو مسجد کے فرش پر ٹپکانا مَکرُوہِ تَحریمی لکھاہے ۔  پاؤں   کوچادرسے صاف کرکے اِس لئے مسجد میں   جاتا ہوں   تاکہ پانی کی تَری سے مسجد کا فَرش یادریاں   آلُودہ نہ ہوں  ۔ صَدْرُالشَّریعہ، بَدْرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں   : ’’ہر عُضْودھونے کے بعد اس پر ہا تھ پھیر کر بُوندیں   ٹپکادیں   کہ بَدَن یا کپڑے پر نہ ٹپکیں   خُصُوصاً جبکہ مسجد میں   جانا ہو کہ فرشِ مسجد پر وُضُو کے پانی کے قَطْرے گِرانا   مَکرُوہِ تَحریمی ہے  ۔ ‘‘ (بہارِشریعت حصّہ ۲ص۲۰مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

نیزفرماتے ہیں   : ’’اَعْضائے وُضُو بِلاضَرورت نہ پُو نچھے اور پُونچھے تو بے ضَرورت خشک نہ کر لے ۔ قَدْرے نَمی با قی رہنے دے کہ بروزِ قِیامت پلّۂ حَسَنات(یعنی نیکیوں   کے پَلڑے ) میں   رکھی جا ئے گی  ۔ ‘‘   (ایضاً ص۲۲)

ایک قابلِ توجُّہ بات!

 



[1]    نَجاستِ حَقیقِیّہ :  ایسی گندگی یاغلاظت کو کہتے ہیں جسے شرعاً گندا یاقابلِ نَفْرت سمجھاجاتاہو جیسے خون ، پیشاب وغیرہ، پھران میں سے جس کا حکم سخت ہو، اُسے ’’نَجاستِ غلیظہ‘‘ کہتے ہیں جیسے اِنسان اور حرام جانوروں کا پیشاب و پا خانہ اورجس کاحکم ہلکا ہو، اُسے ’’نَجاستِ خفیفہ ‘‘کہتے ہیں جیسے حلال جانوروں(بکری ، گائے  وغیرہ) کاپیشاب اوراُڑنے والے حرام پرندوں (چیل، کوّا وغیرہ)کی بیٹ وغیرہ ۔     

[2]     نَجا ستِ حُکْمِیّہ :  حَدَث کے پائے جانے کی وجہ سے اِنسان کے بعض اَعضاء یا پورے بَدَن میں جو ناپاکی سرایت کرجاتی ہے اسے ’’ نَجاستِ حُکمیہ‘‘ کہتے ہیں، یہ ناپاکی صرف مُطْلَق(یعنی اچّھے ) پانی ہی سے دُور ہوسکتی ہے  ۔ پھرجو ناپاکی وُضُو کرنے سے دُورہوجائے اسے ’’ حَدَثِ اَصغر‘‘ (جیسے ریح، پیشاب وغیرہ خارج ہونے کی صُورت میں)اورجو غُسْل کرنے سے دُورہواسے ’’حَدَثِ اَکبر ‘‘کہتے ہیں(جیسے اِحتلام، جماع، حیض و نفاس وغیرہ ہونے کی صُورت میں) ۔



Total Pages: 9

Go To