Book Name:Muqaddas Tahrirat kay Adab kay Baray Main Sawal jawab?

وہ مُعزَّز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر           اورہم خوار ہوئے تارِکِ قراٰں ہوکر

آنکھوں کا قُفْلِ مدینہ

بیان کیاجاتاہے کہ حضرتِ سیِّدُناحَسّان بِن اَبی سِنان علیہ رَحْمَۃُ الحَنّان نَمازِ عید کے لئے گئے ۔  جب واپَس گھر تشریف لائے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی اَہلِیہ کہنے لگی  : آج آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کتنی عورَتیں دیکھیں ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خاموش رہے ، جب اُس نے زیادہ اِصرار کیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :  گھر سے نکلنے سے لے کر، تمہارے پاس واپَس آنے تک میں اپنے ( پاؤں کے ) اَنگوٹھوں کی طرف دیکھتا رہا  ۔ (کتابُ الْوَرَع مَعَہٗ موسُوعَہ امام اِبْنِ اَبِی الدُّنیا ، ج ۱، ص۲۰۵ المکتبۃ العصریۃ بیروت)  اَفسوس !آج اکثرلوگوں کی آنکھیں ، نامَحرَم عَورتوں ، اَمْرَدوں اوربے حیائی کے اِیمان سوز مَناظِر دیکھنے میں کس قَدْر بے باک ہیں  ۔ کاش ! شرم و حیاکی دولت نصیب ہو جائے ؟

یاالٰہی !جب بَہیں آنکھیں حِسابِ جُرْم میں                  ان تبسُّم رِیز ہونٹوں کی دُعا کاساتھ ہو

یاالٰہی! رنگ لائیں جب مِری بے باکیاں                                 ان کی نیچی نیچی نَظَروں کی حَیا کاساتھ ہو

(حَدَائِقِ بَخْشش شریف)

بَدْنِگاہی کاعبرت ناک اَنجام

یا د رکھئے !حُجَّۃُ الاسلام امام محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی مُکاشَفَۃُ الْقُلُوْبمیں نَقْل فرماتے ہیں کہ جس نے اپنی آنکھ کونَظَرِ حرام سے پُر کیا، بروزِقیامت اس کی آنکھ میں آگ بھردی جائے گی ۔ ‘‘(مُـکَاشَفَۃُ الْـقُـلُـوب ص۱۰دارالکتب العلمیۃ بیروت)

حدیثِ پاک میں ہے : ’’ فَالْعَیْنَانِ زِنَاھُمَاالنَّظَرُ‘‘ ۔ یعنی آنکھیں بھی زِناکرتی ہے اور آنکھوں کا زِنا نظر(یعنی حرا م چیزوں کی طرف دیکھنا) ہے ۔ (صَحِیْح مُسْلِم ص۱۴۲۸حدیث۲۶۵۷دارابن حزم بیروت)

حُـجَّـۃُ الْاسْـلام سَیِّدُناامام محمد غَزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی  فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنایحییٰ بن زَکَرِیّا عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے لوگوں نے دَرْیافت کیا : زِناکی ابتِداکہاں سے ہوتی ہے ؟فرمایا : ’’آنکھ اور شَہْوَت سے ۔ ‘‘   (کِیْمِیَائے سَعَادَت ج۲ص۵۵۵ انتشارات گنجینہ تہران)

اِیمان کی حَلاوت

مگر جو خوش نصیب حرام کا موں سے اپنی نِگاہوں کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے اللّٰہُ قُدُّوْسعَزَّوَجَلَّاس کے دِل میں اِیمان کی حَلاوت یعنی مِٹھاس عطا فرماتا ہے ، چُنانچِہاللّٰہ کے مَحْبُوب، دَانائے غُیُوب ، مُنَزَّہٌ عن العُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ حَلاوت نِشان ہے  : ’’نَظَرشیطان کے تِیروں میں سے  زہر میں بُجھاہوا ایک تیر ہے ، پس جو شخص میرے خوف سے اِسے ترک کردے تو میں اسے ایک ایسا اِیمان عطاکروں گاجس کی حَلاوت یعنی مِٹھاس وہ اپنے دل میں پائے گا ۔ (اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْرج۱۰ص۱۷۳حدیث ۱۰۳۶۲داراحیاء التراث العربی بیروت)

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے سُنَّتوں کی تربِیَّت کے مَدَنی قافلوں کی بَرَکت سے بھی بسا اَوقات بَدْنِگاہی وآوارہ گردی اور گناہوں بھری زندگی سے نَجات مل جاتی ہے اوربارہا دیکھا جاتا ہے کہ بِفضْلِہٖ تعالیٰ مُعاشرے کا بَدْتَرین فَرْد ، باحیااورسُنَّتوں کا پیکر بن کر اپنوں اور بَیْگانوں کی آنکھوں کاتارا بن جاتاہے ، چُنانچِہ

گناہوں پر جَری نَو جوان سُنتّوں کاآئینہ دار بن گیا

شالیمار ٹاؤن (مرکزالاولیاء لاہور) کے ایک اِسلامی بھائی کا کچھ یوں بیان ہے : مَیں بے حد بگڑا ہوا اِنسان تھا، فلموں ڈِراموں کا رَسیا  ہونے کے ساتھ ساتھ جَوان لڑکیوں کے ساتھ چھیڑخانیاں ، اَوباش نَوجوانوں کے ساتھ دوستیاں ، رات گئے تک اِن کے ساتھ آوارہ گردیاں وغَیرہ میرے مَعمولات تھے ۔  میری حَرَکاتِ بد کے باعِث خاندان والے بھی مجھ سے کَتراتے ، اپنے گھروں میں میری آمد سے گھبراتے نیز اپنی اَولاد کو میری صُحبت سے بچاتے تھے ۔  میری گناہوں بھری خَزاں رسیدہ شام کے صُبحِ بہاراں بننے کی سبیل یوں ہوئی کہ ایک دعوتِ اسلامی والے عاشقِ رَسول کی مجھ پر مِیٹھی نَظَر پڑ گئی اُس



Total Pages: 12

Go To