Book Name:Muqaddas Tahrirat kay Adab kay Baray Main Sawal jawab?

لہٰذاایسے پائیدان (DOOR MAT) بھی دروازے کے باہَرنہ رکھے جائیں جن پرعَرَبی حُرُوفِ تَہَجِّی میں کچھ لکھاہو ۔ اسی طرح  جوتی چَپّل پر بھی کمپنی وغیرہ کا نام لکھاہو تو اِستِعمال سے قَبْل اسے مِٹادیاجائے ۔ یوں ہی مُصَلّے ، پلاسٹک کی چٹائی، لِحاف و تولیہ وغیرہ پر بھی عَرَبی حُرُوفِ تَہَجِّیمیں کمپنی کے نام کی چِٹ لگی ہو تو ایسی چِٹ بھی جُدا کر کے ٹھنڈی کردی جائے ۔  چادریں ، قالین، ڈیکوریشن کی دَرْیاں ، تکیہ یا گدیلا  اَلْغَرَضجس چیزپر بھی بیٹھنے یا پاؤں رکھنے کی ضَرورت پڑتی ہو اُس پر کچھ نہ لکھا جائے ، نہ ہی چَھپی ہوئی چِٹ سِلائی کی جائے ۔  کاش! کمپنیوں والے ہمیں اِمتحان میں نہ ڈالیں اور بَہَارِشَرِیْعَت کے مُتَذَکَّرَہ بالا فِقْہِی جُزْئِیّہ (جُزْ ۔ ئِ یْ ۔  یَہ) پرغَور کرتے ہوئے اس مُعامَلے میں اِحتِیاط فرمائیں  ۔

میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!آپ بھی کہیں کچھ لکھاہواپائیں ، اس کا اَدَب بَجالاتے ہوئے اُس چیز پر بیٹھیں ، نہ پاؤں رکھیں اوربے اَدَبی کا اَندیشہ ہو توان چیزوں کے اِستِعمال ہی سے گُریز فرمائیں  ۔

سڑکوں پربِکھرے ہوئے کاغذات کاحُکْم

سُوال :       آپ کا فرمان بجا ، مگر ایک دَسْتَرخوان یا بچھونے وغیرہ ہی کامَسئَلہ نہیں آج کل تو ہرچیز پر کچھ نہ کچھ لکھا ہوتا ہے ، تَحریرات اور اَخباری کاغذات کوبے دَردی کے ساتھ قَدموں تَلے رَوندا جاتا ہے ۔  اِن حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟

جواب :       واقِعی فی زمانہ حالات ناگُفْتَہ بِہہیں ان کوبیان کرتے ہوئے دِل خُون کے آنسو رو رہا ہے ، اَفسوس صدکروڑ اَفسوس ! اَخبارات اور دِیگر لکھائی والے کاغذات کے ساتھ ساتھ مُقَدَّس کلِمات والے  کاغذات و اَخبارات بھی جا بجا سڑکوں پربِکھرے دِکھائی دیتے ہیں ۔ اوریہ اَلَمناک داستان اِسی پربس نہیں بلکہ یہ اَخبارات و کاغذات بے اَدبیوں کے مختلف مَراحِل مَثَلاًگھر کے کچرا دان، گلیوں میں قَدَموں تَلے رَوندے جانے ، گندگیوں اور طرح طرح کی آلودگیوں سے دو چار ہونے کے بعد بالآخر کچرا کُونڈی کی نَذْر ہو جاتے ہیں  ۔

راہ چلتے مُقَدَّس کاغذات کوپاؤں

سے ٹھوکر مت مارئیے !

بعض لوگوں کی یہ عادَت ہوتی ہے کہ چلتے چلتے راہ میں پڑی ہوئی ہر چیز کو لاتیں مارتے رہتے ہیں اِسی ضمْن میں لکھائی والے خالی ڈِبّوں ، اَخبارات اور کاغذات وغیرہ کوبھی مَعاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّلاتیں مارتے ہیں  ۔ کاش!اِس طرح لاتیں مارنے ، اِدھر اُدھر پھینکنے ، اَخبارات یا تحریرات والے کاغذات سے مَیز یا برتن وغیرہ صاف کرنے ، ہاتھ پُونچھنے ، اِن پر پاؤں رکھنے نیز اَخبارات وغیرہ بچھا کر اِس کے اُوپر بیٹھنے کے بجائے تَحریرات والے کاغذات اور گتّے وغیرہ اُٹھا کر اَدَب کی جگہ رکھے جائیں یا ٹھنڈے کردیئے جائیں  ۔

قَلَم کے تراشے کااَدَب

بَہَارِشَرِیعَت میں تو یہاں تک لکھاہے کہ نئے قَلَم کا تَراشہ( یعنی چِھیلَن)تو اِدھر اُدھر پھینک سکتے ہیں مگر مُسْتَعْمَل( یعنی اِستِعمال شُدہ) قَلَم کا تَراشہ ایسی جگہ نہ پھینکا جائے کہ اِحتِرام کے خِلاف ہو ۔ ( جب تَراشہ کااحتِرام ہے تو خود  مُسْتَعْمَل قَلَم کا کتنا احتِرام ہو گا یہ ہر ذِی شُعُور سمجھ سکتا ہے )نیز جس کاغذ پر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا نام لکھا ہو اُس میں کوئی چیز رکھنا مَکْرُوہ ہے اور تھیلی پر اَسمائے الہٰی عَزَّوَجَلَّلکھے ہوں اس میں روپیہ پیسہ رکھنا مَکْرُوہ نہیں ۔ کھانے کے بعد اُنگلیوں کو کاغذسے پُونچھنا مَکْرُوہ ہے ۔ (بَہَارِشَرِیعت حصّہ۱۶ص۱۳۹مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

کا غذاگرچہ سادہ ہواس کا اَدَب بَہَرصُورت کیاجائے گا، کیوں نہ ہو کہ اِس پر قراٰن و حدیث اور اِسلامی باتیں لکھی جاتی ہیں ۔ چُنانچِہ بَہَارِشَرِیعَت میں ہے : ’’کاغذ سے اِستِنجاء مَنع ہے اگر چِہ اُس پر کچھ بھی نہ لکھا ہو یا ابوجَہْل ایسے کافِر کا نام لکھا ہو ۔

(بَہَارِشَرِیعَت حصّہ۲ص۱۳۳مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

 



Total Pages: 12

Go To