Book Name:Pani Kay Baray Main Aham Malomat

جواب :          میرے آقائے نعمت، اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولاناشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مُـسْـتَـعْـمَـل پانی کی تعریف یوں  اِرشاد فرماتے ہیں   : ’’مائے مُسْتَعْمَلوہ قلیل پانی (دَہ در دَہ یعنی سو ہاتھ /  پچیس گز  / دو سو پچیس فُٹ، (فتاویٰ مُصطَفَویہ ص۱۳۹) سے کم پانی) ہے جس نے یا تو تَطْہیرِ نَجاستِ حُکمیّہ سے ( یعنی نَجاستِ حُکمیہ کودُور کرکے ) کسی واجِب کو ساقِط (ادا)کیا یعنی اِنسان کے کسی ایسے پارۂ جِسْم (بدن کے حصہ) کو مَس کیا جس کی تَطْہیر(پاکی) وُضُو یا غُسْل سے بِالْفِعل لا زِم تھی یا ظاہر بَدَن پر اُس کا اِسْتِعْمال خود کارِ ثواب تھا اور اِستِعمال کرنے والے نے اپنے بَدَن پر اُسی اَمرِثواب کی نیّت سے اِستِعمال کیا اور یُوں   اسقاطِ واجِب تَطْہیریا اِقامت قُربت کر کے (یعنی وُضُو یا غُسْل کا واجِب اداہونے یا ثواب کی نیّت سے اِسْتِعْمال ہونے کے بعد جیسے وُضُو پروُضُو کرنا) عُضْو سے جُدا ہو اگرچِہ ہَنُوز (ابھی تک)کسی جگہ مُستَقَر(ٹھہرا) نہ ہو بلکہ رَوانی (بہاؤ) میں   ہے ۔ (فتاوٰی رَضَوِیّہ مُخَرَّجہ ، ج ۲ص۴۳)

’’مدینہ‘‘ کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے پانی کے مستعمل ہونے کی پانچ صُورتیں 

سُوال :           پانی کب مُـسْـتَـعْـمَـل  ہوتاہے ؟

جواب :          اِس کی کئی صُورَتیں   ہیں   :

(۱)     اگر بے وُضُوشَخْص کا ہاتھ یا اُنگلی یا پَورایا ناخُن یا بَدَن کا کوئی ٹکڑا جو وُضُو میں   دھویا جاتا ہو، بقَصْد یا بلا قَصْد(یعنی اِرادے سے یابغیراِرادہ) ، دَہ در دَہ سے کم پانی میں   بے دھوئے ہوئے پڑ جائے تو وہ پانی وُضُو اور غُسْل کے لائق نہ رہا ۔       (بَہَارِشَرِیعَت حصّہ ۲ص۵۵مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

(۲)     جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جِسْم کا کوئی بے دُھلاحصّہ پانی سے چُھو جائے تو وہ پانی وُضُو اور غُسْل کے کام کانہ رہا ۔  اگر دُھلا ہوا ہاتھ یا بَدَن کا کوئی حصّہ پڑ جائے تو حَرَج نہیں  ۔        (ایضاً)

 

(۳)    اگر ہاتھ دُھلا ہوا ہے مگر پھر دھونے کی نیّت سے ڈالا اور یہ دھونا ثواب کا کام ہوجیسے کھانے کے لئے یا   وُضُو کے لئے تو یہ پانی  مُـسْـتَـعْـمَـل ہو گیا یعنی وُضُو کے کام کا نہ رہا اوراس کو پِینا بھی مَکرُوہِ(تنزیہی) ہے ۔  (اَیضاً)

(۴)    چُلّو میں   پانی لینے کے بعد حَدَث ہوا (یعنی رِیح وغیرہ خارج ہوئی )وہ چُلّو والاپانی بے کار ہو گیا( وُضُو وغُسْل میں  ) کسی عُضْوْ کے دھونے میں   کام نہیں  آسکتا ۔    (بَہَارِشَرِیعَت حصّہ ۲ص۳۲مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

(۵)    مُـسْـتَـعْـمَـل پانی اگر اچّھے پانی میں  مِل جائے مَثَلاً وُضُو یا غُسْل کرتے وقت قَطْرے لوٹے یا گھڑے میں   ٹپکے ، تواگر اچّھا پانی زِیادہ ہے تویہ وُضُو اورغُسْل کے کام کا ہے وَرْنہ سب بے کار ہو گیا ۔     (اَیضاً ص۵۶ )

دَورانِ  وُضُو یاغُسْل رِیح خارج ہوجائے تو کیا کیاجائے ؟

سُوال :           اگر دَورانِ وُضُو یاغُسْل رِیح خارج ہوجائے تو کیاسارے اَعْضاء پِھرسے دھونے ہوں   گے ؟

جواب :            اگر کوئی وُضُو کررہا ہو اور رِیح خارج ہوجائے توپہلے دُھلے ہوئے اَعْضائے وُضُو بے دُھلے ہوگئے لہٰذانئے سِرے سے وُضُوکرے  ۔

صَدْرُالشَّرِیعہ، بَدْرُالطَّرِیقہحضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں   : ’’درمیانِ وُضُو میں  اگررِیح خارِج ہویاکوئی ایسی بات ہو جس سے وُضُو جاتا ہے تو نئے سِرے سے پِھر وُضُو کرے وہ پہلے دُھلے ہوئے بے دُھلے ہوگئے ۔ (بہارِشریعت حصّہ ۲ص۳۲مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

مَعْذورِ شرعی کے بارے میں   حکم

مَعْذور شرعی اس حکم سے مُسْتَثْنٰیہے یعنی دَورانِ وُضُو رِیح کے مَریض کی رِیح خارج ہوگئی یا (پیشاب کے )قَطْرے کے مریض کو قَطْرہ آگیا تواس کے اَعْضاء بے دُھلے نہ ہوں   گے بلکہ صِرف اِنہی اَعْضاء کودھوناہو گاجو باقی رہ گئے تھے ۔

علّامہ ابنِ عابِدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں   : ’’ طَہارَت کے دَوران ناقِضِ وُضُونہ پایاجائے جب کہ وہ شَخْص مَعْذورنہ ہو ۔ (یعنی وُضُو کرتے وقت ، وُضُو توڑنے والی چیز کے نہ پائے جانے کا حکم اُس شَخْص کے بارے میں   ہے جسے عُذْرِشرعی جیسے رِیح یا قَطْرہ آنے کامَرَض وغیرہ لاحِق نہ ہو)(رَدُّالْمُحْتَارج۱ص۲۰۳دارالمعرفۃ بیروت)

ہاں   دَورانِ غُسْل اگر رِیح خارِج ہوئی تو صِرْف اَعْضائے وُضُو بے دُھلے ہوں   گے باقی جو بَدَن دُھل چُکاہے وہ بے دُھلا نہ ہوگا ۔

مُسْتَعْمَل پانی کووُضُو و غُسْل کے قابِل بنانے کا طریقہ

سُوال :           مُـسْـتَـعْـمَـل پانی کو وُضُو اورغُسْل کے قابِل بنانے کا طریقہ بھی بیان فرمادیجئے  ۔

جواب :            اِس کا ایک طریقہ یہ ہے کہمُـسْـتَـعْـمَـلپانی میں   مُطْلَق پانی (یعنی اچّھا پانی) اس سے زِیادہ  مِقْدار میں   مِلادیں   تو سارا پانی اچّھا ہو جائے گا ۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پانی ایک طرف سے اس طرح داخِل کیاجائے کہ دوسری طرف سے بہ جائے توپانی مَحض جاری کرنے سے کام کا ہو جائے گا  ۔

          صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ



Total Pages: 9

Go To