Book Name:Muqaddas Tahrirat kay Adab kay Baray Main Sawal jawab?

خَوف نے اِن کا جِگرٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے ۔ ‘‘(شُعَبُ الْاِیْمَان ج۱ص۵۳۰حدیث ۹۳۶دارالکتب العلمیۃ بیروت)

سیِّدُناغوث ِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا خوف ِ خُدا  عَزَّوَجَلَّ

حضرتِ سیِّدُناشیخ شَرْفُ الدِّین سَعْدِی شیرازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدُالقادِر جیلانی قُدِّس سِرُّہٗ النُّورانی کو حَرَمِ کعبہ میں دیکھا گیاکہ کنکریوں پرسر رکھے بارگاہِ ربّ العزّت عَزَّوَجَلَّ میں عرْض گزار ہیں  : ’’اے خُداوندِ کریم عَزَّوَجَلَّ !مجھے بخش دے اور اگرمیں سزاکاحَقْدار ہوں تو بروزِ قِیامت مجھے اَندھا اُٹھاناتاکہ نیکوکارلوگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہوں  ۔ ‘‘(گُلِسْتَان ِ سَعْدِی ص۵۴ انتشارات عالمگیر ایران )

 اللّٰہ ربّ العزّت عزَّوجلَّ کی ان پررحمت ہواوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو

دِل ہائے گناہوـں سے بیزار نہیں ہوتا                       مَغْلوب شَہا!نفس بَدْکار نہیں ہوتا

اے ربّ کے حبیب آؤ!اے میرے طبیب آؤ                اچھا یہ گناہوں کا بیمار نہیں ہوتا

گولاکھ کروں کو شش اِصلاح نہیں ہو تی                      پاکیزہ گناہوں سے کِردار نہیں ہوتا

یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے

                       غفلت سے مگر اب بھی بیدار نہیں ہوتا(اَرْمُغَانِِ مَدِیْنَہ)

خوف ِخُداعَزَّوَجَلَّ سے لرزنے اوررونے کی فضیلت

سُوال :       اللّٰہُ غَفُور عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے رونے کی کیافضیلت ہے ؟

جواب :       خوف خُدا  عَزَّوَجَلَّ سے رونے اورلرزنے والوں کے گناہ مُعاف کر دیئے جاتے اوراِنہیں داخلِ جنّت کیا جاتاہے ۔  بِلاشُبہ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ ایک ایسی چیز ہے جوبندے کوگناہوں سے روک کرنیکیوں کی راہ پرگامزن کرتی ہے ۔

اِمامُ الْعابِدین، سلطانُ السّاجِدین ، سیِّدُ الصّالِحین، سیِّدُ الْمُرْسَلِیْن،   جنابِ رحمۃٌ  لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ خُوشبودار ہے : ’’جب بندہ خوفِ الٰہی   عَزَّوَجَلَّ  سے کا نپتا ہے  تو اس کے گناہ اس کے بدن سے اس طرح جَھڑجا تے ہیں جیسے درَخْت کو ہلانے سے اس کے پتّے جَھڑجاتے ہیں  ۔ ‘‘(شُعَبُ الْاِیْمَان ج۱ص۴۹۱حدیث ۸۰۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

اِسی طرح شَہَنْشَاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحِب ِجُودو نَوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال، محبوبِ ذُوالجلال  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ مَغْفِرت نِشان ہے  : ’’جو شخص خَوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے روتا ہے وہ  ہر گز جہنَّم میں داخِل نہیں ہو گا جس طرح دُودھ دوبارہ  تھنوں میں واپَس نہیں جاتا ۔ (مُصَنَّفْ اِبْنِ اَبِی شَیْبَۃ ج۴ص۵۷۰حدیث ۶۲دارالفکربیروت)

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ دعوت ِاسلامی کے مَدَنی ماحول میں ہونے والے رَمَضَانُ المُبَارَک کے اِجتماعی تربیَّتی اِعتِکاف کی بَرَکت سے بھی کئی گناہوں بھری زِندَگی گزارنے والوں کوجب خَوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ نصیب ہوتاہے اورقبروآخرت سُنوارنے کاذِہن ملتاہے توان کی زِندَگی کااَنداز یکسر بَدَل جاتاہے ۔  وہ بُرے ماحول سے تائب ہوکردعوتِ اسلامی کا مُشکبار مَدَنی ماحول اپنالیتے ہیں اورسُنَّتوں کی دھوم مچاتے ہوئے قبروآخِرت کی تیاّری میں مَشْغُول ہوجاتے ہیں ، چُنانچِہ

خودکُشی کی کوشِش کرنے والانوجوان

تحصیل شُجاع آباد ضِلع ملتان(حال مقیم بابُ المدینہ کراچی) کے ایک اِسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے :  ’’ میں والِدَین کا مَعَاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاِنتِہائی دَرَجہ کا گستاخ تھا، کِرکِٹ اوربِلیرڈ  کھیلنے میں دن برباد کرتا اور رات وِڈیوسینٹر کی زینت بنتا ۔  ماہِ رَمَضَانُ المُبَارَک میں ماں باپ سے میں نے بَہُت زیادہ لڑائی کی یہاں تک کہ گھر میں توڑ پھوڑ مچا دی! اپنی گناہوں بھری زندگی سے خود بھی بیزار تھا، غضَب کا جذباتی تھا اسی لئے مَعاذَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّکئی بار خودکُشی کرنے کی سعی کی مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّناکامی ہوئی ۔ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کے کرم سے مجھ گنہگار کورَمَضَانُ المُبَارَک کے آخِری عشرہ میں اعتِکاف کا شوق پیدا ہوا



Total Pages: 12

Go To