Book Name:Muqaddas Tahrirat kay Adab kay Baray Main Sawal jawab?

، اپنے گھر کی قریبی مسجِد ہی میں اعتِکا ف کا اِرادہ تھا کہ ایک اسلامی بھائی سے ملاقات ہو گئی ۔ اُن کی انفِرادی کوشِش کے نتیجے میں تبلیغِ قراٰن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہونے والے اجتِماعی اعتِکاف میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ مُعتَکِف ہو گیا ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اجتِماعی اِعتِکاف کی برکتوں کے کیا کہنے !میں گنہگار کلین شیو اور پینٹ شرٹ میں کسا کسایا گیا تھا مگرتربِیّتی حلقوں ، سُنَّتوں بھرے بیانوں اور عاشِقانِ رَسول کی صُحبتوں نے وہ مَدَنی رنگ چڑھا یا کہ ہاتھوں ہاتھ داڑھی بڑھانی شروع کر دی، عِمامہ شریف کا تاج سر پر سَجا لیا اور چاند رات کو خوب رو رو کر گناہوں سے تَوبہ کرنے کے بعد گھر جانے کے بجائے ہاتھوں ہاتھ سُنَّتوں کی تربیّت کے تین دن کے مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سفر پر روانہ ہو گیا ۔  میں نے عید کے تینوں دن راہِ خدا عَزَّوَجَلَّمیں عاشِقانِ رسول کے ساتھ گزارے ۔  خُدا کی قسم!  یہ میری زندَگی کی سب سے پہلی عید تھی جو بَہُت اچّھی گزری ۔  واپَسی پر گھر آکر امّی جان کے قدَموں سے لپٹ گیا اور اس قدر رویا کہ ہچکیاں بندھ گئیں اور مَیں بے ہوش ہوگیا ۔  کم و بیش آدھے گھنٹے کے بعد جب ہوش آیا تو سارے گھر والے مجھے گھیرے ہوئے تھے اور تصویرِ حیرت بنے ایک دوسرے کا مُنہ تک رہے تھے کہ اسے کیا ہو گیا ہے !اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّگھر میں بَہُت اچّھی ترکیب بن گئی ۔ تادمِ تحریر تنظیمی طور پر عَلاقائی مُشاوَرت کا نگران ہوں  ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ یہ الفاظ لکھتے وقت عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں تربیّتی کورس کرنے کی سعادت حاصِل کرلینے کے بعد مزید 126دن کے ’’اِمامت کورس‘‘کا سلسلہ جاری ہے ۔ دُعائے استِقامت کا مُلْتَجِی ہوں  ۔

بگڑے اَخْلاق سارے سنور جائیں گے ، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اِعتِکاف

بس مزہ کیا مزے کو مزے آئیں گے ، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اِعْتِکاف

(فَیْضَانِ سُنّت جلد اوّل ص۱۴۶۶مکتبۃالمدینہ بابُ المدینہ کراچی)

عورَت کیلئے غَیرمَرْد کا جُھوٹاکھاناپیناکیسا؟

سُوال :       عورَت غیر مَرْد کا  جُھوٹاکھاپی سکتی ہے یانہیں ؟

جواب :       عورَتاگرلذَّتِ شَہَوت کے سَبَب کھائے پئے گی تو گنہگار ہوگی اِسی طرح مَرد بھی عورَت کا جُھوٹا لَذّت کے ساتھ نہیں کھا پی سکتا ۔  چُنانچِہاَلنَّھْرُ الْفَائِقمیں مُجْتَبٰی کے حوالے سے ہے : عَورَت کا  جُھوٹا غیر مَرد کے لئے اور مَرد کا  جُھوٹاغیرعورَت کے لئے پینامَکرُوہ ہے اِس وجہ سے نہیں کہ وہ جُھوٹاپاک نہیں بلکہ اِس لَذَّت کی وجہ سے جو پینے والے کودوسرے سے حاصِل ہوتی ہے ۔ ‘‘(اَلنَّھْرُالْفَائِق ج۱ص۹۲بابُ المدینہ کراچی)

حَُجَّۃُ الاسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں  : ’’ جس کوزے سے کسی غیر عورَت نے پانی پِیاہے تو قصداًاُس جگہ سے مُنہ لگاکرپانی پِیناجہاں اِس عورَت نے مُنہ لگایا تھا دُرُسْت نہیں ہے ۔  اِسی طرح کسی پَھل پرجہاں کسی عورَت کا دانت لگاہو اُس کا کھانا بھی رَوانہیں ہے  ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابو ایُّوب اَنصاری رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کی زَوجۂ مُحتَرمہ رضی ا للہ تعالیٰ عنہا  اور آپ رضی ا للہ تعالیٰ عنہ کے بچے اس پیالے کوجس سے نبی ٔ پاک ، صاحبِ لَوْلاک، سیَّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا پاک دَہَن(مُنہ مُبارَک) اور اُنگلیا ں لگی ہوتی تھیں ، تَبَرُّک کے طُور پراپنی اُنگلیوں سے مَس کرتے تھے تاکہ ثواب حاصِل ہو  ۔ (کِیْمِیَائے سَعَادَت ج۲ص۵۶۰ انتشارات گنجینہ تہران)

عورَت کیلئے اپنے مُرشِد کا جُھوٹاکھانا پینا کیسا؟

سُوال :       توکیاعورَت اپنے پیرومُرشِد کا جُھوٹابھی نہ کھائے پیئے ؟

جواب :       بُزرُگوں کاجُھوٹا تَبَرُّکاً کھانے یا پینے میں مُضایَقہ نہیں ۔  صَدْرُالشَّرِیعہ، بَدْرُالطَّرِیقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی   علیہ رحمۃ اللہ القوی جُھوٹاکھانے پینے کے بارے میں تَفْصِیل سے فرماتے ہیں  : ’’مَرد کو غیر عورَت کا اور عورَت کو غیر مرد کا جُھوٹا اگر معلوم ہو کہ فُلانی یا فُلاں کا  جُھوٹا ہے بطورِ لَذَّت کھانا پینا مَکرُوہ ہے مگر اس کھانے ، پانی میں کوئی کراہَت نہیں آئی اور اگر معلوم نہ ہو کہ کِس کا ہے یا لَذَّت کے طور پرکھایا پیا نہ گیا تو کوئی حَرَج نہیں بلکہ بعض صُورَتوں میں بہتر ہے جیسے با شَرع عالِم یا دِیندار پیر کا جُھوٹا کہ اسے تَبَرُّک جان کر لوگ کھاتے پیتے ہیں  ۔ ‘‘(بَہَارِشَرِیعت حصّہ ۲ص۶۳مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

 



Total Pages: 12

Go To